امام صاحب کی آمدنی از مبشر نذیر


پاکستان میں مدارس کی بالعموم دو اقسام ہیں: ایک تجوید و قرآء ت اور حفظ کے مدارس اور دوسرے درس نظامی اور اعلیٰ دینی تعلیم کے مدارس۔ پہلی قسم کے مدارس کے فارغ التحصیل قرا ء اور حفاظ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد عموماً کسی مسجد میں امام یا موذن کی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی حفظ یا تجوید کے مدرسے میں بطور معلم خدمات انجام دیتے ہیں۔ آج کل یہ حضرات اپنی آمدنی میں کچھ اضافہ کرنے کے لئے ہوم ٹیوشنز پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے بے شمار مدارس کا ایک جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کامکمل کیریئر بس یہی ہوتا ہے اور وہ اسی سے حاصل ہونے والی قلیل آمدنی سے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔
دینی تعلیم کے کورس کو درس نظامی کہا جاتا ہے۔ یہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور کے ایک ماہر تعلیم ملا نظام الدین کا ترتیب دیا ہوا نصاب ہے جو تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس میں بالعموم رائج ہے۔ اس دور میں یہ نصاب حکومت کی سول سروس کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ وقت کی ضرورت کے پیش نظر اس میں چند معمولی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے نصاب کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے ہیں جس کے تحت بعض جدید علوم کو بھی دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
ان مدارس کے فارغ التحصیل علماء عموماً مساجد میں امام یا خطیب کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو افراد اچھی تقریر کرنا جانتے ہیں وہ جمعے کی نماز کی خطابت کے علاوہ جلسوں وغیرہ میں تقاریر کرکے بھی کچھ رقم کما لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے جو علمی اعتبار سے مستحکم ہوتے ہیں، وہ کسی مدرسے میں بطور معلم ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمارے عام سکولوں کے نصاب میں بھی عربی پڑھائی جاتی ہے، اس وجہ سے بعض علماء جدید تعلیمی اداروں میں بھی بطور عربی اور اسلامیات کے معلم کے خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعض ایسے حضرات جنہیں مالی امداد کرنے والے دوست اور ساتھی مل جائیں ، عموماً اپنا دینی مدرسہ کھول لیتے ہیں۔ یہ حضرات معاشی اعتبار سے سب سے بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔
اگر دینی تعلیم و تعلم کو کوئی بطور کیریئر اختیار کرنا چاہے تو اس میں اس کے لئے دنیاوی اعتبار سے کوئی خاص کشش موجود نہیں ہے۔ 2003 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق حفظ و قراۃ کے مدارس کے ایک عام معلم کی تنخواہ 2500 سے لے کر 6000 روپے تک ہوتی ہے۔ مدارس کے ائمہ کی تنخواہیں بھی اسی رینج میں ہوتی ہیں جبکہ مساجد کے موذن اور خادم حضرات کو 1500 سے 3000 روپے تک ادا کئے جاتے ہیں۔ درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء بطور خطیب تقریباً 4000 سے 8000 روپے تک تنخواہ پاتے ہیں اور مدارس میں بطور معلم بھی زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھی بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عام لوگ مساجد اور مدارس کو اچھی خاصی رقم بطور چندہ ادا کرتے ہیں۔
چھوٹے شہروں اور دیہات میں یہ رقوم اور بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک امام مسجد اپنی تمام تر کاوشوں کے بعد بڑی مشکل سے زیادہ سے زیادہ پانچ چھ ہزار روپے اور خطیب زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار روپے کما پاتا ہے۔ جو حضرات اپنے مدرسے قائم کر لیتے ہیں، وہ نسبتاً بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔ افراط زر کے ساتھ ساتھ ان ائمہ و خطباء کی تنخواہوں میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔گویا جس تنخواہ پر ایک امام یا خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرتا ہے، تقریباً اتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ پر اس کے کیریئر کا اختتام ہوتا ہے۔
یہ بھی غنیمت ہے کہ عموماً مساجد کے ساتھ امام و موذن کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے یوٹیلیٹی بلز وغیرہ ادا کردیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس رقم سے یہ حضرات جس درجے کا معیار زندگی حاصل کر سکتے ہیں، اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ فل ٹائم خدمت کے طور پر اسے اختیار نہیں کرتا۔ اس طبقے میں جو لوگ دین کا درد رکھتے ہیں، وہ اپنی معاش کے لئے کوئی اور انتظام کرتے ہیں اور دینی خدمات کو پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر انجام دیتے ہیں۔
مساجد کی اکثریت کا نظام انتظامیہ کمیٹیوں کے تحت چلتا ہے۔ بہت سے مساجد کی کمیٹیاں بھی ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو شاذ ونادر ہی مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں۔ بہت مرتبہ ان لوگوں کا رویہ امام مسجد سے حقارت آمیز ہوتا ہے اور یہ انہیں ذاتی ملازم سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام و خطیب کے انتخاب اور احتساب کا فریضہ وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو علوم دینیہ کی ابجدبھی واقف نہیں ہوتے۔
یہی وجہ ہے کہ امام و خطیب کو مسجد میں انتظامیہ اور نمازیوں کی منشا اور مرضی کے مطابق ہی بات کرنا پڑتی ہے اور اسے مکمل طور پر آزادی رائے حاصل نہیں ہوتی۔ کھل کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا بھی اکثر اوقات ان کے لئے خاصا مشکل ہوجاتا ہے جو ان کی اصل ذمہ داری ہے۔ ان سب کے علاوہ مساجد کی تزئین اور آرائش پر تو لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور لوگ بھی اس میں دل کھول کر چندہ دیتے ہیں لیکن اس زندہ وجود کی کسی کو خبر نہیں ہوتی جو اس مسجد کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مساجد کی تزئین و آرائش میں اسراف کی حد تک خرچ کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا لیکن اس انسان کا کوئی خیال نہیں کرتا جسے اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ اگر مساجد کی کمیٹیوں کے عہدے دار اپنے اپنے ائمہ مساجد کے گھروں میں جاکر ان کے معیار زندگی کا اندازہ لگائیں تو وہ خود کبھی بھی ایسی زندگی گزارنا پسند نہ کریں۔
ملک بھر میں چھوٹے بڑے مدارس کا اتنا بڑا جال پھیلا ہوا ہے کہ اس سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اتنی بڑی تعداد میں نہ تو مساجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور نہ ہی نئے مدارس وجود میں آ رہے ہیں۔ مدارس کے ذہین طلباء عموماً دین پر ریسرچ کا ذوق رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں دین پر ریسرچ کی جارہی ہو۔ ان حالات کے پیش نظر اس طبقے میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل سوچنا نہ صرف ارباب حکومت کا کام ہے بلکہ مدارس کے منتظمین اور علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر خوب غور و خوض کرکے اس کا کوئی حل نکال سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مسائل دوہرے نظام تعلیم کی پیداوار ہیں۔ مسلم ممالک پر اہل مغرب کے قبضے سے پہلے یہ صورتحال تھی کہ ایک ہی نظام تعلیم تھا جس میں تمام طالب علم تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اس میں دینی و دنیاوی کی کوئی تفریق نہ تھی۔ مدارس کے تعلیم یافتہ علماء ہی اپنی اہلیت کے مطابق بیوروکریسی، تعلیم، تجارت اور دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دیا کرتے۔
اہل مغرب کے سیکولر ازم نے دوہرے نظام تعلیم کو جنم دیا جس کے مطابق دینی مدارس کے تعلیم یافتہ دنیاوی ذمہ داریوں کے لئے نااہل تھے اور دنیاوی علوم کے ماہرین کا دین سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہ ہوتا تھا۔ پاکستان کی کئی حکومتوں نے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں مدارس کی سند کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مدارس کے تعلیم یافتہ بھی سرکاری نوکریوں کے لئے اہل قرار پا گئے ہیں۔ اسی طرح مدارس کے نصاب میں جدید علوم اور کمپیوٹر کی تعلیم کو شامل کرلیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود ان معاشی مسائل پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
ہمارے خیال میں مندرجہ ذیل تجاویز کے ذریعے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ طبقے کے معاشی مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور انہیں بھی زندگی کی خوشیوں میں شریک کیا جاسکتا ہے:
۱۔دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا ہنر بھی سکھایا جائے جس میں وہ اپنی روزی کماسکیں۔ یہ تجویز بہت پہلے دی جاچکی ہے لیکن اسے بہت سے علماء نے رد کردیا۔ ایک عالم دین کے مطابق ، اگر ایک امام مسجد یا خطیب معاشرے کے لئے اپنی فل ٹائم خدمات انجام دیتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کا یہ نقطہ نظر اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن اگر معاشرہ اپنی اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام نہیں دے رہا تو پھر مدارس کے طلباء ہی کو اپنے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔ اگر مدارس میں اس طرز کی کسی تعلیم وتربیت کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا تو طلباء کو چاہئے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی اپنے طور پر کوئی ہنر سیکھ کر اپنے کیریئر بنانے کے لئے کچھ اقدام کریں۔ ہمارے ہاں عام لوگوں کی طرح دینی طلباء میں بھی محنت اور ہاتھ سے کام کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور اس سے اغماض برتا جاتا ہے۔جو شخص بھی دین کا تھوڑا بہت علم رکھتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ اکثرجلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محنت مزدوری کیا کرتے تھے ۔ کوئی کپڑے سیتا، کوئی گوشت بیچتا، کوئی جوتے مرمت کرتا، کوئی لوہے کا کام کرتا، کوئی قبریں تیار کرتا، کوئی گھوڑوں کی پرورش کرتا اور کوئی کھیتوں اور باغات میں کام کرتا۔ سیدنا ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما تجارت کرتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ باغات میں مزدوری کرکے اپنی روزی کماتے۔ ان حضرات میں ایسا کوئی کمپلیکس نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی پیشہ گھٹیا ہے۔ اہل عرب میں اب تک تما م پیشوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصورات ہم میں برصغیر کے مخصوص جاگیر دارانہ ماحول کے زیر اثر آئے ہیں جہاں محنت کشوں کو تیسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔
۲۔امام، خطیب اور موذن کو مساجد کی انتظامیہ میں اہم مقام دیا جائے اور ان کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ مساجد کو حاصل ہونے والے چندے کی رقم کے زیادہ تر حصے کو غیر ضروری تعمیرات پر خرچ کرنے کی بجائے مستحق انسانوں پر خرچ کیا جائے۔ ان مستحقین میں مسجد کے اردگرد رہنے والے مساکین، بیواؤں اور یتیموں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ انشاء اللہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ ملے گا اور مسجد کے اہم ترین ادارے کو بھی ایک فلاحی مرکز کے طور پر معاشرے میں لایا جاسکے گا۔
۳۔اعلیٰ تعلیم دینے والے مدارس کے نصاب میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں تاکہ ان کے فارغ التحصیل طلباء معاشرے سے کٹنے کی بجائے اس کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے والے بنیں۔
۴۔مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا بھرپور اہتمام کیا جائے اور طلباء میں پوری طرح اخلاقی شعور بیدار کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ دوسروں کو دین کی دعوت دیں لیکن ان کی اپنی اخلاقی حالت عام لوگوں سے بھی زیادہ خراب ہو۔ اس معاملے میں حفظ و قراۃ کے مدارس خاص توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ آج کل ان کے طلباء بہت زیادہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ معلمین کی جانب سے توجہ کی کمی ہے۔
از مبشر نذیر
Extracted from http://www.mubashirnazir.org

Advertisements

13 responses to this post.

  1. Posted by Waheed Hussain on 19/09/2011 at 1:18 صبح

    Sorry dont know how to type in urdu but the following explains it a lot better

    http://emanekhalis.com/din/din.htm

    It also explains the hadith mentioned above

    جواب دیں

  2. Posted by adeem on 18/09/2011 at 7:36 شام

    پہلی بات تو یہ کہ قرآن سکھا کر کتنی آمدن ھوتی ھے، کم یا زیادہ یہ بات تو ھم تب زیرِ بحث لائیں جب قران کو ذریعہ معاش بنانا خود قران یا صحیح حدیث سے ثابت ھو جائے۔ باقی اگر دیکھا جائے تو اگر کسی امام، حافظ یا موذن کی آمدن قلیل ھوتی ھے تو کچھ کی بہت زیادہ جیسا کے طاھر قادری صاحب یا ان جیسے بہت سے جنہیں ھم دن رات ٹی وی دیکھتے ھیں۔ یہ تو پھر اپنی اپنی پروفیشنل اپروچ ، قسمت یا کی بات ھے جیسے کہ ھم دیکھتے ھیں کے ایک شخص وکالت یا ڈاکٹری پاس کر کے بھی دھکے کھاتا ھے اور دوسرا یہی ڈگریاں لے کر کروڑوں کماتا ھے ۔ لیکن یہ بحث تو ھم تب کریں جب دین کو ذریعہ معاش بنانا انبیاء یا صحابہ سے ثابت ھو- ویسے بھی آج کی امت میں یوں دین کو پیشہ بنانا صرف پاکستان جیسے غریب ملکوں میں نہیں بلکہ دنیا کے ھر ملک میں اور امیر مسلم ممالک میں بھی یہی حال ھے- نتیجہ یہ کہ جیسے دیگر مذاھب میں ھمیں راھب و پنڈت ملتے ھیں ویسے ھی ھمارے ھاں مولوی اور امام ھیں۔ لیکن دین جب معاش کا ذریعہ بن جائے تو اسکا سب سے بڑا نقصان تو یہ ھوتا ھے کہ انسان کے ذاتی مفادات ترجیح بن جاتے ھیں، یہی تمام بڑے مذاھب کے ساتھ ھوا اور یہی آج دین اسلام کا بھی حال ھے۔

    آپ نے اھل مغرب کی مثال دی پر وہاں بھی یہی ھوا کہ انکے دینی پیشوائوں نے اپنے لالچ میں لوگوں کو دین سے مکمل طور پر دور کر دیا اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان خود ھی خدا بن کر بیٹھ گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ دین سےبھاگ گئے اور پھر انہیں جونہی موقع ملا انہوں نے دین کے ان ٹھیکیداروں کو انکے تمام مال و دولت کے ساتھ انکے کلیسائوں میں بند کر کے اپنے اپنے ملکوں میں سیکولرازم نافذ کر دیا۔ لہذا یہ دوہرا نظام بھی ان دین کے دکانداروں کی اپنی زیادتیوں کی وجہ سے عمل میں آیا۔

    سو جب تک دین سیکھنا اور سکھانا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی طرح ایک رضاکارانہ اور ذاتی کوشش پر مبنی کام رھا اسلامی معاشرہ بالعموم اسلام سے نزدیک رھا اور علم سیکھنے اور دین کو سمجھنے کا رحجان بھی اس میں باقی رھا پر جب یہ کاروبار بن گیا تو لوگ بھی دین سے بھاگ گئے- ویسے بھی جب آپکو پیسوں کے عوض جب اپنی مرضی کا فتوٰی مل جائے جو آپکے ھر قبیح عمل کو جائز کر دے تو آپکو خود دین جاننے کی کیا ضرورت ھے؟ بس مولوی صاحب کو پیسے دیئے اور سود پر گھر بنانے کی اجازت کا فتوٰی لے لیا، ایسی بے شمار مثالیں ھمارے اردگرد بکھری پڑی ھیں۔ لیکن اگر یہی مولوی آپ سے اجرت لینے کی بجائے اگر حقیقی معنوں میں اللہ سے اجر کا طالب ھو تو معاشرے میں اس کی عزت بھی ھو گی اور آخرت میں حصہ بھی ملے گا-

    لہذا ھمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ھے کہ کیا اسلام میں اس سب کی اجازت بھی ھے یا نہیں یا ایسی کوئی مثال ملتی ھے؟

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s