قیامت کی سزا جزا کے ضابطے از ریحان احمد یوسفی


قارئینِ کرام! ستمبر 2011 کے گوشۂ ملاقات میں آپ کو ایک دفعہ پھر خوش آمدید۔ اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور رحمتیں آپ کو اپنے ساےۂ عافیت میں رکھیں۔

سورۂ توبہ اور قیامتِ صغریٰ
مئی کے مہینے میں اللہ تعالیٰ کی عنایت سے عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس مبارک سفر کی روداد تو قارئین آنے والے دنوں میں ملاحظہ فرمالیں گے البتہ اس سفر میں عزیز دوست مبشر نذیر کے ساتھ کئی نشستیں رہیں۔ ان کے گھر پر ایک نشست میں محترمی و مکرمی قاضی مدثر صاحب نے روزِ قیامت کے حوالے سے ایک سوال کیا۔ اس کے جواب میں جو گزارشات میں نے پیش کیں، ان کے بارے میں یہ بھی اس نشست میں عرض کردیا کہ سزا و جزا کے ضابطوں کے بارے میں اگر میں اتنی واضح جگہ پر کھڑا ہوں تو ایسا سورۂ توبہ کے اس فہم کی وجہ سے ہے جو میں نے اپنے استاد سے اخذ کیا ہے۔ آج کی اس نشست میں ارادہ ہے کہ سورۂ توبہ کا یہی فہم اپنے قارئین اور تلامذہ تک منتقل کردوں۔ تاکہ قیامت کی پیشی کی ایک شکل ان کے سامنے بھی آجائے۔

قرآن مجید اللہ کے آخری نبی اور رسول کی داستانِ انذار ہے۔ یعنی آپ بحیثیت رسول سرزمین عرب میں مبعوث ہوئے اور یہاں رہنے والے دو اہم گروہوں یعنی بنی اسماعیل اور اہل کتاب کو دعوت حق دی۔ ربع صدی سے کچھ کم مدت میں آپ نے بنی اسماعیل جن کی قیادت قریش کے ہاتھ میں تھی اور اہل کتاب کے دو گروہوں یعنی یہود و نصاریٰ پر اتمام حجت کردیا۔ یعنی حق کی دعوت انھیں آخری درجہ کی شرح و وضاحت کے ساتھ پہنچادی۔ قرآن مجید اسی دعوت، انذار، تبشیر اور اتمام حجت کی داستان ہے۔ جس کے بعد اللہ تعالیٰ کا وہ قانون نافذ ہوگیا جو رسولوں کے باب میں ہمیشہ سے اس کی سنت رہا ہے۔ یعنی کفار پر عذاب کا اور ماننے والوں کے لیے غلبہ و نجات کا فیصلہ ہوگیا۔ سورۂ توبہ اسی فیصلہ کا اعلان ہے۔ یہ گویا وہ قیامت صغریٰ ہے جو سرزمین عرب میں برپا ہوئی اور سورۂ توبہ اسی قیامت کی ایک روداد ہے جس سے ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ مختلف انسانی گروہوں کے ساتھ کیا اور کس طرح معاملہ کریں گے۔ جو لوگ اس کی عملی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ نامی ناول میں ایک تمثیل کی شکل میں اسے دیکھ سکتے ہیں۔

ایک وضاحت
اب آئیے ایک ایک کرکے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس سورت میں کیا مضامین بیان ہوئے ہیں اور کس طرح وہ رہنمائی کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسانیت کے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے۔ خیال رہے کہ سورۂ توبہ قرآن مجید کی دیگر تمام سورتوں کی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داستانِ انذار کے ایک مرحلے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ گرچہ آخری مرحلہ ہے جس میں فیصلہ سنایا جارہا ہے، لیکن ساتھ ساتھ لوگوں کے احوال، اقوال، مطالبات، معاملات، رویے، غلطیاں، گمراہیاں وغیرہ سب زیر بحث ہیں۔ اور قرآن مجید ایک زندہ کتاب کے طور پر ان پر تبصرہ کررہا ہے، جواب دے رہا ہے، ہدایات اور رہنمائی دے رہا ہے اور ساتھ میں فیصلہ بھی سنارہا ہے۔ میں باقی ساری چیزوں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف فیصلوں کو اپنی اس گفتگو کا موضوع بناؤں گا۔ اگر میں باقی چیزوں وضاحت بھی شروع کردوں تو پھر تو یہ پوری سورت کی تفسیر بن جائے گی۔ یہ ظاہر ہے اس وقت میرا موضوع نہیں ہے۔ میرا موضوع لوگوں کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کو بیان کرنا اور ان سے قیامت کے د ن کے بارے میں کچھ استنباط کرنا ہے۔

سورۂ توبہ کا آغاز
قرآنِ مجید کی تمام سورتوں کے برعکس اس سورت کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ان کلمات سے نہیں ہوتا جو دراصل اللہ کی رحمت و عنایت کا بیان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلۂ عذاب کی سورت ہے اور اس کے شروع میں رحمت کے کلمات بطور سرِ عنوان موزوں نہیں ہیں۔ یہ گویا کہ قیامت کا کنایہ ہے۔ قیامت کا حادثہ دراصل اس بات کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی زمین کو نافرمانوں اور مجرموں کے شکجنے سے آزاد کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کے لیے اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف وہ اپنی اُس رحمت کو واپس لے لے گا جس نے کائنات کی انتہائی طاقتور قوتوں کو انسانوں کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ چنانچہ وہ اس روز ان قوتوں کو ان کے حال پر چھوڑدے گا۔ اللہ کی رحمت کے اٹھ جانے کے بعد نظامِ کائنات کی یہ قوتیں بربادی کا طوفان بن کر اس دنیا کے باسیوں پر ٹوٹ پڑیں گی اور اس دنیا کو تہہ بالا کرکے رکھ دیں گی۔

مشرکین کا انجام
سورۂ توبہ کے مضامین پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اجزا میں منقسم ہے۔ اس کا پہلا جز ان کفار کے مختلف گروہوں کا معاملہ زیر بحث لاتا ہے جنھوں نے اللہ کے رسول کا انکار کردیا تھا اور سرزمین عرب کے عالم کفر کا حصہ تھے۔ جبکہ دوسرا جز اُن لوگوں کے مختلف گروہوں سے متعلق ہے جو اسلام کو بطور دین قبول کرچکے تھے۔

آیت 1 تا 37 میں اللہ تعالیٰ اسلام کو قبول نہ کرنے والے تین گروہوں کے حوالے سے اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ پہلا گروہ بنی اسماعیل کے مشرکین عرب کا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو دین شرک پر قائم تھے۔ نہ صرف عملاً شرک کرتے تھے بلکہ علانیہ یہ تسلیم کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کئی اور شرکا ہیں۔ ظاہر ہے یہ سنگین ترین بات ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین گستاخی ہے۔ چنانچہ سورت کا آغاز اسی گروہ کے ذکر کے ساتھ اور اس فیصلے کے ساتھ ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اعلانِ براء ت کردیا ہے۔ ان مشرکین کے ساتھ امن کے تمام معاہدات ختم۔ چار مہینے کی ایک مہلت ہے جس کے بعد مشرک جہاں پائے جائیں گے مارے جائیں گے، (آیت5)۔ ان کے کفر و سرکشی کی سزا یہ ہے کہ اللہ انھیں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دے گا، (آیت14) اور مشرکین مسجد حرام سے بے دخل کردیے جائیں گے، (28)۔

یہ دنیا میں کفار و مشرکین کے لیے عذاب کا فیصلہ ہے۔ جبکہ قرآن مجید کے دیگر مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سرکشوں کو قیامت کے دن زیادہ بڑا عذاب دیا جائے گا۔ یہ جہنم کی وہ ابدی سزا ہے جو ہمیشہ ان کا مقدر بن کر ان کے ساتھ رہے گی۔

اہل کتاب کے کفار کا انجام

آیت 29 سے اہل کتاب کے ان منکرین کی سزا کا اعلان شروع ہورہا ہے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کردیا تھا۔ اہل کتاب اپنے تمام تر کفر و شرک کے باوجود چونکہ زبان سے توحید کے مدعی تھے۔ اس لیے قرآن مجید نے مشرکین کے برعکس جن کے لیے سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا تھا، ان کو قدرے ہلکی سزا یہ دی کہ ان کو سزائے موت کے بجائے ذلت کی زندگی نصیب ہوگی۔ وہ ذلیل ہوکر جزیہ دیں گے اور اسی حال میں زندگی گزاریں گے۔

آیت 35 میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ان کے جرائم کی پاداش میں روزِ قیامت ان کے لیے بھی جہنم ہی کی سزا ہوگی۔ تاہم یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیا میں انہیں کفار کے قتل کے بالمقابل توحید سے زبانی وابستگی کی بنیاد پر کچھ ہلکی سزا دی گئی، اسی طرح روزِ قیامت کفار کے مقابلے میں ان کی سزا کچھ کم ہوگی۔ یہ توحید کی عظمت ہے کہ اس سے زبانی وابستگی بھی بدترین مجرموں کے لیے کچھ نہ کچھ آسانی کا باعث ہوگی۔ آئیے اسی بات پر ہم سب مل کر اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے آخری نبی اور رسول ہیں۔

مسلمانوں کا پہلا گروہ: منافقین
آیت نمبر 38 سے مسلمانوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے اور کفار کی مناسبت سے پہلے منافقین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ منافقین یوں تو اپنے انجام کے اعتبار سے کفار سے بھی بدتر جگہ پر ہوں گے، (ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار)، لیکن قانونی طور پر چونکہ وہ مسلمانوں کا حصہ ہیں اسی لیے ان کا ذکر مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے۔

جنگِ تبوک کے پس منظر میں سورۂ توبہ میں سب سے زیادہ تفصیل سے انھی منافقین کے احوال اور ان کے مختلف گروہوں کا معاملہ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مگر ان سے قبل اللہ تعالیٰ نے آیت 38 میں ضعیف مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے۔ یہ ہمارے جیسے وہ لوگ ہیں جو چار و ناچار مسلمان تو ہوتے ہیں، مگر جب کوئی سخت دینی مطالبہ سامنے آتا ہے تو اس پر لبیک کہنے کے بجائے دنیا کی محبت میںپیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کو وارننگ دی گئی ہے کہ اس رویے کا مطلب اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے اور دنیا میں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا کام کسی اور سے لے کر ان کو بھی منافقین میں لکھ لیں گے۔

پھر منافقین کا تفصیلی احوال بیان کرکے ان کا فیصلہ کردیا گیا۔ انہیں نام نہاد ہی سہی مگر اسلام کی بنا پر سزائے موت تو نہیں دی گئی، مگر بدترین ذلت، رسوائی اور عذاب کا فیصلہ ان کے لیے سنادیا گیا۔ سب سے پہلے انھیں معاشرے میں ایکسپوز کردیا گیا۔ اہل ایمان کو ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا،(73)۔ حضور کو منع کردیا گیا کہ انھیں آئندہ کسی جنگ میں ساتھ شرک کریں(83)۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ان میں سے کسی کے لیے استغفار کریں یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، (84)۔ پھر اس سلسلۂ بیان میں جگہ جگہ آخرت میں ان کے لیے بدترین عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔

مخلص مسلمانوں کے تین گروہ

آخر میں اللہ تعالیٰ نے مخلص مسلمانوں میں سے تین گروہوں کو لے کر ان کا معاملہ بیان کیا ہے۔ پہلا گروہ ’السابقون الاولون‘ مسلمانوں کا ہے۔ یہ ایمان اور عملِ صالح کے ہر مطالبے میں سبقت لے جانے والے مسلمانوں کا گروہ ہے۔ یہ مہاجرین و انصار اور ان کی بہترین اتباع کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو دنیا ہی کی زندگی میں اللہ کی رضا کا پروانہ اور جنت کی ابدی باشاہی کی نوید سنادی گئی(100)۔ ظاہر ہے کہ جب قیامت کا دن قائم ہوگا تو یہ نجات پانے والوں میں بھی سب سے پہلا گروہ ہوگا۔

دوسرا گروہ ان مسلمانوں کا ہے جن کا پیچھے ضعیف مسلمانوں کے عنوان سے ذکر آیا ہے۔ انھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ طبعاً سرکش لوگ نہ تھے بلکہ انسانی کمزوریوں کی بنا پر گناہ بھی کرتے تھے اور اپنی نیک طبیعت کی بنا پر اچھے اعمال بھی کرتے تھے۔ یوں ان کے نامۂ اعمال میں اچھے برے دونوں قسم کے اعمال تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی معافی اور مغفرت کی امید دلائی، (103)۔

میرا قیاس یہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ کی ایک بڑی تعداد اصل میں اسی جگہ کھڑی ہوئی ہے۔ ان کے پاس یہ راستہ کھلا ہوا ہے کہ وہ توبہ کرکے مکمل نیکی اور سابقین کی راہ اختیار کرلیں۔ وہ ایسا کرلیں گے تو کل قیامت کے دن ان سابقین ہی کے ساتھ ان کا انجام ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور یہ لوگ اپنی اسی ملی جلی حالت میں مرگئے یعنی ایسے حال میں کہ اچھے اعمال بھی ہیں اور برے اعمال بھی۔ اس طرح کہ نہ پوری طرح توبہ کی اور نہ سرکش ہوئے کہ بڑے بڑے گناہ کرتے پھریں۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں اس آیت کی روشنی میں گرچہ نجات کی امید کی جاسکتی ہے، لیکن ان کے بارے میں یہ اندیشہ بھی ہے کہ اللہ کے حضور پیشی سے قبل ان کے گناہوں کو جھاڑنے اور ان کا تزکیہ کرنے کے لیے انھیں میدانِ حشر کی سختیوں سے گزرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اُس روز کی معمولی سی سختی بھی اس دنیا کی ہزار سختیوں سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگی۔ میدانِ حشر کی ہزارہا برس کی مدت کا انتظار دنیا کی سو پچاس سال کی زندگی کا سارا نشہ ہرن کردے گا۔ جبکہ مخلص اہلِ ایمان تو قبر سے اس طرح اٹھیں گے کہ ہر قسم کی سختیوں سے بچاکر رحمت الٰہی کے سائے میں ہوں گے۔

تیسرا گروہ وہ ہے جو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کے عتاب کی زد میں آگیا تھا۔ یہ تین مخلص صحابی تھے جو جنگِ تبوک میں استطاعت کے باوجود شریک نہیں ہوئے تھے اور نہ ابتدا میں ان کی توبہ میں وہ شدت تھی جو گناہوں کی معافی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ ان کی معافی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا، لیکن جب انہوں نے صدقِ دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی معاف کردیا۔

قیامت کے دن یہ معاملہ اُن مخلص مسلمانوں کا ہوسکتا ہے جن کی نیکیاں اپنی جگہ لیکن ان سے بعض سنگین غلطیاں ہوچکی ہوں گی اور انھوں نے دنیا میں ان غلطیوں کی توبہ مطلوبہ طریقے پر نہیں کی ہوگی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ انہیں اللہ تعالیٰ بالکل نظر انداز کردیں گے۔ اور دوسرے گروہ کے برعکس ایک طویل عرصے کے لیے انھیں میدانِ حشر کے بدترین حالات بھگتنے کے لیے چھوڑدیا جائے گا۔ جس کے بعد ان کے اخلاص، ایمان اور نیکیوں کی بنا پر ان کی معافی کا امکان ہے، لیکن یہ ایک انتہائی سنگین رسک ہے جسے لینے کا کوئی سنجیدہ مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتا۔

اب ہم میں سے ہر شخص کی ذمے داری ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنی تصویر دیکھ لے کہ وہ اپنے عمل کے لحاظ سے کہاں کھڑا ہے۔ اس کا عمل اسے بتادے گا کہ کل قیامت کے دن بالکل متعین طور پر اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔ اس کے بعد اپنی فکر کرنا نہ کرنا اس کا اپنا کام ہے۔

جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِآزار نہیں، باعثِرحمت بن کر رہیے۔ اگلی ملاقات تک، اللہ نگہبان۔

Advertisements

One response to this post.

  1. May Allah Almighty bless u n ur family Rehan bhai. As u mentioned about the three groups of pious Muslims n their rewards n success on the day of judgement. According 2 ur article all the Muslims will ultimately go to heaven. Then can u kindly explain what is the reason that Muslims all over the world r disorganised n Allah Almighty is punishing them. Besides Muslims of the subcontinent r unwilling 2 come near to Allah Almighty n asking 4 forgiveness.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s