دوسرا مضمون ۔ ذکر الٰہی کے مقاصد و اسباب

اللہ کا ذکر ۔مضامین
دوسرا مضمون ۔ ذکر الٰہی کے مقاصد و اسباب

 1۔ بندگی کا اظہار
ذکر کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اس ہستی سے کوئی تعلق پایا جاتا ہو۔ عہد الست کی یاد انسان کی فطرت میں پیوست ہے جس میں اللہ نے تمام انسانوں سے اپنے رب ہونے کا اقرار کروایاچنانچہ اسی ربوبیت کو یاد کر تے رہنے کے لئے اور اللہ کی بندگی کا اقرار کرنے کے لئے اللہ کو یاد کرتے رہنا لازمی ہے۔
2۔اطاعت
ذکر یا یادعام طور پر اس ہستی کو کیا جاتا ہے جو نگاہوں کے سامنے نہ ہو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا مادی ساتھ ممکن نہیں چنانچہ اللہ سے تعلق روحانی نوعیت کا ہے۔چنانچہ اس تعلق کے قیام ، بقااور ارتقاکے لئے اللہ کو زبان اور افعال دونوں طریقوں سے یاد رکھنا لازم ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی عادت پیدا کرنا ہے۔
3۔اللہ کی عظمت کا اظہار
ذکر کرنے کا ایک اور پہلو تذکر ہ کرنا، چرچا کرنا یا زیادہ سے زیادہ بیان کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت کے اقرار کے طور پر اس کا تذکرہ اور اسکی تسبیح و تحمید اور بڑائی لوگوں میں بیان کرنا ، تنہائیوں میں دہرانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔

 ذکر کرنے کے اسباب

 ۱۔ نشانیوں کو دیکھ کر ذکر کرنا
اللہ کی یاد انفس و آفاق کی نشانیوں پر غور کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح ایک شخص اپنی ماں سے متعلق چیزیں دیکھ کر اسے یاد کرنے لگتا اور اسکی باتیں بیان کرتا ہے تو اسی طرح انسان کائنات میں اللہ کی بکھری ہوئی نشانیوں یعنی اسکے وسیع میدان، عظیم پہاڑ، جھلمل کرتی دھوپ اور باد نسیم کو دیکھ کر بے اختیار اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔
۲۔ مصیبت میں تذکر
اللہ کی یادمصیبت اور مشکلات میں بھی شدت سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ انسان مشکل میں ایک قادر مطلق، شفیق، نرم دل اور غم گسار ہستی کی تلاش میں ہوتا ہے اور یہ ساری صفات اللہ تعالیٰ کےرحمٰن اور رحیم ہونے کی صورت میں میسر آجاتی ہیں۔
۳۔ احسانات کا تذکر
زندگی کی تخلیق، چین، سکون ، آرام ، رزق کی فراہمی، آسمان و زمین کی موافقت وغیرہ کو دیکھ کر انسان ان سب کے فراہم کرنے والے تنہا محسن کو یاد کرتا، اس کا شکر گذار ہوتا اور اسکے ذکر اور باتیں کرکے ان سے اپنی زندگی کو گلزار بنانے کی سعی کرتا ہے۔
۴۔ محبت کی بنا پر تذکر
اس یکطرفہ احسان کی بنیاد پر انسان اپنے محسن سے محبت کرتا، اسکی جانب لپکتا اور اپنی امیدیں اسی سے وابستہ کرتا ہے، چنانچہ یاد اسی محبت کا فطری نتیجہ ہے۔
۵۔ ناراضگی کے خوف میں ذکرکرنا
لیکن وہ اس خیال سے بھی لرزاں رہتا ہے کہ کہیں یہ محسن ناراض نہ ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو وہ نعمتوں سے محروم ہوجائے گا اور مصیبتوں میں گرفتار ہوجائے گا چنانچہ وہ اس خوف اور اندیشے کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔
۶۔ دیگر صفات حمیدہ کی بنا پر ذکر کرنا
ذکر کا یک اور پہلو اللہ کی دیگر صفات میں بھی ہے۔ ایک ملک کا سربراہ جو ایک چھوٹی سی زمین کا ایک نامکمل حاکم ہوتا ہے اس کے سامنے انسان جاتے ہوئے ادب کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ چنانچہ انسان جب اپنے رب کی کامل ملکیت ، قدرت، خلاقی، مصوری اور حکمت دیکھتا ہے تو وہ ان صفات کے حامل ہستی کے بارے میں انتہائی ادب ، احترام اور عظمت کے جذبات رکھتا ہے اور اس تصور کے بڑھنے سے خود بخود وہ خالق کو یاد کرتا ، اس کا چرچا کرتا ، اسکی بڑائی بیان کرتا، اوراسکے سامنے ادب سے قیام و قعود کرتارہتا ہے۔

Advertisements

One response to this post.

  1. The second article concerning remembrance of Allah Almighty is also wonderful cause it is the need of the hour for our so called Muslim society. May Allah Almighty grant u n ur family lasting satisfaction n peace in this world n Hereafter.

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s