نیکی کا تصور-پیغمبر کی احادیث میں


جانور کو تکلیف سے بچانا نیکی ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہوگی جیسی مجھے لگی تھی،چنانچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
نیکیوں کا خسارہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو تو اسے آج ہی معاف کرا لے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب کہ نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم اگر اس کے پاس عمل صالح ہوگا، تو بقدر اس کے ظلم کے اس سے لے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہو گی، تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس کے سر پر ڈالی جائیں گی-( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2287)
ہر نیکی صدقہ ہے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نیکی صدقہ ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 960)

نیکی اور گناہ کا تناسب
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ بزرگ وبرتر کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں ہیں۔ پھر ان کو بیان کردیا ہے چنانچہ جس شخص نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے مطابق ابھی عمل نہیں کیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے نیکی کرکے عمل بھی کرلیا تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا تک لکھ دیتا ہے۔ اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر نیت کر کے عمل بھی کرلیا تو اس کے لئے ایک برائی لکھتا ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1412 )
مسجد کی طرف قدم اٹھانا
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ وہ کل اسلام کی حالت میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان ساری نمازوں کی حفاظت کرے جہاں سے انہیں پکارا جاتا ہے، اللہ تعالی نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہدایت کے طریقے متعین کر دئیے ہیں اور یہ نمازیں بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے اور اگر تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور کوئی آدمی نہیں جو پاکی حاصل کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طرف جائے تو اللہ تعالی اس کے لئے اس کے ہر قدم پر جو وہ رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے ایک درجے کو بلند کرتا اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ منافق کے سوا کوئی بھی نماز سے پیچھے نہیں رہتا تھا کہ جس کا نفاق ظاہر ہو جاتا اور ایک آدمی جسے دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کردیا جاتا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1483)
غریبوں کی نیکی
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے اوہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2323)
راستے سے کانٹا ہٹانا
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی اور اللہ کی تعریف کی اور تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اور اَسْتَغْفَرَ اللَّهَ کہا اور لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیا اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے منع کیا تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر۔ اس دن چلتا ہے حالانکہ اس نے اپنی جان کو دوزخ سے دور کر لیا ہے ابوتوبہ کی روایت ہے کہ وہ شام کو سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2324)
اچھے اخلاق پر نجات
حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے آدمیوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے پاس لوگوں میں گھل مل کر رہنے کے سوا کوئی نیکی نہ پائی گئی اور وہ مالدار آدمی تھا اور اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں اور اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہم اس بات کے اس سے زیادہ حقدار ہیں تم بھی اس سے درگزر کرو۔( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1503)
راستے کی نیکی
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے تو بیٹھنے کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہیں ہم وہاں باتیں کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں بیٹھنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تو پھر راستے کا حق ادا کرو صحابہ نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظریں نیچی رکھنا اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا اور سلام کا جواب دینا اور نیکی کا حکم دینا اور بری باتوں سے منع کرنا۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1066)
نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے
حضرت نواس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سمعان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو اس پر لوگوں کو مطلع ہونے کو ناپسند کرے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2019)
مومن کی مصیبت بھی نیکی ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2070)
کوئی نیکی حقیر نہیں
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا نیکی میں کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ہی ملے.( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2193)
دس نیکی اور ایک گناہ
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے اس کی دس مثل ثواب ہوگا اور میں اور زیادہ اجر عطا کروں گا اور جو برائی لائے گا تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا یا میں اسے معاف کر دوں گا اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوگا میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوگا میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوں گا جو میرے پاس چل کر آئے گا میں اسکے پاس دوڑ کر آتا ہوں اور جس نے تمام زمین کے برابر گناہ لے کر مجھ سے ملاقات کی بشرطیکہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو میں اس سے اسی کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2336)
رشتے داری کا لحاظ کرنا نیکی ہے
عروہ بن حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کے متعلق مجھے بھی بتلائیے جو میں جاہلیت کے زمانے میں کرتا تھا۔ مثلا صدقہ، غلام آزاد کرنا، صلہ رحمی تو کیا ان پر بھی اجر ملے گا تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی نہیں پچھلی نیکیوں کی وجہ سے ہی تو مسلمان ہوا۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1351)
گناہ سے بچنا نیکی ہے
حضرت ابوبراء سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی انصار جب حج کر کے واپس ہوتے تو اپنے گھروں کے دروازے سے داخل نہ ہوتے بلکہ گھروں کی پشت کی طرف سے داخل ہوتے، ایک انصاری شخص آیا اور اپنے گھر کے دروازے سے داخل ہوا تو اسے عار دلائی گئی، تو یہ آیت نازل ہوئی کہ نیکی کی بات یہ نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں ان کی پشت سے آؤ بلکہ نیکی یہ ہے کہ گناہ سے بچو اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1688)
قرض دار کو مہلت دینا نیکی ہے
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امت کے ایک شخص کی روح سے فرشتے ملے، تو ان فرشتوں نے پوچھا کیا تم نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا کہ میں اپنے نو جوانوں کو حکم دیتا تھا کہ مہلت دیں اور مالداروں کو درگزر کریں اگر مہلت مانگیں تو مہلت دیں، فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا

3 responses to this post.

  1. The article you wrote on Believe in Good Deeds is really good and you have worked very hard. May Allah reward you for this.

    جواب دیں

  2. Posted by احمر on 11/08/2011 at 11:08 صبح

    ….”مالداروں” کو درگزر کریں

    یہاں ٹایپنگ کی غلطی تو نہیں ہو گی؟

    شکریہ

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s