ملازمت کس طرح بچائیں؟


پاکستان میں پرائیویٹائزیشن کاعمل نوازشریف کے دورحکومت میں شروع ہواجوآج تک جاری  ہے ۔UBL,PTCL, KESC وغیرہ کی نجکاری مکمل ہوچکی  ہےجبکہ کئی اہم اداروں کی نج کاری مستقبل قریب میں متوقع ہے۔ملک کے لیے نج کاری کاعمل بہترہے یانہیں یہ ایک الگ موضوع ہے۔اصل بحث یہ ہے کہ اس نج کاری کا سب سے زیادہ نقصان کسے ہورہا ہے۔ بلاشبہ اس کا سب سے بڑا شکار سرکاری ملازمین ہیں۔ یہ نجکاری کئی ملازمین کی لگی بندھی روزی کو چھیننے کا سبب بن رہی ہے۔ لیکن اس کی کئی وجوہات میں ایک بڑا سبب سرکاری ملازمین کا اپنارویہ ہے۔ کسی سرکاری ادارے میں آپ جائیں توآپ دیکھیں گے کہ اگرمتعلقہ ملازم صبح دس بجے بھی تشریف لے آئیں تویہ ان کااحسان ہوگااس کے بعدموصوف ایک کپ چائے پئیں گے اورسگریٹ سلگاکرکرسی پربراجمان ہوجائیں گے۔ اگر کوئی کسٹمران کی تنہائی میں مخل ہو توان کی پوری کوشش ہوگی کہ اسے کسی دوسرے صاحب کے پاس بھیج کرجان چھڑالیں۔اگریہ کوشش ناکام ہوجائے توپھردوتین اوپرنیچے کے چکرلگواکراوسان خطاکرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان سب ہتھکنڈوں کے باوجوداگر وہ سرپرسواررہے تواسے کل بلائیں گے یاپھراگرموصوف ’’رحم دل‘‘واقع ہوئے ہیں توآپ کاکام کردیں گے۔
یہ ہمارے سرکاری اداروں میں ملازمین کاعمومی رویہ ہے البتہ اقلیت میں موجود اچھے لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ پرائیویٹائزیشن ان ملازمین کونکیل ڈالنے کاعمل ہے۔نجی ادارے  کام چور ملازمین کو نکالنے میں دیر نہیں کرتے چنانچہ ان اداروں میں اچھی کارکردگی دکھائے بنا بقا مشکل ہوتی ہے۔

چند  ملازمین کی کام چوری کی سزا سب کو ملتی ہے اور نتیجے کے طور پر نج کاری، ڈائون سائزنگ اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان ایک  ہمدرد انسان بھی ہوتا ہے  چنانچہ وہ محض فرائض ہی پورے نہیں کرتا بلکہ احسان کارویہ اختیارکرنے کی کوشش کرتا ہے۔مقررہ وقت پر دفتر آنااورجانا،دیانتداری سے  کام کرنا، اپنے کلائنٹس سے اچھابرتاؤ، لوگوں کے مسائل کو اپنا سمجھنا وغیرہ وہ فرائض ہیں جن سے وہ اپنی روزی حلال کرتا اوردنیا و آخرت میں سرخرو ہوتا ہے۔
ہم  سب جانتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس کام چوری اور بددیانتی کی وجہ سے اس دنیامیں ہم پرعذاب مسلط ہے جس کی علامتیں روزی میں بے برکتی, ڈاؤن سائزنگ،مراعات سے محرومی،اورملازمت سے نکالے جانے کاخوف ہیں جبکہ آخرت کاعذاب شدید تربھی ہے اورابدی بھی۔آج آپ اپنے حصے کا فرض ادا کردیجئے ، کل آپ کو بحیثِت کلائنٹ اچھی خدمات ملیں گی۔

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by Talib hussain qamri on 15/09/2011 at 2:49 شام

    بھت اچھا مشورہ ھے سر.
    طالب حسین قمری
    لودھراں.
    03017724403

    جواب دیں

  2. Posted by seemab qadeer on 09/06/2011 at 9:45 صبح

    What a technique you adopt in your articles that everything is connected with ones actions in this world and hereafter. If one is a believer of one God n does good deeds in spite of the difficulties he faces he will be rewarded partly here n more hereafter which never end.You r absolutely right when u mentioned that it is because of our actions that we r facing these problem unless n until corrected no solution is possible.

    جواب دیں

  3. بہت شکریہ سر ، میں امید کرتا ہوں کہ کچھ سرکاری ملازمین اسکو پڑھ کر کچھ سبق سیکھیں۔

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s