ساتواں مضمون –ذکر الٰہی سے متعلق سوال و جواب

سوال نمبر 1:میں اکثر اللہ کا ذکر ، تسبیح وغیرہ کرتا ہوں لیکن کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی نیز نمازوں میں بھی نہ رونا آتا ہے اور نہ رقت طاری ہوتی ہے۔کیا میرا ذکر اور نمازیں قبول نہیں ہورہی ہیں؟
جواب: اللہ کے ذکر اور نماز کا کا بنیادی مقصد اللہ کو راضی کرنا اور انکے حکم کی بجا آوری ہے۔کیفیت کا پیدا ہونا یا نہ ہونا نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی انسان کے اختیار میں ہے۔ اسی طرح رقت کا طاری ہونا ایک اچھی علامت خشیت تو ہے لیکن یہ غیر اختیاری امر ہے۔لہٰذا رقت یا کیفیت کو نماز کی قبولیت کا پیمانہ سمجھنا قطعی طور پر غلط ہے۔
سوال نمبر ۲۔ مجھے ایک بزرگ نے کیفیت ، سرور اور کشف کے حصول کے لئے ایک وظیفہ تجویز کیا کیا یہ درست طرز عمل ہے ؟
جواب۔ اللہ کے ذکر کا مقصد اللہ کو یاد کرکے انکی رضاجوئی کرنا اور نافرمانی سے رک جانا ہے۔ جو شخص کیفیت اور لذت کے لئے اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایک طرح سے ذکر کی اصل روح کو چھوڑ بیٹھتا ہے جس سے اجر میں کمی آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ٹرین کے ذریعے کراچی سے لاہور جاتا ہے تو اسکا اصل مقصد لاہور پہنچنا ہے۔ لیکن دوران سفر ارد گرد کے نظاروں سے محظوظ ہوتا اور ہر اسٹیشن پر اتر کر ان مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہے جس میں کوئی قباحت نہیں۔لیکن اگر وہ اس لطف میں کھو کر لاہور پہنچنے کا مقصد کو بھول جائے تو ممکن ہے کہ وہ لاہور دیر سے پہنچے یا پہنچ ہی نہ پائے۔ چنانچہ کیفیت کو ذکر کی بائی پراڈکٹ سمجھنا چاہئے نا کہ اصل مقصد۔اسی طرح کشف و کرامات کا تعلق نفس کی مخصوص مشقوں سے ہے اس کا تعلق براہ راست ذکر الٰہی سے نہیں۔
سوال نمبر ۳۔میں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کا ورد دن میں ہر وقت کرتا رہتا ہوں کیا یہ درست ہے ؟ یا مجھے گن کر ورد کرنا چاہئے؟
جواب۔ گننے یا نہ گننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ کچھ طبیعتیں ذکر کو معین مقدار میں کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور اس سے ایک پابندی پیدا ہوجاتی ہے ۔اسی طرح کچھ مزاج اس پابندی سے وحشت زدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ آپ اپنے مزاج سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ البتہ ہر وقت ایک ہی تسبیح کا ورد یکسانیت اور غیر فطری طرز عمل کو جنم دے سکتا ہے۔ چنانچہ مختلف اوقات میں مختلف مسنون دعائیں پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ نیز ہر وقت قولی تسبیح کی بجائے کائنات پر غور و فکر کرنا اور ان سے اللہ کو یاد کرنے کی عادت ڈالنا بھی ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔
سوال نمبر ۴۔ تسبیح کے دانوں پر ذکر کرنا کیسا ہے؟
جواب۔ اس بارےمیں دو نقطہ نظر ہیں۔ ایک گروہ کاخیال ہے کہ دانوں والی تسبیح کا استعمال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ، نیز اس سے ریاکاری کاشبہ ہوتا ہے چنانچہ اس کا استعمال مناسب نہیں۔ دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ تسبیح کا استعمال گناہوں سے دور کرتا اور ذکر پر اکسا تا ہے چنانچہ اس کا استعمال مستحسن ہے۔میرا رحجان پہلے گروہ کی جانب ہے۔
سوال نمبر ۵۔ میں اوراد وظائف کی ایک کتاب میں موجود وطائف پابندی سے پڑھتی ہوں۔ کیا اس کا پڑھنا ذکر کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟
جواب۔اوراد وظائف مختلف لوگوں نے مرتب کی ہے۔ یہ کتاب قرآن کی منتخب سورتوں، مختلف اقسام کے درود شریف ، دعائوں، آداب اور فضائل پر مبنی ہے۔ اس کتاب میں چند سورتوں اور کچھ مستند دعائوں کے علاوہ زیادہ تر درود شریف، وظائف اور دعائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ انہیں بعد کے بزرگوں نے اپنی طبع کے مطابق ترتیب دیا ہے ۔ چنانچہ ایسے اذکار جن میں اللہ کی یاد کا کوئی پہلو موجود ہو ان کو اگر صحیح شعور کے ساتھ پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہ سب کچھ تو اپنی زبان میں بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اس کے لئے عربی زبان یا کسی وظیفے کی کتاب کی کوئی خاص ضرورت نہیں ۔
سوال نمبر ۶۔ کیا دنیاوی مقاصد کے حصول جیسے ملازمت ، شادی کرانایا کسی بیماری کےعلاج کی نیت سے وظائف پڑھنا درست ہے؟
جواب۔ اصولی بات تو یوں سمجھ لیں کہ دین کا بنیادی مقصد انسان کو ان اصولوں کی تعلیم دینا ہے جن میں اس کی عقل اور فطرت ٹھوکر کھاسکتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں سور کی حرمت تو جگہ جگہ بیان ہوئی ہے لیکن زہر کو کہیں حرام نہیں کیا گیا کیونکہ انسانی عقل اس کو یونہی حرام سمجھتی ہے۔ چنانچہ دنیاوی مقاصد کے حصول اور علاج کے وہ طریقے دنیاوی اسباب کے تحت فیصلہ کرنا ہی مناسب ہوتا ہے البتہ اللہ سے دعا مانگی جاسکتی ہے اور یہ کسی بھی زبان میں ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ملازمت کا حصول یا رشتوں کا طے کرانا وغیرہ اسبا ب کی دنیا کے معاملات ہیں چنانچہ ان میں کوئی وظیفہ کی بجائے تدبیر اور پھر دعا کرنا ہی درست ہے۔
البتہ کچھ امور ایسے ہیں جو مادی دائرہ کار میں نہیں آتے جیسے جادو ٹونہ یا جنات کے اثرات وغیرہ ۔ ان کے علاج کے لئے صرف مسنون اور مستنددعائیں اور وظائف سے مدد لی جاسکتی ہے۔
سوال نمبر ۷۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ دوران حمل اگر سورہ محمد کثرت سے پڑھی جائے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ادورادظائف کے صفحہ نمبر 192 پر درج ہے کہ اگر جسم پر فالج گرجائے تو فتبارک اللہ احسن الخٰلقین پڑھنا چاہئے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب۔ ہماری سوسائٹی میں اکثر لوگ سنی سنائی بات آگے بیان کردیتے ہیں اور لوگ ان کو درست سمجھ کر اس پر عمل شروع کردیتے اور پھر توہمات کی دنیا میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔کوئی بھی وظیفہ کے بارے میں جب بھی سنیں تو اس کا مستندحوالہ معلوم کریں کیونکہ کوئی بات کسی کے کہنے یا کتاب میں درج ہوجانے سے درست نہیں ہوجاتی۔ اگر حوالہ نہ ملے یا وہ حوالہ مستند نہ ہو تو اسے قابل توجہ نہ سمجھیں خواہ وہ کتنی ہی مشہور بات کیوں نہ ہو۔
اورادظائف کے جس وظیفے کی آپ نے بات کی ہے اس کا کوئی حوالہ موجود نہیں کہ یہ کن صاحب نے کس موقع پر کہا۔ اس پر عمل کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایک عام شخص کے مشورے پر دوائی کھانا شروع کردے ۔غالب گمان ہے کہ اس وظیفے کو تخلیق کرنے والے بزرگ کے نزدیک اس کا مفہوم ذہن میں ہوگا ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ "پھر اللہ بڑی برکت والا اور پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے”۔ چنانچہ اللہ کی اس تعریف کے ساتھ دعا کی جائے کہ آپ بہترین تخلیق کرنے والے ہیں تو ہمارے فلاں عزیز کی فالج کا نقص درست کردیں تو امکان ہے اللہ تعالیٰ دعا قبو ل کرلیں۔ لیکن اس وظیفے کے الفاظ کو اسم اعظم سمجھ کر پڑھنا عبث ہے۔ یہی معاملہ دیگر وظائف کا بھی ہے۔ جہاں تک سور ہ محمد پڑھنے سے اولاد نرینہ ہونے کا تعلق ہے تو اس کا کوئی ثبوت کسی حدیث میں نہیں ملتا ۔
سوال نمبر ۸۔ کیا آیت الکرسی پڑھنے سے ہم اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں؟
جواب۔ جی ہاں کیونکہ آیت الکرسی کے بارے میں صحیح احادیث میں اس کا بیان ہے نیز آیت الکرسی کے مفہوم کو اگر درست شعور کے ساتھ پڑھا اور مانا جائے تو پھر کسی مادی یا غیر مادی ہستی کا حملہ ممکن نہیں البتہ اگر اللہ کی مشیت کچھ اور ہو تو اور بات ہے۔
سوال نمبر ۹۔ نماز میں ارتکاز توجہ پیدا نہیں ہوتی بلکہ خیالات بھٹکتے رہتے ہیں ۔ میں کیا کروں؟
جواب۔ نماز میں ارتکاز توجہ کے لئے تین تدابیر اختیار کیجئے۔ پہلی یہ کہ جو کچھ بھی نماز میں پڑھیں اس کا اردو ترجمہ یا مفہوم ذہن میں رہے۔ دوسرا یہ کہ نماز میں تسبیحات کو بدل بدل کر پڑھیں ۔ ہمارے ہاں لوگوں کو صرف ایک ہی طرح کی تسبیحات سکھائی جاتی ہیں جس سے یکسانیت پیدا ہوجاتی ہے۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثناء، رکوع، قومہ، سجدہ، قعدہ اور تشہد کی ایک سے زیادہ دعائیں منقول ہیں۔اس کی تفصیل حصن حصین یا دیگر مستند کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تیسری تدبیر یہ ہے کہ کچھ طویل سورتیں یاد کریں اور انہیں نفل نمازوں میں پڑھنا شروع کریں۔ اس سے بھی دھیان نماز میں لگا رہے گا۔ مناسب سمجھیں تو اس لنک پرموجود تزکیہ نماز سے متعلق میرا آرٹیکل پڑھ لیں۔
http://t.co/Vd3NSNQ

Advertisements

5 responses to this post.

  1. جزاک اللہ ۔ آپ نے بہت اچھا سلسلہ شروع کيا ہوا ہے ۔ اسے پڑھ کر پرانی باتين ميرے دماغ مين تازہ ہو جاتی ہين ۔ اور ميں دل ہی دل مين آپ کيلئے دعا کرتا رہتا ہوں ۔ ايک اتفاق ہے کہ ميں آپ کی ہر رائے سے اپنے آپ کو متفق پاتا ہوں بلکہ يوں محسوس ہوتا ہے کہ ميں خود ہی لکھ رہا ہوں حالانکہ ميں عالمِ دين نہيں ہوں بلکہ تھوڑا سا پڑھا ہوا لوہار ہوں

    ميں اپنی اغراض کے مطالبے آپ سے کرتا رہتا ہوں ۔ اب ايک اور درخواست ہے ۔ تبصرہ کے خانے کا فونٹ بہت چھوٹا ہے ۔ اگر ہو سکے تو اسے بڑا کر ديجئے ۔ پڑھنے کيلئے بہت زور لگانا پڑتا ہے ۔ ميرا انگريزی ميں بلاگ ورڈ پريس پر ہی ہے ۔ يہ ديکھيئے
    http://iabhopal.wordpress.com/2011/06/16/i-only-hope-we-find-god-again-before-it-is-too-late/#comments

    جواب

  2. aqil saheb aap ki kuch batein tu saheh hai lekin kuch batoon mein ikhtilaf zaroor hai mera sawaal ye hai kah ashraf ali thanwi saheb ki kitaab aamaal e quraani ko aap kiss nazar say dekhtay hain our oon ki shakhsiyat kay baray mein kiya khiyaal hai ummid hai aap tasalli bakhash jawaab dengein wssalam

    جواب

    • السلام علیکم
      فیڈ بیک کا شکریہ
      مولانا اشرف علی تھانوی صاحب اور دیگر علماء حضرات کو میں انتہائی عزت ، احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں نے انکی کئی تصانیف سے براہ راست فائدہ اٹھایا ہے۔جہیاں تک انکی کتاب علوم قرآنی کا تعلق ہے تو میں نے اس کا مطالعہ تو نہین کیا لیکن نفس مضمون سے شاید آگاہ ہو ں کہ یہ مختلف قسم کے وظائف کی کتاب ہے۔ میں نے وظیفوں کے سلسلے میں چند اصولی باتیں نقل کردی ہیں چنانچہ اس کتاب کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ وظیفے کا دین یا شریعت سے تعلق ہونے کے لئے اس کا قران یا نبی کرین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا اسوہ سے ثابت ہونا لازم ہے۔ جہاں تک دنیاوی مقاصد کے لئے وظیفوں کا تعلق ہے تو میں اس پر اپنے مضمون میں کلام کرچکا ہوں۔

      جواب

  3. Aqil Bhai on the last question i would like to add that if one increases his interest in prayers one would surely start 2 gradually increase his concentration in prayers. One of the root cause of distraction is lack of interest.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s