حکمران –احادیث کی روشنی میں


۱۔عبداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے آئے ان کا حال پوچھا حضرت معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابھی تک بیان نہیں کی وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جسے لوگوں کا حکمران بناتا ہے اور پھر وہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے مرتا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے، ابن زیادہ کہنے لگا کیا تم مجھ سے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں بیان کر چکے؟ حضرت معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے تجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی یا یہ فرمایا کہ میں تجھے اس سے پہلے یہ حدیث بیان نہیں کر سکا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 364)
۲۔ ابی ملیح سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس آیا تو اس سے حضرت معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں کہ اگر میں مرنے والا نہ ہوتا تو میں تجھ سے وہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مسلمانوں کا حکمران ہو اور پھر ان کی بھلائی کے لئے جدوجہد نہ کرے اور خلوص نیت سے ان کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 366)
۳۔حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں اور تم ان کے جنازے میں شرکت کرتے ہو اور وہ تمہارے جنازوں میں شرکت کریں اور تمہارے بدترین حکمرانوں میں سے وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں تم ان پر لعنت کرنے والے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اس وقت انہیں معزول نہ کردیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں آگاہ رہو جس شخص کو کسی پر حاکم بنایا گیا پر انہوں نے اس میں ایسی چیز دیکھی جو اللہ کی نافرمانی ہو تو وہ اللہ کی معصیت ونافرمانی والے عمل کو ناپسند کریں اور اس کی فرمانبرداری سے اپنا ہاتھ نہ کھینچیں۔( صیحے مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 308)
۴۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت میں پندرہ خصلیتں آجائیں گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا جب مال غنیمت ذاتی دولت بن جائے گی امانت کو لوگ مال غنیمت سمجھنے لگیں گے زکوة کو جرمانہ سمجھا جائے گا شوہر بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا دوستوں کے ساتھ بھلائی اور باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرے گا مسجد میں لوگ زور زور سے باتیں کریں گے ذلیل قسم کے لوگ حکمران بن جائیں گے کسی شخص کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے جائے گی شراب پی جائے گی ریشمی کپڑا پہنا جائے گا گانے بجانے والیاں لڑکیاں اور گانے کا سامان گھروں میں رکھا جائے گا اور امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے پس اس وقت لوگ عذابوں کے منتظر رہیں یا تو سرخ آندھی یا خسف یا پھر چہرے مسخ ہو جانے والا عذاب یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ہمیں علم نہیں کہ اسے فرخ بن فضالہ کے علاوہ کسی اور نے یحیی بن سعید سے نقل کیا بعض محدثین فرخ کو انکے حافظے کی وجہ سے ضعیف قرار دیتے ہیں وکیع اور کئی آئمہ ان سے احادیث نقل کرتے ہیں۔( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 89)

Advertisements

One response to this post.

  1. Sir your article is good n may Allah Almighty bless you. This is exactly what is happening in Pakistan particularly n generally in the whole of Muslim world.I pray to Allah Almighty that good rulers are selected n they implement law n equality according to Islam.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s