پانچواں مضمون –ذکر الٰہی کی مشکلات اور علاج

1۔ایمان کی کمزوری
ذکر میں کوتاہی کی ایک اہم وجہ اللہ پر یقین کی کمزوری ہے۔ ایک بندہ زبان سے تو اللہ کا اقرار کرلیتا ہے لیکن اس شعور میں اس ہستی کی معرفت اور صفات کا فہم واضح نہیں ہوتا چنانچہ وہ قول سے اقرار کے باوجود اللہ پر ایمان کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتا یا کرنے پر خود کو آمادہ نہیں کرپاتا۔


2۔ دنیا کی محبت
نماز اور اللہ کو یاد کرنے کے دیگر طریقوں سے گریز کی وجہ مال ، زوج اور اولاد کی حد سے زیادہ محبت ہے۔ آج انسان کولہو کے بیل کی طرح صبح سے شام تک پیسہ کمانے میں مصروف رہتا ہے اور وہ یہ پیسہ عام طور رپر اپنے اہل خانہ کے لئے ہی کماتا ہے۔ پھر جو وقت بچتا ہے وہ اسے سستی تفریح میں صرف کردیتا ہے۔چنانچہ وہ خدا کے فرض کردہ ذکر یعنی نماز سے بھی محروم رہ جاتا ہے چہ جائکہ وہ ذکر کثیر کی جانب مائل ہو۔ اس کا علاج پیسہ کمانے کے عمل کو ضروریات تک محدود کرنا، انفاق سے مال کی محبت کم کرنا اور ٹائم مینجمنٹ کے ذریعے اللہ کے ذکر کے لئے وقت نکالنا ہیں۔ نیز دوران سفر یا فارغ اوقات میں روزانہ کسی مخصوص اور مسنون تسبیح کا پڑھنا بھی ایک بہتر حل ہے۔
3۔ اسباب کی دنیا میں یقین
ایک اور سبب اسبا ب وعلل کی دنیا ہی کو حقیقت ماننا اور اس سے اوپر اٹھ سوچنے میں ناکام ہوجانا بھی ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص کو ملازمت کی تلاش ہے چنانچہ وہ ملازمت کے حصول کے لئے تمام ممکنہ کوششیں کرلیتا ہے لیکن اللہ سے دعا نہیں مانگتا۔ چنانچہ وہ اللہ کے ذکر اور تعلق سے محروم رہ جاتا ہے۔
4۔ عربی زبان سے ناواقفیت
ذکر میں ایک اور رکاوٹ عربی زبان سے ناواقفیت ہے۔ اکثر لوگ کسی مخصوص دعا کو عربی زبان میں پڑھنا لازم سمجھتے اور اس کے الفاظ کو مفہوم کے بغیر دہرانے پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی حقیقی تعلق قائم نہیں ہوپاتا اور بوریت کی بنا پر ان دعائوں کا تسلسل ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دعائوں کے مفہہوم کو یاد کیا جائے اور دعا کے الفاظ کی بجائے اس کے مفہہوم کو اس موقع پر ذہن میں پڑھا جائے۔ نیز عربی زبان سے اس حد تک واقفیت کی کوشش کی جائے کہ دعا اور اہم سورتیں سمجھ آنے لگ جائیں۔
5۔وظائف سے دنیاوی مسائل کا حل
ایک اور ذکر میں مشکل یہ ہے کہ لوگ غیر مستند وظفیوں کو پڑھتے اور ان سے دنیاوی مقاصد جیسے ملازمت، شادی بیاہ، رزق میں کشادگی، صحت ، تعلیم وغیرہ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ اللہ کا ذکر جس کا بنیادی مقصد انسان کو مادی آلائشوں سے دور کرکے اخروی زندگی کے قریب کرنا تھا وہ مزید دنیا پرستی کی جانب لے جانے کا سبب بن جاتا ہے ۔اس ضمن میں یہ حقیقت جان لینی چاہئے کہ ان وظائف میں سے اکثر کا تو اسوہ نبی سے کوئی ثبوت ہی نہیں بلکہ یہ تو کچھ لوگوں کی اپنی اختراع ہے جو انہوں نے عوام کو دین کی جانب راغب کرنے کی وجہ سے ایجاد کی۔ دوسرے یہ کہ اگر ان وظائف کا ثبوت سند کے لحاظ سے قوی احادیث میں اگر ملتا بھی ہے تو اس کی وجہ محدثین کا ان روایات کے بارے میں نرم رویہ ہے اور اسکی وجہ وہی نیک نیتی ہے کہ لوگوں کو ذکر کی جانب راغب کیا جائے۔
6۔ مخصوص بزرگوں کی صحبت اور طریقے کو لازم سمجھ لینا
کسی بزرگ کی بیعت، مراقبہ وظیفہ وغیرہ کو ذکر کے لئے لازم سمجھنا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے جبکہ حقیقت میں یہ تمام طریقے لوگوں نے اپنے زمانے کے حالات کے لحاظ سے وضع کئے اور اس کا اسوہ رسول سے کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Jazakallah Kharyan, Sir u have composed a wonderful topic concerned with sub-topics n clarifying each of them in a very lucid manner.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s