قرآن و حدیث میں پڑوسی بیان


قرآن میں پڑوسی کا بیان
اور (دیکھو،) اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور حسن سلوک سے پیش آؤ والدین کے ساتھ، قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، پڑوسیوں کے ساتھ خواہ قرابت والے ہوں خواہ اجنبی، نیز آس پاس کے بیٹھنے والوں اور مسافروں کے ساتھ اور جو (لونڈی غلام) تمہارے قبضے میں ہوں ان کے ساتھ (کیونکہ) اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اترائیں اور بڑائی مارتے پھریں،(النساء ۳۶:۴)
احادیث
۱۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لئے یا پڑوسی کے لئے پسند کرے(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 172 )۔
۲۔ ابوشریح کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے، بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے، بخدا وہ آدمی مومن نہیں ہے، پوچھا گیا کون یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے بے خوف نہ ہو (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 955)
۳۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام پڑوسی کے لئے برابر ہمیں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اس کو وارث بنادیں گے(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 953 )۔
۴۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس چاہیے کہ مہمان کی ضیافت کرے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 957)۔
۵۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں تو میں کس کو ان میں سے ہدیہ بھیجوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہو(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 959 )
۷۔علی بن عبداللہ ، سفیان، ایوب کا قول نقل کرتے ہیں کہ ہم سے عکرمہ نے کہا میں تم سے چند چھوٹی باتیں بیان نہ کردوں، جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرمائی اور اس سے بھی منع فرمایا کہ اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے منع کرے(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 587)۔
۸۔حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کر لے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کر لے(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر ۲۱۹۱)
۹۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی ضرر رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 174)۔
نوٹ: پڑوسی کے حقوق پر مکمل اور مفصل مضمون پڑھنے کے لئے اس مضمون کا مطاعلہ کریں۔”ہمسائگی-قرآن و سنت کی روشنی میں”
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s