کامران خان اور مولانا طارق جمیل کی گفتگو


۱۴ ستمبر ۲۰۱۱ کو جیو ٹی پر کامران خان نے مولانا طارق جمیل سے اپنے پروگرام میں گفتگو کی ۔ انہوں نے مولانا سے دریافت کیا کہ پاکستان میں جو ایک عمومی تباہی آئی ہوئی ہے تو کیا یہ اللہ کا عذاب ہے اور اگر ہے تو اس کا کیا علاج ہے؟۔ اس کے جواب میں مولانا طارق جمیل نے ترمذی شریف کی مندرجہ ذیل حدیث سنائی۔
” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت میں پندرہ خصلیتں آجائیں گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا جب مال غنیمت ذاتی دولت بن جائے گی ،امانت کو لوگ مال غنیمت سمجھنے لگیں گے ،زکوٰة کو جرمانہ سمجھا جائے گا ،شوہر بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے گا ،دوستوں کے ساتھ بھلائی اور باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرے گا، مسجد میں لوگ زور زور سے باتیں کریں گے، ذلیل قسم کے لوگ حکمران بن جائیں گے کسی شخص کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے جائے گی ،شراب پی جائے گی ،ریشمی کپڑا پہنا جائے گا ،گانے بجانے والیاں لڑکیاں اور گانے کا سامان گھروں میں رکھا جائے گا اور امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے پس اس وقت لوگ عذابوں کے منتظر رہیں یا تو سرخ آندھی یا خسف یا پھر چہرے مسخ ہو جانے والا عذاب ( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 89)”
یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف اور غریب ہے لیکن موضوع کے لحاظ سے پاکستان کے حالات سے قریب تر ہے۔ کامران خان نے پوچھا کہ یہ عذاب زیادہ تر غریبوں پر کیوں آتا ہے جبکہ اس کے اصل مجرم تو حکمران اور ادارے ہیں۔ تو انہوں نے فرما یا کہ جب عذاب آتا ہے تو ہر خاص و عام اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے لیکن مظلوموں کو آخرت میں اس کا اجر مل جائے گا۔ آخر میں کامران خان نے دریافت کیا کہ مسلمانوں کو اجتماعی توبہ کرنے کے لئے کوئی مخصوص دعا یا استغفار بتائیں تو مولانا نے بڑی خوبصور ت با ت کہی کہ توبہ دل کی ندامت کا نام ہے ۔بس آدمی اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہیں۔
میں البتہ اس میں ایک بات کا اضافہ کرنے کی جسارت کروں گا جو مولانا شاید وقت کی کمی کی وجہ سے بیان نہ کرپائے۔ توبہ کا مطلب اللہ کی جانب پلٹنا ، اس کے ممکنہ ازالے کی کوشش کرنا اوردوبارہ اس گناہ سے بچنے کا مصمم ارادہ کرنا ہے۔ چنانچہ وہ توبہ توبہ ہی نہیں جس میں صرف زبانی استغفار ہو اور عمل نہ ہو۔ مثال کے طور پر سیلاب کی وجہ سے جو تباہی آئی اس میں ضلعی انتظامیہ، وڈیرے اور حکومتی ادارے ہی ذمے دار نظر آتے ہیں ۔ اگر ان اداروں سے وابستہ افراد محض زبان سے توبہ استغفار کردیں اور اپنے روئیے کی اصلاح نہ کریں تو محض زبان سے توبہ کافی نہیں اور نہ ہی اس سے کسی اصلاح کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے گذشتہ سال سیلاب نے تباہی مچائی اور اس سال بھی یہی ہوا۔
چنانچہ کئی سالوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ، ڈنگی وائرس کی پھیلاؤ ، غربت ، بدامنی اور دیگر تباہ کاریوں کے عذاب سے بچنے کے لئے زبانی اور عملی دونوں پہلوؤں سے توبہ کی ضرورت ہے ۔ایک شخص اگر سمند ر کے پانی میں اتر کر ڈوبے لگتا ہے تو وہ صرف زبان ہی سے پانی کے قریب نہ جانے کا اعلان نہیں کرتا بلکہ اس سے دور رہنے کے لئے وہ عملی اقدامات بھی کرتا ہے۔ یہی معاملہ اجتماعی خرابیوں کا بھی ہے۔ اگر عملی طور پر تو بہ نہ کی گئی تو معاملات یونہی بگڑتے رہیں گے اور تباہی اسی طرح ہمارے سروں پر مسلط رہے گی۔

از پروفیسر محمد عقیل
Click the following link to read a comprehensive Paper on TAUBA
https://aqilkhans.files.wordpress.com/2011/06/tauba.pdf

Advertisements

9 responses to this post.

  1. مولانا صاحب میری بہن بیمار ہے ان کیلۓ دعا کر دیں اللہ اسے صحت دے.

    جواب

  2. Real Hyder صاحب نے اپنے ایک ارٹیکل مییں ڈینگی اور زلزلے وغیرہ کو ہمارے خلاف FIR لکھا ہے بلکے ثامت کیا ہے۔ میں آرتیکل کا لنک دیتا ہوں۔
    http://pakyoungers.com/earthquake-rain-and-dengue-is-an-fir-against-us

    جواب

  3. Posted by Hassan Shabbir on 21/09/2011 at 1:03 صبح

    Allah maolana Tariq Jameel Sahab ko jza ataa fermay k aap nee iss qaoum ke asal kamzori ko benqaab kia

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s