ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس


۲۸ اگست ۲۰۱۱ کی سہ پہر ملک کی فضا پر اس وقت سیاسی محاذ آرائی کے بادل منڈلانے لگے جب ذوالفقار مرزا نے بے باکی کے ساتھ ایم کیو ایم اور رحمان ملک پر الزامات لگائے۔ وہ اپنی گفتگو کے دوران مسلسل قرآن کا نسخہ ہاتھ میں لئے نظر آئے تاکہ اپنی بات میں زور پیدا کیا جاسکے۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے الزامات سچ ہیں یا جھوٹ، اس کا فیصلہ آنے والے دن کریں گے۔البتہ میرا مقصد ان کی گفتگو کے ایک اہم پہلو کی جانب اشارہ کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا۔
"ایک دن میں نے گورنر سندھ سے پوچھا کہ انیس قائم خانی کے والد کون تھے تو گورنر صاحب ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے کہ ڈاکٹر صاحب یاد نہیں۔ پھر میں پوچھا کہ میرے والد کون تھے تو انہوں نے کہا کہ انہیں کون نہیں جانتا وہ تو ایک مشہور و معروف شخصیت اور جج تھے "۔
یہ بات کرنے کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے فخریہ انداز میں اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ ایک خاندانی اور جدی پشتی آدمی ہیں جبکہ انکی مخالف پارٹی کے افراد ایسے نہیں ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے نسل پرستی ، تفاخر اور تکبر کا تاثر ملتا ہے۔ ممکن ہے کہ میں اپنی جگہ پر غلط ہوں اور ڈاکٹر صاحب کا وہ مقصد نہ ہو جو میں نے سمجھا۔ چنانچہ میں اپنی بحث کو جنرل رکھتے ہوئے چند اصولی باتوں تک ہی خود کو محدود رکھوں گا۔
خاندانی اور غیر خاندانی کی تقسیم برصغیر کی فرسودہ روایات کا حصہ ہے جب لوگوں کے شجرے محفوظ کئے جاتے اور انہیں آبا ءو اجداد کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔اس کے پیچھے ایک خوش گمانی کا جذبہ کار فرما تھا کہ نیک والدین کے بچے نیک ہی ہونگے۔ لیکن تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں۔ بت پرست آذر کے گھر ابراہیم علیہ السلام کی ولادت اور پیغمبر نوح علیہ السلام کے ہاں کافر فرزندکی تولید ، لوط علیہ السلام کی بیوی کافرہ اور فرعون کی بیوی مومنہ یہ سب حقائق اس مفروضے کے اوپر ایک سوالیہ نشان ہیں۔چنانچہ یہ مفروضہ محض ایک مفروضہ ہی ہے اور اسکی بنیاد پر کوئی اصول بنا لینا اور اس پر فخر و تکبر کا مظاہرہ کرنا کسی طور جائز نہیں۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اس میں کسی قسم کی نسل پرستی یا نسلی تفاخر کی کوئی گنجائش نہیں۔ بلا ل حبشی رضی اللہ عنہ ایک غلام ہونے کے باوجود خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیتے ہیں تو کہیں حجتہ الوداع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم علی الاعلان یہ فرماتے ہیں کہ کسی کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ کسی بڑے آدمی کا بیٹا ہونا کوئی فخر اور تکبر بات نہیں۔اگر کوئی فخر کرتا تو فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا کرتی جس کے والد پوری امت کے سردار ہیں ۔ لیکن وہی والد اپنی بیٹی کو تنبیہ کرتے ہوئے خدا کا تقوٰی اختیار کرنے کی نصیحت کرتے اور قیامت کے روز انہیں اپنے اعمال کے ذریعے نجات حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
نسب اور نسلی تفاخر پر چند احادیث ملاخطہ فرمائیں۔
۱۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 229)
۲۔ حضرت جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے غیرت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو وہ جو اللہ تعالی کو پسند ہے دوسری وہ جو اللہ تعالی کو ناپسند ہے اللہ کے نزدیک پسندیدہ غیرت وہ ہے جو شک کے موقعہ پر ہو (جیسے بیوی کے مشکوک کردار پر) اور وہ غیرت جو اللہ کو پسند نہیں وہ ہے جو شک کے بغیر ہو اسی طرح غرور اور تکبر بھی دو طرح کا ہے ایک پسندیدہ اور دوسرا ناپسندیدہ۔ پسندیدہ غرور وہ ہے جو آدمی کافروں کے مقابلہ میں جہاد کے موقعہ پر کرے اور صدقہ دیتے وقت (یعنی بخوشی ادا کرے) اور جو ناپسندیدہ ہے وہ یہ ہے کہ آدمی غرور کرے ظلم وتعدی میں اور فخر کرے نسب میں۔( سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 886)
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصبیتوں کو دور کیا اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے اور جو ایسے راستے پر چلا جس میں علم کی تلاش کرتا ہو اللہ تعالی اسکے لئے ذریعہ جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کی تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتے ہیں اور جس شخص کو اس کے اپنے اعمال نے پیچھے کردیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2356 )

چنانچہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں کوئی شخص اگر سرخرو ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی کردار ، قابلیت اور صلاحیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ جبکہ اپنے آبا ء اجدا د کی اچھائیوں کا کریڈٹ لینے والے لوگ نہ صرف خوش فہمی کا شکار ہیں بلکہ ان کا رویہ جھوٹی انا، تکبر اور تفاخر کا سبب بنتا ہے جو انتہائی غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہے۔

پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

5 responses to this post.

  1. سوال یہ نہیں کہ ذوالفقار مرزا کا باپ کون تھا ۔۔۔سوال یہ ہے کہ ذوالفقار مرزا کون ہے؟
    اپنے ہی مخالفین کی طرح کا ایک تلنگا ، بدمعاش اور بھتہ خوروں کی سرپرستی کرنے والا ایک مجرم
    عجیب وقت ہے کہ بھینس چرانے والوں کو بحی اپنے حسب نسب پر فخر ہے۔۔۔اور قوم کی رہنمائی کا دعویِ۔۔۔

    جواب

  2. Posted by sana on 01/09/2011 at 11:13 صبح

    Jazakallah u Khera

    جواب

  3. May Allah bless you n we all Muslims practise it.

    جواب

  4. جزاک اللہ خیرا

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s