بیٹا بہتر یا بیٹی؟


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جون ۲۰۱۱ کے ایکسپریس اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر چھپی کہ چار سدہ کے علاقے میں ایک حاملہ عورت نے الٹرا ساؤنڈ کروایا ۔جب اسے علم ہوا کہ اس کی ہونے والی اولاد  مؤنث ہےتو وہ دلبرداشتہ ہوگئی۔چنانچہ وہ گھر واپس آئی اور گن سے فائر کرکےخود کو ہلاک کردیا۔
ہماری سوسائٹی میں یہ ایک عام رویہ ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ عام طور پر بیٹا ہونے پر خوشی منائی جاتی اور بیٹی پر منہ بنایا جاتا ہے۔اگر عقل و فطرت اور اسلام کے لحاظ سے لڑکا لڑکی سے بہتر ہے تو اس روئیے میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو روئیے کی اصلاح ضروری ہے۔ آئیے اس مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔
ماضی کی داستان
اس مسئلہ کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم ہی سے بیٹوں کو فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اس ترجیح کی کچھ معاشی، سماجی اور نفسیاتی بنیادیں ہیں۔ انسان کا ابتدائی دور قبائلی اور زرعئی نظاموں پر مشتمل تھا۔ غذا کا حصول یا تو شکار کرنے پر منحصر تھا یا پھر کھیتی باڑی کے ذریعے غلہ اگانے پر۔ دونوں ہی صورتوں میں بڑی تعداد میں کام کرنے والی لیبر فورس یعنی مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی۔ بیٹا ہونے کی صورت میں ایک فرد کو مفت کے مزدور ہاتھ آجاتے اور بیٹی ہونے کی صورت میں وہ ان کماؤ پوتوں سے محروم رہ جاتا تھا۔یہ بات واضح رہے کہ قدیم زمانے میں باپ کو اپنے بیٹوں پر تشدد، انہیں خاندان سے خارج کردینے، یہاں تک کہ انہیں قتل تک کرنے کے اختیارات بھی بعض صورتوں میں حاصل تھے ۔ چنانچہ بیٹے اپنی معاشی اور سماجی بقا کے لئے باپ کی حکم ماننے اور مشترکہ جائداد سے جڑے رہنے پر مجبور تھے ۔
ماضی میں بیٹے کو ترجیح دینے کی ایک سماجی وجہ بھی تھی وہ یہ کہ بیٹوں اور پوتوں کی کثرت سماج میں ایک احساس تحفظ فراہم کرتی اور مبینہ دشمنوں سے دفاع میں معاون ثابت ہوتی تھی۔اس کے برعکس بیٹی کی ولادت کی صورت میں ایک طرف تو محافظوں کی نفری میں کمی واقع ہوجاتی اور دوسری جانب لڑکی کی بلوغت اور شادی تک حفاظت کا بار بھی بڑھ جاتا تھا۔
بیٹو ںکو ترجیح دینے کا ایک پہلو نفسیاتی بھی تھا ۔ جب لڑکے کے اس قدر دنیاوی فائدے نظر آنے لگے تو لوگ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر مخلوق سمجھنے لگے۔ اسی طرح نسل کے تسلسل کا سلسلہ بیٹے سے جوڑ دیا گیااور ایک غلط تصور پیدا ہوگیا کہ اگر بیٹا نہ ہو ا تو نسل ختم ہوجائے گی۔ ان سب باتوں کا لازمی نتیجہ یہ نکلا بیٹی کی ولادت نفسیاتی طور پر ناپسند کی جانے لگی۔ پھر بعد میں پیدا ہونے والی نسلوں نے اس ناپسندیدگی کو ایک روایت کے طور پر قبول کرلیا۔
موجودہ صورت حال
موجودہ دور صنعتی معاشرے ، منظم ریاست اور شخصی آزادی کا دور ہے۔ اس پروفیشنلزم کےدور میں کوئی باپ مزدوروں کی فراہمی کے لئے بیٹوں کا محتاج نہیں بلکہ اس مقابلے کی اکانومی میں پروفیشنل اور قابل ملازم کو نا اہل بیٹے پر ترجیح دینا لازم ہوتا ہے۔ اسی طرح ریاستی نظم کی موجودگی میں تحفظ کی ذمہ داری حکومتی اداروں پر ہے ناکہ خاندانوں پر۔ نیز اس شخصی آزادی کے دور میں ایک باپ کو اپنے بچوں پر انتہائی محدود اختیارات ہیں ۔چنانچہ آج کوئی باپ قانونی طور پر اپنے بچوں پر تشدد نہیں کرسکتا، انکی مرضی کے خلاف انکی شادی نہیں کرسکتا اور انکی کمائی پر اپنا تسلط نہیں کرسکتا۔ جہاں تک نفسیاتی طور پر عورت کو کمتر سمجھنے کی بات ہے تو اسلام کے علاوہ جدید سماجی علم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عورت اور مرد بحیثیت انسان برابر ہیں۔ البتہ یہ دونوں اپنی طبعی ساخت اور ذمہ داریوں کی بنا پر مختلف ہیں تو ان کے حقوق و فرائض میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ اسی طرح نسل چلنے کا قدیم نظام جس میں شجرہ وغیرہ بھی محفوظ رکھا جاتا تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ اور آج لوگوں کو اپنے داد ایا پردادا تک کا نام معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ نسل کا تسلسل کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
قرآن کا تبصرہ
سورہ شوریٰ دو آیات ملاحظہ فرمائیں
اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے (نری) لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے (نرے) لڑکے عنایت کرتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں (ملاجلا کر) دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔(الشوریٰ: ۴۹-۵۰:۴۲)۔
احادیث میں بیٹی کی اہمیت:۱۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس مرد کی بھی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے (کھلائے پلائے اور دینی آداب سکھائے) جب تک وہ بیٹیاں اسکے ساتھ رہیں یا وہ مرد ان بیٹیوں کے ساتھ رہے (حسن سلوک میں کمی نہ آنے دے) تو یہ بیٹیاں اسے ضرور جنت میں داخل کروائیں گی ۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 551)
۲۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جسکی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے (جزع فزع نہ کرے کہ بیٹیاں ہیں) اور انہیں کھلائے پلائے۔ پہنائے اپنی طاقت اور کمائی کے مطابق تو یہ تین بیٹیاں (بھی) روز قیامت اس کے لئے دوزخ سے آڑ اور رکاوٹ کا سبب بن جائیں گی ۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 550)۔
۳۔ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مانگتے ہوئی آئی، اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہیں پایا، تو میں نے وہ کھجور اسے دیدی، اس عورت نے اس کھجور کو دونوں لڑکیوں میں بانٹ دیا اور خود کچھ نہیں کھایا، پھر کھڑی ہوئی اور چل دی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ نے فرمایا کہ جو کوئی ان لڑکیوں کے سبب سے آزمائش میں ڈالا جائے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے آگ سے حجاب ہوں گی۔( صحیح بخاری جلد 1 حدیث نمبر 1333 )

ان آیات اور احادیث کی میں یہ بیان کردیا کہ بیٹا اور بیٹی کی پیدائش اور بانجھ پن سب کچھ اللہ کے چاہنے پر منحصر ہے اور اس کا چاہنا کوئی الل ٹپ نہیں کہ آنکھیں بند کرکے اولاد بانٹ دی۔۔ بلکہ وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ، کامل علم کے ساتھ، حکمتوں اور مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کام کرتا ہے۔ وہ حکمت اور مصلحت کیا ہے؟ اس کا جواب اس آیت کے سباق میں موجود ہے کہ یہ دنیا جزا سزا اور نعمت و نقمت کا مقام نہیں بلکہ آزمائش کی جگہ ہے ۔ چنانچہ بیٹے یا بیٹی کا پیدا ہونا انسان کو شکر یا صبر کے امتحان میں ڈالتا ہے ۔نیز لڑکا ہو یا لڑکی ، اللہ تعالیٰ یہ دیکھتے ہیں کہ والدین کس طرح ان کی درست تربیت کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ دوسری جانب بانجھ پن انسان کو صبر کی آزمائش میں لے آتا ہے ۔ چنانچہ اس سارے عمل میں انسان کی آزمائش یہی ہے کہ وہ کس خوبی سے محرومی پر صبر و استقامت کرتا، جزا فزا سے گریز کرتا ، اللہ کی حکمتوں پر بھروسہ کرتااور غیراللہ کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خالص رب ہی سے رجوع کرتا ہے۔

خلاصہ
۱۔ ماضی میں انسان معاشی فائدے حاصل کرنے لئے بیٹوں کو پسند کرتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ صورت حال نہیں۔آ ج ایک بیٹا معاشی طور پر کمانے لگتا ہے تو والدین کو اس کی کمائی پر کوئی اختیار نہیں۔نیز آج کے دور میں بیٹی بھی کما سکتی اور اپنی شادی اور تعلیم کے اخراجات اٹھا سکتی ہے۔
۲۔شخصی آزادی کی بنا پر والدین کا اولاد پر مطلق اختیار نہیں۔ چنانچہ اگر بیٹی نے اٹھ کر کسی دوسرے گھر چلے جانا ہے تو بیٹے نے نفسیاتی طور پر علحیدگی اختیار کرکےاپنا الگ گھر بسانا ہے۔
۳۔ریاستی نظم کی موجودگی میں بیٹوں کی کثرت کا کوئی فائدہ نہیں۔ کسی دشمن سے نبٹنے کے لئے ہر فرد کو پولیس کی ضرورت ہے خواہ اسکی بیٹیاں ہوں یا بیٹے۔
۴۔جہاں تک بیٹی کے تحفظ اور اسکی ذمہ داری کا تعلق ہے تو یقیناََ اسکی تعلیم ، تربیت، عفت کی حفاظت اور شادی کے اخراجات وغیرہ بڑی ذمی داریاں ہیں۔ لیکن کم و بیش یہی ذمہ داریاں بیٹے کے کیس میں بھی ہیں۔اسکی تعلیم، تربیت میں وہی اخراجات ہیں۔اسکی عفت کی حفاطت کی بجائےبری صحبت سے بچانے کی ذمہ داری ہے ۔ یعنی اگر لڑکی کی حفاظت ایک داخلی معاملہ ہے تو لڑکے کو خارجی ماحول میں رہ کر کنٹرول کرنا پڑتا ہے ۔ اسی طرح لڑکا اور لڑکی کی شادی میں اخراجات کی نوعیت کم و بیش برابر ہی ہے۔ اگر لڑکی کو جہیز دینا پڑتا ہے تو لڑکے کو بری چڑھائی جاتی ہے۔اگر فرنیچر اور الیکٹرانک آئٹمز کو نظر انداز کردیا جائے تو بری اور جہیز میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔
۵۔نفسیاتی طور پر بیٹے کو ترجیح دینا ایک مغالطہ اور غلط روایت ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی چار صاحبزادیاں اور دو بیٹے پیدا ہوئے۔ لیکن بیٹوں میں سے کوئی بچ نہیں پایا۔ اس کے باوجود آپ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے بہت زیادہ محبت اور تعلق کا اظہار کیا۔چنانچہ اسلام میں بیٹوں کو فوقیت دینے کی کوئی بنیاد نہیں ملتی بلکہ یہ تو جاہلی معاشر ے کی بنیاد ہے۔
۶۔ نسل چلنے کا تصور انتہائی فرسودہ ہے۔ آج لوگوں کو اپنے دادا پرداد کا نام معلوم نہیں ہوتا ۔لہٰذا نسل چلانے کے لئے وارث کی خواہش کو طول دینا ، اس کے لئے عورت کی صحت کا خیال رکھے بنا بچوں کی فوج تیار کرلینا مناسب نہیں ۔ اسی طرح لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں عورت کو مورد الزام ٹہرانا یا دوسری شادی کرنا بھی خلاف عقل ہے کیونکہ آج سائنس نے ثابت کیا ہے کہ لڑکا یا لڑکی بننے کا انحصار مرد کے اسپرم میں ہوتا ہے ۔ مرد کے خارج کئے ہوئےکروموسومز میں سے اگر ایکس ولادت میں استعمال ہو تو لڑکی اور اگر وائی استعمال ہو تو لڑکاپیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ عورت کا کردار اس ضمن میں ایک مفعول کا ہوتا ہے۔
۷۔ بیٹے یا بیٹی کی خواہش کرنا اور اسکے لئے دعا کرنا کوئی بری بات نہیں البتہ جب ولادت ہوجائے اور اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے تو اس کی رضا پر راضی رہنا اور اس کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرنا ہی عبدیت اور دانش مندی کا تقاضا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
emaan.akhlaaq@gmail.com

Advertisements

14 responses to this post.

  1. Posted by Sarah on 25/04/2014 at 12:37 شام

    Boht he acha article hai. Sab se pehle tou ye Baat k aurat wohi takleef Utah kr beti paida Karte hai jitna k beta.ese mien beta ko bartari dena us aurat k like boht painful hai. Mard ko Islam mien jaidad isliye ziada de gae k usne biwi ko khilana hai , ye Mard ki zimadaari hai aurat ki nahi. Woh apne hisa se jo marzi kre khandaan ko paalna uske zima nahi.paighambar isliye aurat nahi kuonke aurat ka zima aulaad ko paalna ghar gerahsti chalana hai aur woh is k sath woh kam nai kr sakte.islam ne aurat ko Maa ka rutba dia. Maa se barh k kon jo sakta hai. Jahan tak khandaan ki Baat hai tou aurat ko Alag ghar basane ka poora haq hai. Susral ki ziadati bardasht krna uske faraiz main shamil nahi. Koi bhi beta bagher waja k Alag nahi hoga. Pasand ki shadi mien koi Burae nahi. Waliden ka tajarba ziada hai Lekin apni pasand chor k Maa baap ki krne se boht badmazgi hote hai Neiz aksar sahabzade bad mien apni pasand ki doosri bhi kr lete hain ye keh k pehle Maa Baap ki marzi se ki. Aur phir insaf an kr k gunahgar bante hain. Jahan tak kamai ka haw hai. Chahe beta ho ya beti agar apnea kamate hain tou apne Baal bachon k baad zaror waaliden ko dein. Mard agar bahir se mazboot hai tou aurat ka inner immune system Mard se strong hai k woh Baar baar Maa bante hai.

    جواب دیں

  2. Posted by گمنام on 25/04/2014 at 12:13 شام

    Boht he zabardast article hai.Islam ne Beton ko wirasat isliye ziada hai k unhon ne Kama k apni biwi ko khilana hai aur ye zimadaari Mard pe hai. Paighambat bhi Mard thei kuonke aurat ki zimadaari aulaad ko paalna aur gharelo zimadarian hain .uske pas itne fursat nahi.islam mien Maa ka rutba jesa kisi ka nahi aur Maa eik aurat hai. Islam mien aurat ka farz nahi k susral k sath rahe lehaza Zulm ki surat mein alag ho sakte hai. Maa beta aur beti dono paida kr k usee takleef se guzarti hai isliye beta behtar kehna us maa k sath ziadati hai jo wohi takleef utha k beti janti hai. Ap ne boht khoobsurati se sab bian Kia hai.mard bahir se takatwar hota hai Lekin aurat ka andar se immune system ziada mazboot hai k who bache jan Leti hai.tehkiik se sabat hai .baharhaal Allah se naik a aulaad ki dua krone chayey aur mehroomi se bachai.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s