سرفراز کا قتل اور انصاف کے تقاضے


سات جون ۲۰۱۱ کو ایک اٹھا رہ سالہ نوجوان سرفراز رینجرز کے ہاتھوں ماردیا گیا۔رینجرز اور پولیس نے ابتدائی بیانات میں اسے ڈاکو قرار دیا ۔ تفصیلات کے مطابق پہلی ایف آئی آر افسر خان نامی شخص کی جانب سے درج کی گئی جس نے یہ گواہی دی کہ نوجوان سرفراز احمد شاہ نے ایک شخص عالم زیب اور اس کی بیوی کو پستول نکال کر دھمکی دی اور کہا کہ جو کچھ بھی ہے وہ نکال دو۔ اسی دوران رینجرز کے اہل کا ر وہاں پہنچ گئے ، انہیں دیکھ کر سرفراز نے پستول سے فائر کھول دیا اور رینجرز نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس سے نوجوان زخمی ہوگیا۔ بعد میں وہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے اور شاید یہی رخ درست تسلیم کرلیا جاتا لیکن قدرت کوکچھ اور منظور تھا۔ اسی بے نظیر بھٹو پارک میں ایک نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین ایاز سومرو بھی موجود تھے جو وہاں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کررہے تھے ۔ انہوں نے جب شور کی آواز سنی تو کیمرے کا رخ ادھر موڑ دیا۔ کیمرے کی آنکھ نے جو محفوظ کیا وہ یہ تھا کہ ایک شخص نے سرفراز کے بال پکڑے ہوئے ہیں اور وہ اس کے منہ کو بری طرح نوچ رہاہے اس کے بعد وہ اس نوجوان کو رینجرز کے اہل کاروں کے سپرد کردیتا ہے۔ وہ سب اس پر بندوق تان لیتے ہیں۔ سرفراز روتا ہوا ان میں سے ایک شخص کی بندوق پکڑتا ہے اور رحم کی اپیل کرتا ہے۔ لیکن وہ اہل کار اس اپیل کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلتے ہیں اور ان میں سے ایک سپاہی سرفراز پر فائر کرتا ہے جس سے وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ اس دوران سرفراز چیختا ، چلاتا اور خون میں لت پت ہوکر ان سے اسپتال پہنچانے کی اپیل کرتا ہے لیکن رینجرز کے اہل کار یونہی کھڑے اسے تڑپتا دیکھتے رہتے ہیں۔ بالآخر سرفراز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اوندھے منہ گر پڑتا ہے۔
اس وقت پورے ملک میں اس واقعے پر بحث ہورہی ہے اور پاکستانی عوام اس سنگدلانہ اقدا م کی مذمت کرتے ہوئے سرفراز کی موت پر غم زدہ ہے۔ یہ کیس ملک کی سپریم عدالت میں بھی چل رہا ہے اور عدالت ویڈیو کے برخلاف کوئی بھی بیا ن سننے کے موڈ میں نہیں۔اب رینجرز والے لاکھ یہ کہہ لیں کہ یہ شخص ڈاکو تھا اور مقابلے میں مارا گیا لیکن حقیقت تو وہ ہے جو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ ہوچکی۔ عوام اس امید سے ہیں کہ انصاف ہوگا اور مجرم اپنے انجام تک پہنچ جائیں گے۔
لیکن یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جبکہ تیسرا پہلو نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اگر قاتل کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو کیا وہ مجرم بھی اسی اذیت سے گذرے گا جس سے سرفراز اور اس کے اہل خانہ گذرے؟ کیاسرفراز شاہ کو ہونے والے درد اور اذیت کا مداوا ہوجائے گا؟ کیا اس کی ماں کو اس کا بیٹا مل جائے گا؟ کیا سرفراز شاہ کے مستقبل کے سپنے پورے ہوجائیں گے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے ہنسی خوشی زندگی گذارنے لگے گا؟۔ یقینی طور پر ان میں سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس مطلب یہ نہیں کہ مجرم کو سزا نہ دی جائے۔ مجرم کو قانون کے مطابق سزا ضرور دی جائے لیکن ایک لمحے کے لئے غور کریں کہ انسان کا بنایا ہوا انصاف کا نظام کس قدر ناقص، ادھورا اور بودا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضے مکمل طور پر پورے کرنے سے قاصر ہے۔
عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مجرم کو اس دنیا میں ادھوری سزا ملنے کے بعد ایک ایسی جگہ بھی ہو جہاں اسے مکمل سزا ملے ، جہاں وہ اسی اذیت سے گذرے جس سے اس نے دوسرے کو گذارا تھا۔ اس کو مقتول کا مستقبل تباہ کرنے، ماں باپ کو اذیت پہنچانے اور اہل خانہ کو ہر لمحے نفسیاتی خوف میں مبتلا کرنےکے جرم میں وہ کامل ترین اذیت دی جائے جو اس نے دوسروں کو پہنچائی۔ اسی طرح سرفراز اور اس کے لواحقین کو اتنی نعمتیں اور تاوان مل جائے جس سے ان کے ہونے والے نقصان کا مداوا ہواجائے اور ان کا غم ابدی خوشی کا میں بدل جائے۔
چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے سب لوگوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے ، انہیں انکے کرتوتوں کی ویڈیو کلپ دکھائی جائے ، انکے اپنے اعضاء اور کھالوں سے گواہی دلوائی جائے اور پھر انہیں قرار واقعی اور عبرت ناک سزا دی جائے۔ دوسری جانب مظلوموں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا مداوا بھی احسن طریقےسے کیا جائے۔
ظاہر ہے کہ یہ سب اس دنیا میں تو ممکن نہیں چنانچہ یہ یوم حشر ہی ہے جہاں مکمل عدل و انصاف ممکن ہے ۔ اس دن سرفراز اور اس کے قاتل دونوں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا مقدمہ پیش کریں گے او ر احکم الحاکمین عدل کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ سنادیں گے۔
آئیے اپناجائزہ لیں۔ کہیں ہم بھی حشر کے روز ظالموں کے کٹہرے میں کھڑے نہ کردئیے جائیں اور حشر میں لوگ کھڑے ہوکر انگلیاں اٹھائیں کہ” دیکھو یہ سرفراز کے قاتلوں کو ظالم گردانتے تھے اور خود ہی ظالم نکلے”۔

Advertisements

7 responses to this post.

  1. […] گردانتے تھے اور خود ہی ظالم نکلے”۔ از پروفیسر عقیل سرفراز کا قتل اور انصاف کے تقاضے __________________ عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں – آواز سگاں […]

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s