اللہ کا ذکر کیا ہے؟

اللہ کا ذکر ۔مضامین

پہلا مضمون۔ اللہ کا ذکر کیا ہے؟

قرآنی آیات

 1.مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔[۲:۸]
2. (یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں [13:28 ]

3.اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ایسا کر دیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے یہ بد کردار لوگ ہیں [59: 19]
۔
حدیث
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بے شک ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا تمہیں کس بات نے بٹھلایا ہوا ہے صحابہ نے عرض کیا ہم اللہ کا ذکر کرنے اور اس کی اس بات پر حمد کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر اس کے

ذریعہ احسان فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ کی قسم تمہیں اس بات کے علاوہ کسی بات نے نہیں بٹھایا صحابہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لیئے بیٹھے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں اٹھوئی بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔[ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2360 ]
کیس اسٹڈی
فائق پچھلے کئی سالوں سے لندن میں مقیم تھا۔ اسکی کاروباری مصروفیات پاکستان آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ لیکن وہ اپنی ماں سے ملنے کے لئے بے چین تھا۔ وہ اکثر تنہائیوں میں اپنی ماں کے بارے میں سوچتا، اس کا تصور کرتا، اسکی باتیں یاد کرتا، اس کی مسکراہٹ اور لوریوں کو ذہن میں لاتا اور محظوظ ہوتا ۔وہ اکثر جب اپنے دوستوں سے ملتا تو اپنی ماں کی تعریف اور چرچے بیان کرتا۔ کبھی اس کے دوست اسے سگریٹ کا کش لگانے کو کہتے تو اسے ماں کی تنبیہ یاد آجاتی اور وہ اس سے باز آجاتا۔ایک دن برسات میں وہ بھیگتاہوا گھر آیا تو اسے بخار چڑھ گیا ایسے میں ماں بہت یاد آئی۔وہ بے اختیار رودیا اور دوسرے ہی دن پاکستان واپس ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ایک ہفتے کےبعد وہ پاکستان پہنچ گیا اور ماں سے لپٹ کر رویا لیکن یہ رونا فراق کا نہیں بلکہ وصال کا تھا۔
ذکر کا مفہوم
ذکر کے لغوی معنی یاد کرنا، بیان، چرچا، تذکرہ، یادآوری، کسی چیز کو محفوظ کر لینا، کسی بات کا دل میں مستحضر کر لینا، حفاظت کرنا۔ یہ لفظ نسیان کا الٹ ہے۔
ذکر الٰہی کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں یاد رکھنا ، اس کا تصور ہر وقت ذہن میں رکھنا اور اسکی مرضی، پسند ناپسند کا خیال رکھنا سب اس میں شامل ہیں۔
کیس اسٹڈی کا تجزیہ
۱۔ فائق کاروبار میں مصروف ہونے کی وجہ سے اپنی ماں سے دور تھا جبکہ ایک بندہ مومن دنیاوی مصروفیات کی بنا پر اللہ کی یاد محو کردیتا ہے۔
۲۔ فائق تنہائیوں میں اپنی ماں کی حرکات و سکنات اور احسانات کو یاد کرتا تھا جبکہ ایک مومن اپنی تنہائیوں میں اللہ کی صفات اور بے پناہ احسانات کو یاد کرتا اور ان کا تصور کرتا ہے۔
۳۔فائق اپنے دوستوں میں اپنی ماں کے چرچے کرتا ۔ایک مومن اپنے ساتھیوں اور خاندان کے افراد سے جب ملتا ہے تو اللہ کی تسبیح، حمد، بڑائی، محبت اور دیگر صفات کا چرچا کرتا اور اور اس ذکر سے خوش ہوتا ہے۔
۴۔فائق اپنی ماں کو یاد کرکے سگریٹ پینے سے باز آجاتا جبکہ مومن اللہ کو یاد کرکے ہر چھوٹی یا بڑی نافرمانی سے رک جاتا ہے۔
۵۔ فائق کو بخار میں ماں بہت یاد آئی جبکہ مومن کو مصیبت میں اللہ یاد آتا ہے۔
فکر کامفہوم
اس کا مطلب غور و فکر کرنا اور تعقل کے ذریعے کسی متعین نتیجے تک پہنچنا شامل ہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص جب یہ دیکھتا ہے کہ آسمان اور زمین میں اتنا تضاد ہونے کے بعد انتہائی درجے کی معاونت ہے ۔ یعنی آسمان کی بارش زمین میں غذا کی فراہمی کا باعث بنتی ہے، سورج کی روشنی حرارت کا سامان مہیا کرتی، چاند کا گھٹنا اور بڑھنا سمند ر میں جوار بھاٹا پیدا کرتا اور تاروں کی چال راہ دکھانے کا کام کرتی ہے تو وہ اس غور فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یقینی طور پر کو منتظم اعلیٰ موجود ہے جو ان سب تضادات میں ہم اہنگی پیدا کئے ہوئے ہے۔اسی کا نام تفکر ہے۔
ذکر اور فکر کا تعلق
ذکر کا تعلق انسان کے دل اور جذبات سے زیادہ ہے جبکہ تفکرا یک عقلی طریقہ کار ہے

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by نور خیال on 30/12/2014 at 4:30 شام

    اللہ پاک کا زکر ہے تو سکون ہے ورنہ خود کشی کے لیے ہر دم تیار ہیں

    جواب دیں

  2. اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
    زکر پہ آپکی یہ تحریر مختصر ہونے کے باوجود بہت مکمل ہے۔ وہ مخلوق ہی کیا جو خالق کو یاد نہ کرتی ہو۔ اور انسان اور مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خدا کو بھول بیٹھے۔ مسلمان کی فطرت میں زکر اسکی عادت بن جاتا ہے۔

    حاتم طائی بنام پاکستانی بلاگرز۔ المعروف سوشل میڈیا سمٹ۔ ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا۔ منتظمین کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ یار لوگوں کو آواری میں گپ شپ کا اچھا موقع ملا۔ . . . . . . . . . . . .

    جواب دیں

  3. Aqil bhai by reading this article i have gained a lot of information regarding remembrance of Allah Almighty and you have put in a lot of hard work by quoting verses from the Quran-e-Hakim and examples from the Hadith. Besides you have also included how one should remember Allah .Almighty by giving examples of a person by the name of Faiq

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s