مصیبت ۔ صحیح احادیث کی روشنی میں


۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی کسی مصیبت کے آجانے کی وجہ سے موت کی تمنا اور خواہش نہ کرے اور اگر اسے ضرور ہی موت کی خواہش کرنا ہو تو کہے اے اللہ جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو مجھے وفات دے دے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2317)

۲۔حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی مصبیتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2081 )

۳۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2070 )

۴۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہںے کہ آنحضرت صلی اللہ علہک وآلہ وسلم مصبتک کے وقت یہ (دعا)
پڑھتے تھے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ)
یینِ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہںْ عرش عظمم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہںّ وہ آسمان اور زمنع کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔ (صححل بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2280 )

۵۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے کہ کیا تو فلاں عورت کو جانتی ہے اس نے کہا کہ ہاں، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر کے پاس سے گزرے اس وقت وہ ایک قبر کے رو رہی تھی، آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈر اور صبر کر، اس نے کہا کہ تو مجھ سے دور ہو اس لئے کہ تو میری مصیبت سے ناواقف ہے، آپ اس سے آگے بڑھ کر گزر گئے، اس عورت کے پاس سے ایک شخص گزرا اس نے پوچھا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا فرمایا، اس نے عورت نے کہا کہ میں نے ان کو پہچانا نہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، وہ عورت آپ کے دروازے پر پہنچی وہاں کوئی دربان نہ تھا، اس نے اندر جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کی قسم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صبر صدمہ کے شروع ہی میں کرنا چاہیے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2024)

۶۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ دوزخ شہوتوں سے ڈھانکی گئی ہے اور جنت مصیبتوں سے چھپی ہوئی ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1408)
۷۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا اس مصیبت کے وجہ سے نہ کرے، جو اسے پہنچی ہے اور اگر ایسا کرناضروری ہی سمجھے تو یہ کہے کہ اے اللہ! جب تک میرا زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے، اس وقت تک ہمیں زندہ رکھ اور اگر مرجانا میرے لئے بہتر ہے تو مجھے موت دے دے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 631)

۸۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 604)
۹۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کسی مومن آدمی کے جب بھی کوئی تکلیف یا ایذاء یا کوئی بیماری یا رنج یہاں تک کہ اگر اسے کوئی فکر ہی ہو تو اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2071)

۱۰۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہو جاتی ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1244)

۱۱۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے شہید کسے شمار کرتے ہو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے صحابہ نے عرض کیا پھر وہ کون ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اللہ کے راستہ میں مر گیا وہ بھی شہید ہے اور جو طاعون میں مرا وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مر گیا وہ بھی شہید ہے ابن مقسم نے اس حدیث میں یہ بھی کہا ڈوب کر مر جانے والا بھی شہید ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 444)

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by Tereem on 09/09/2011 at 11:34 شام

    I hadees say aik baat ka jawab mil gaya k jo sawal kia tha kisi nain tv walay say k kia jub koi rape krnay wala ho to kia aurat/larki khudkushi kr sakti hai……..Yay sawal meray zahan mein bhi tha aur jawab nai samajh aa raha tha is hadees say aa gaya………..K…….JUB MUSIBAT AAY TO MOT KI TAMMANNA YA KHUWAHISH HI KRNAY KI IJAZAT NAI TO PHIR KHUDKUSHI KI ZAROORAT NAI.

    جواب دیں

  2. May Allah Almighty give all Muslims patience in this way all will become successful n bearing of hardships. May Allah Almighty bless u.

    جواب دیں

  3. Posted by Atif Salman on 07/09/2011 at 12:13 شام

    JazakAllah Aqeel Sahab ! hum log museebaton pe agar sabar karain to yaqeenan Allah ki taraf se is me hamaray liay bari Jaza aur Bhalai chupi ha.

    جواب دیں

  4. جزاک اللہ خیرا

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s