بے قابو کار


"اگر میں تمہیں ایک شاندار کار تحفے کا طور پر پیش کروں تو کیسا ہے؟”۔ سائنس دان نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا۔ یہ سن کر بیٹے کی بانچھیں کھل اٹھیں۔
” یہ کار دنیا کی جدید ترین کاروں میں سے ایک ہے ۔لیکن اس میں ایک خامی ہے "۔ باپ نے کہا۔
” وہ کیا ؟”۔ بیٹے نے تشویش بھرے لہجے میں استفسار کیا۔
” یہ کار اپنی مرضی سے چلتی اور اپنی مرضی سے رکتی ہے۔ اس کے چلنے اور رکنے کا سسٹم ڈرائیور کے ہاتھ میں نہیں۔ نیز یہ کہ اس کی یہ خامی دور نہیں ہوسکتی”۔ باپ نے کہا۔
یہ خبر سن کر بیٹے کی امیدوں پر اوس پڑ گئی اور اس نے کہا !
"ابا جان! ایسی سواری کس کام کی کہ جب اسےروکیں تو چلے، اور جب چلائیں تو وہ رکے۔ ایسی کار بدمستی میں کسی راہ گیر کو کچل سکتی ، کسی اونچائی سے گر سکتی اور کسی مکان کو گرا سکتی ہے۔ یہ کار منزل تک پہنچانے کی بجائے منزل سے دور کرنے کا سبب ہے۔ اس سے تو بہتر یہی ہے کہ میں بے کار ہی رہوں”۔
میرے خیال میں اگر میں اور آپ بھی اس فرزند رشید کی جگہ ہوتے تو یہی کرتے۔ لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہم ایسی کار کو تو ناکارہ سمجھتے ہیں جو اپنے مالک کے قابو میں نہ ہو لیکن اس شخصیت کو کچھ نہیں کہتے جو نفس کو قابو کرنے کی بجائے اسی کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہو۔
انسانی نفس جب قابو سے باہر ہوجاتا ہے تو پھر جسم کا ہر عضو اس کی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کبھی آنکھیں فحش مناظردیکھنے پر مجبو ر ہوجاتی ہیں تو کبھی زبان بدکلامی کرتی ہے۔ کبھی ہاتھ دوسروں کے گریبان تک پہنچتے تو کبھی پاؤں بدی کی راہ پر نکل پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ حواس خمسہ کے ساتھ دیگر اعضاء،دل اور دماغ سب سفلی خواہشات کے قابو میں آجاتے ہیں اور بندہ شیطان کے بنائے ہوئے نقش قدم پر چلتا ہوا اپنے رب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
روزہ اسی منہ زور گھوڑے کو قابو کرنے کا نام ہے۔ یہ مہینہ تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ ٹریننگ بھوک ، پیاس اور جنسی ضروریات سے اجتناب کے ذریعے انسانی نفس کے سفلی تقاضوں کو کمزور کرتی اور بالآخر اس کا کنٹرول انسان کے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔ اس ایک ماہ کی تربیت سے انسان کا پورا وجود اللہ کی بندگی میں رہنے کی مہارت حاصل کرلیتا ہے ۔ پھر رمضان کے بعد وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اگلے گیارہ ماہ منہ زور نفس کی خواہشات کو اپنے قابو میں کرسکے۔
اگر کوئی اس تربیت سے بھی اپنے آپ پر قابو نہ پا سکے تو وہ نفس اسی ناکارہ کار کی مانند ہے جو کسی کام کی نہیں اور جس کا استعمال پر خطر بھی ہے اور منزل گریز بھی۔
پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com

aqilkhans@gmail.com

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Jazak Allah Khairan, U have a wonderful way of explaining things in the most suitable manner so that the public gets the message of Islam. U r 100% right when U explained in the essay that Ramzan is that month of the year when Muslim acquire taqwa that means they learn 2 control their desires n practise what Allah Almighty demands n in case they r unable 2 acquire takwa then it becomes almost impossible 2 bring change in their lives with which Allah Almighty becomes happy.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s