مولوی بدنام کیوں؟

کار جب قریب سے گذری تو غیاث نے دیکھا کہ اندر چار پختہ عمر کے حضرات براجمان ہیں اور چاروں حلیے سے مولوی لگ رہے تھے۔ اس نے گاڑی کا تعاقب کیا اور مولویوں کی گاڑی کو آگے جاکر رکنے پر مجبور کردیا۔
"آپ کو گاڑی چلانے کی تمیز نہیں”؟”سگنل بند ہے اور آپ نے گاڑی چلادی ۔ میں کتنی مشکل سے ٹکراؤ سے بچ پایا ہوں "۔
غیاث نے ڈرائیو کرنے والے صاحب سے غصے سے کہا۔
کار میں سوار لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک صاحب خشک لہجے میں بولے۔
"میاں اتنے سارے لوگ نکل رہے تھے ، اگر ہم بھی ان کے پیچھے نکل گئے تو کیا قصور کیا”؟ غیاث نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےان سے کہا ” جناب آپ لوگ حلیے سے مذہبی پس منظر کے معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کو تو عام لوگوں کی اصلاح کے لئے عزیمت کے مقام پر کھڑا ہونا چاہیے نا کہ آپ بھی عوام کی غلط کارویوں میں شامل ہوجائیں۔ "۔
” میاں ، تم زیادہ اخلاق کے ٹھیکے دار نہ بنو۔ ہمیں علم ہے کہ مذہب کیا ہے اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ تم جیسے داڑھی منڈھے بے راہ رو لوگوں کی تو عادت ہے کہ جہاں مولویوں کو دیکھا ان پر پل پڑے”۔
ان میں سے ایک صاحب نے لڑتے ہوئے جواب دیا۔
مجمع بڑھنے لگا تھا اور غیاث بات کو جھگڑے میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ وہ پلٹا اور اپنی کار میں بیٹھ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔
مولوی حضرات پر عام طور پر لوگوں کی یہی تنقید ہوتی ہے کہ وہ اخلاقیات سے عاری ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ تنقید بجا اور اکثر اوقات بدنیتی پر مبنی ہوتی ہے۔ اس مسئلے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت واضح ہوجائے۔

مولوی  صاحب کون ہیں؟

یوں تو مولوی درس نظامی کی ایک سند  کے حامل شخص  کو کہتے ہیں لیکن ہماری سوسائٹی میں مولوی سے مراد ایک روایتی مذہبی شخص ہے جو لمبی داڑھی ، ٹوپی ، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور بعض اوقات تسبیح کے ذریعے عام لوگوں سے منفرد نظر آتا ہے۔ چنانچہ اس آرٹیکل میں مولوی کو عوامی معنوں میں ہی استعمال کیا گیا ہے۔

جب مولوی صاحب پر تنقید درست نہیں
۱۔مولوی حضرات پر تنقید ایک لحاظ سے بے جا اور غلط ہے۔ مولویوں کو برا بھلا بولنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ وہ معاشرے میں ایک ناصح کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ جب اچھائی کی دعوت دیتے اور لوگوں کو برائی سے روکتے ہیں تو سماج کا بگڑا ہوا طبقہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ مولویوں کو بدنا م کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔
۲۔ایک اور غلط فہمی ہر داڑھی اور ٹوپی والے شخص کو عالم دین یا دین کا نمائندہ سمجھ کر اسے حدف تنقید بنا ناہے۔ چنانچہ مذہب سے پیچھا چھڑانے والے لوگ ایک عام مذہبی شخص کی بول چال، سادہ لوحی اور غربت کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ اس کا مقصد درحقیقت مذہب کو بدنا م کرنا، اسے آج کے تمدن میں ناقابل عمل قرار دینا ، اس کی پا بندیوں سے پیچھا چھڑانا اور اپنی آزاد زندگی کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
۳۔ایک اور غلط تصور ایک مولوی اور مذہبی شخص کو فرشتہ سمجھنا ہے۔ ایک مذہبی حلئے کے حامل فرد سے عوام ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔لہٰذا اس کی زندگی کے ہر ہر پہلو پر کڑی نظر رکھی جاتی اور بعض اوقات رائی کا پہاڑ کھڑا کردیا جاتا ہے۔
 جب مولوی صاحب پر تنقید موزوں ہے
ان حقائق کے باوجود مولوی حضرات کی اپنی بھی کچھ کوتاہیاں ہیں جن کی نشاندہی اور اصلاح ضروری ہے ۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔پہلی حقیقت یہ ہے کہ مولوی صاحبان کی اکثریت دین کا ایک محدود اور ادھورا تصور رکھتی ہے۔اس تصور میں چند عبادات ، مخصوص رسومات اور متعین ظاہری حلئے کو اپنا لینا ہی دین سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک عام مولوی صاحب عبادات میں نماز ، روزہ، حج اور زکوٰۃ ، تہجد اور دیگر نفل نمازوں کو ہی عبادات سمجھتا ہے جبکہ والدین کی خدمت، پڑوسی سے حسن سلوک، غیبت ، بہتان، بدگمانی، بدکلامی اور جھوٹ وغیرہ سے گریز جیسی اخلاقی تعلیمات کو مستحب کے درجے میں رکھتا اور انہیں فرض عین سمجھنے سے گریز کرتا ہے ۔ چنانچہ جب کسی عام آدمی کا ایک مولوی صاحب سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ انہی حقوق العباد کے پیمانوں پر اسے پرکھتا اور تنقیدکرتا ہے۔ اسے اسے کوئی غرض نہیں کہ مولوی صاجب نے تہجد پڑھی یا نہیں۔ وہ تو اپنے ساتھ ایک اچھا سلوک کرنے والا انسان پسند کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
۲۔مولوی صاحبان کی ایک اور غلطی سنت عادت کو فرض عین بنا دینا ہے۔لہٰذا داڑھی کی مقدار، سر کی ٹوپی ، ٹخنوں سے اونچی شلوار، مسواک وغیرہ پر اس قدر زور دیا جاتا ہے کہ علم ہوتا ہے کہ پیغمبر دنیا میں داڑھی رکھوانے یا شلوار ٹخنوں سے اونچی کروانے ہی کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ ان تمام امور کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ان کی پلیسمنٹ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر انسان میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت بیدار کردی جائے تو یہ سب عادتیں خود بخود ایک شخص اپنے مزاج کے مطابق اپنا سکتا ہے ۔لیکن اگر ان پر غیر ضروری اصرار کیا جائے تو یہ لوگوں کو دین سے دور لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
۳۔ مولویوں سے تنفر کی ایک اوروجہ حکمت کے بغیر دعوت اورتبلیغ کرنا ہے۔ دعوت اور تبلیغ ایک انتہائی نازک کام ہے جس کے لئے مخاطب کی نفسیات، مزاج اور شخصیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک مذہبی شخص برے لوگوں کی برائیوں سے نفرت کی بجائے لوگوں ہی سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر برے لوگوں کو حقیر سمجھ کر ان کی بدکاریوں پر تنقید کی جاتی ہے جس سے مخاطب ردعمل کی نفسیات پر آماد ہ ہوجاتے اور دین سے مزید دور ہوجا تے ہیں۔
۴۔چند ایک برائیوں کو چھوڑ کر مولوی حضرات سوسائٹی کی دیگر خرابیوں کی نشاندہی اور خاتمے میں ناکام نظر آتے بلکہ بعض اوقات ان میں مبتلا دکھا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمینوں پر قبضہ کرکے مسجد تعمیر کرنا،وال چاکنگ کرنا، پرتشدد ہڑتالوں میں املاک کو نقصان پہنچانا، سڑکیں بلاک کرنا اور جلاؤ گھیراؤ جیسے گناہوں میں ملوث ہونا دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مذہبی جماعتوں کا بھی وتیرہ بن چکا ہے۔ اس اخلاقی زوال کی بنا پر ایک عام شخص مولوی اور غیر مولوی حضرات میں کوئی بہت زیادہ فرق اس لحاظ سے نہیں پاتا۔
۵۔ مذہبی فرقہ واریت، قتل و غارت گری، عدم برداشت اور ایک دوسر ے پر کفر کے فتوے مولویوں کی بدنامی ایک ایک اور سبب ہیں۔اس کی بنا پر مساجد پر قبضے، ایک دوسرے کو برا بھلا بولنا، جہاد کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا وغیرہ اس عدم برداشت کے چند نتائج ہیں۔
 عوام الناس کے لئے چند تجاویز
محترم قارئین، مولوی صاحبان بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں ۔ چنانچہ انہیں سوسائیٹی سے الگ سمجھنا اور ان سے فرشتوں جیسی عصمت کا تقاضا کرنا مناسب نہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت دین کی نمائندگی کرنے والے لوگ یہی ہیں چنانچہ ان کی ناجائز طور پر تحقیر کرنا دین کو نقصان پہنچانے کے برابر ہے۔ البتہ ان پر مثبت تنقید کی جاسکتی ہے جس میں تنقید کے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح بھی تجویز کرنی لازم ہے۔ ان کی اصلاح کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم خود ایک اچھے مذہبی شخص عملی ماڈل پیش کریں اور مولوی صاحبان کو اسے اپنانے کی دعوت دیں۔
 مولوی صاحبان کے لئے چند تجاویز
محترم حضرات، آپ لوگ دین کے سفیر ہیں ۔ لوگ عام طور پرآپ کو دیکھ کر ہی دین سے قربت اور دوری کا فیصلہ کرتے ہیں۔چنانچہ آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی بہتر بنائیں ۔دین صرف نماز ، روزے ، حج زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایمان کے ساتھ اخلاقیات درست کرنے کا بھی عمل ہے۔ کیا آپ نے وہ حدیث نہیں سنی کہ وہ شخص مومن نہیں جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ نہ ہوں ۔ اسی طرح دعوت دیتے وقت لوگوں کے مزاج کاخیال رکھیں، اپنے علم کو جدید نفسیات اور علم الکلام سے آراستہ کریں، مذہبی برداشت کے لئے اپنی رائے کو اس احتمال سے درست سمجھتے رہیں کہ دوسرا بھی اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے۔ نیز سیاست میں ملوث ہونے کی صورت میں کسی طور بھی دین کے تقاضوں کو نہ چھوڑیں خواہ کتنا ہی نقصان ہوجائے۔

Advertisements

7 responses to this post.

  1. Posted by عبدالمجید on 07/09/2016 at 7:07 شام

    بہت خوب جناب جزاک اللہ

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s