اللہ کی صفات سے متعلق غلط تصورات اور انکی تصحیح


۱۔صفات شفقت و محبت سے متعلق غلط تصورات
اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی شفقت اور محبت سے متعلق جو غلط فہمیاں اور غلط تصورات پائے جاتے ہیں ان کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ کچھ لوگ اللہ کی محبت اور شفقت کا غلط مفہوم لیتے ہوئے غلو کا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ خدا جو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے وہ کس طرح انہیں جہنم میں ڈا ل سکتا ہے۔چنانچہ وہ اللہ کی رحم دلی کا لازمی نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے خواہ وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار، فاسق و فاجر یا مشرک و کافر کیوں نہ ہو۔
اگر اس غلو کا جائزہ لیا جائے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ انتہاِئی مہربان اور رحم دل ہے ۔لیکن جب ایک بچہ کسی ظلم کامرتکب ہوتا ہے تو باپ اسے تربیت دینے کے لئے اسکی تادیب کرتا اور سختی سے پیش آتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل اپنی روش برقرار رکھے تو باپ اسے تنبیہ اور وارننگ سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ لیکن جب اس کا ظلم انتہا پر پہنچ کر ناقابل اصلاح ہوجائے تو اب باپ اس ناہنجار فرزند سے قطع تعلق کرلیتا اور موقع ملنے پر اسے سخت سے سخت سزا دیتا ہے تاکہ فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں تمیز ہوسکے۔غور کیجئے کہ اگر باپ اپنی نام نہاد نرم دلی نبھانے میں انصاف کے تقاضے پورا کرنے سے قاصر ہو تو یہ محبت و شفقت نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے۔چنانچہ رحم دل ہونا اپنے موقع اور محل کے لحاظ سے ایک موزوں صفت ہے لیکن اگر یہ نرم دلی عدل و انصاف کے تقاضے پورا کرنے اورسرکشی کے استیصال میں آڑے آئے تو یہ ایک عیب ہے اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔چنانچہ محبت و شفقت کا مطلب گھوڑے گدھے برابر کردینا اور عدل و انصاف کو پس پشت ڈال دینا ہرگز نہیں ہے۔
۲۔ عفو و درگذر سے متعلق غلط تصورات
ایک غلط تصور اس ضمن میں یہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تو بڑے غفور اور رحیم ہیں ۔ اس بنا پر لوگ گناہوں سے معافی مانگنے میں تاخیر اور گناہ پر گناہ کئے جاتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ توبہ اور مغفرت کا ایک قاعدہ اور قانون ہے۔ یہ کوئی مطلق اور عام معافی کا اعلان نہیں کہ جو کچھ بھی کرو سب معاف ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت عدل و انصاف کے تقاضوں ہی کے تحت ہوتی ہے۔
۳۔ ہدایت کے بارے میں غلط فہمیاں
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب کئی جگہوں پر استعال ہوا ہے ۔لیکن اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ یہ ہدایت و گمراہی الل ٹپ نہیں بلکہ ایک ضابطے کے تحت ہے اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ ہدایت کے متلاشی کو راہ دکھائی جاتی ہے اور اس سے منہ موڑنے والے سرکشوں اور فاسقوں پر اس کا دروازہ تدریجاََ بند کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ دلوں پر مہر لگ جاتی ہے ۔
۴۔ قدرت کے بارے میں غلط فہمیاں
ماضی میں اشاعرہ اور معتزلہ کے درمیان بڑی معرکہ آرائی رہی ہے کہ اللہ کی قدرت اور عدل کے درمیان کیا توازن ہے؟۔ اشاعرہ کا کہنا تھا کہ اللہ چونکہ قادر مطلق ہیں چنانچہ وہ اگر چاہیں تو ابو جہل کو جنت میں ڈال سکتے ہیں اور چاہیں تو کسی نیک بندے کو جہنم میں ڈال دیں۔ دوسری جانب معتزلہ کا کہنا تھا کہ اللہ چونکہ عادل ہیں اس لئے وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو دونوں نقطہ نظر کی پریزینٹیشن درست نہیں اور یہ کامن سینس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ایک بیٹا اپنے باپ سے کہے ” ابو آپ تو بہت طاقتور ہیں تو کیا آپ اس طاقت کے اظہار کے لئے میری ماں کو پنکھے سے لٹکا سکتے ہیں ؟ ” اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو فی الواقع یہ باپ کی طاقت کا امتحان نہیں بلکہ اس کے صحیح الدماغ ہونے کا ٹیسٹ ہے۔ظاہر ہے یہ سوال ایک بچہ تو کر سکتا ہے لیکن ایک باشعور انسان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ لہٰذا جہاں تک قدرت اور عدل کی فوقیت کا تعلق ہے تو قدرت ہو یا عدل ، دونوں ہی صفات میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کار فرما رہتی ہے۔چنانچہ اس کے بارے میں بحث سے قبل اتنا ضرور سوچ لینا چاہئے کہ ہم کس حکیم اور دانا ہستی کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں؟
۵۔ علم الٰہی سے متعلق غلط تصورات
علم الٰہی سے متعلق کچھ غلط تصورات کی وضاحت ضروری ہے۔کچھ فلسفی جن میں افلاطون شامل ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ جزیات کا علم نہیں رکھتا بلکہ کلیات کا علم رکھتا ہے۔یعنی اللہ کو یہ تو علم ہے کہ کائنات کیا ہے زمین ، سیارے، چاند سورج اور ستارے کیسے ہیں لیکن نعوذباللہ اللہ تعالٰی یہ نہیں جانتے کہ ایک درخت میں کتنے پتے ہیں یا بارش کے قطرے کدھر گریں گے وغیرہ۔ قرآن اس تصور کی نفی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے علم کی کاملیت پر دلالت کرتا ہے کہ ایک پتہ کدھر گرے گا، بارش کب ہوگی، ماں کے پیٹ میں کیا ہے وغیرہ ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کام جزیات کے ساتھ جانتے ہیں۔
علم الٰہی کے بارے میں ایک غلط فہمی اس کا انسانی علم سے موازنہ کرنا ہے۔انسان کے دیکھنے اور سننے کی ایک حد ہے یعنی وہ ایک مخصوص فاصلے تک چیزیں دیکھ سکتا اور ایک حد سے زیادہ فریکوئنسی کی آواز نہیں سن سکتا۔اللہ اس عیب سے پاک ہیں۔ اسی طرح انسان کی یاداشت میں جوں جوں نئی چیزیں آتی ہیں تو پرانی چیزیں محو ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ بیک وقت اربوں کھربوں مخلوقات کا علم رکھتے، اسکی جزیات تک کو جانتے اور اسے دوبارہ پیش کرنے پر قادر ہیں۔
۶۔حکمت الٰہی سے متعلق غلط تصورات۔
اسی طرح زیادہ تر غلط فہمیاں اللہ کی صفت حکمت نہ سمجھنے کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اللہ کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔ کچھ حکمتیں تو اللہ اس دنیا میں ظاہر کردیتے ہیں لیکن اکثر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ چنانچہ جب ایک شخص اس دنیا میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہوتا دیکھتا ہے تو وہ اللہ کی صفت عدل پر اعتراض کرتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں ظالم کو ایک حد تک مہلت دینا اسی حکمت کے تحت ہے کہ امتحان کی اس دنیا میں ظالم کو ایک حد تک چھوٹ دی جائے۔
اس حکمت پر کچھ اشارات سور ہ کہف میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کے قصے میں دئیے گئے ہیں ۔چنانچہ حکمت اگر سمجھ میں آجائے تو بہتر وگرنہ اس پر اجمالی اطمینان ہی کافی ہے۔
۷۔ خلاقی سے متعلق غلط فہمیاں:
اس صفت سے متعلق بالعموم ایک اشکال ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ تو بہترین تخلیق کرنے والے ہیں تو پھر معذوروں اور بدصورتوں کی پیدائش میں کیا راز پوشیدہ ہے۔ دیگر صفات کی طرح اس میں بھی ایک حکمت کا پہلو ہے ۔ خوبصورتی ، تن درستی اور اعضاء کا تناسب ایک اضافی اورموازنے والی صفت ہے چنانچہ خوبصورتی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب اس کے مقابلے میں کوئی بدصورت شے ہو یا اعضاء کا تناسب اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب اجزا ءبے ترتیب یا نامکمل حالت میں پائے جاتے ہوں۔ چنانچہ خوبصورتی کے احساس کو نمایاں کرنے کے لئے اللہ نے بدصورتی کو تخلیق کیا ہے ۔ یعنی بے ترتیبی کی تخلیق کوئی عیب نہیں بلکہ یہ حکمت پر مبنی ہے۔
۸۔ربوبیت سے متعلق غلط فہمی
رزق کا مفہوم صرف کھانے پینے کی چیزیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں زندگی کی تمام مادی اور روحانی وسائل جو کسی شخصیت کی حیات کے لئے کافی ہیں وہ اس میں شامل ہیں۔اس میں کھانے پینے کی چیزیں، دھوپ، آکسیجن وغیرہ سب شامل ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ رازق ہیں چنانچہ اب انسان کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔رازق کا مطلب ہے عطا کرنے والا۔ چنانچہ اس عطا کرنے کا ایک ضابطہ مقرر کیا ہوا ہے۔ اس ضابطے میں دو چیزوں کی آمیزش ہے۔ پہلی اللہ کی مشیت و حکمت اور دوسرا اسباب کا استعمال۔ اس میں فوقیت تو اللہ کی مشیت اور حکمت ہی کو ہے لیکن اگر کسی روزی کے کمانے کے لئے اسباب کا استعما ل لازم ہے تو یہ شرط بھی پوری ہونی چاہئے۔مثال کے طور پر ایک دو ماہ کا بچہ اپنے لئے غذا کا خود بندوبست نہیں کرسکتا چنانچہ اس کے اسباب ماں اور باپ کی صورت میں اللہ نے خود فراہم کردئیے ہیں یہاں تک کہ ماں غذا کو بچے کے پیٹ تک پہنچاتی ہے۔ دوسری جانب یہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اب اسباب کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے غذا کے حصول کے لئے اس تک ہاتھ بڑھانا، اسے چبانا اور حلق تک خود اتارنا ہوتا ہے۔ جب وہ مزید بڑا ہو کر ماں باپ کے معاشی سہارے سے محروم ہوجاتا ہے تو رقم کے بندوبست کے لئے اسے ہی بھاگ دوڑ کرنی ہوتی ہے ۔ اگر وہ گھر پر بیٹھ جائے اور اس دو ماہ کے بچے کی طرح غذا کو منہ تک پہنچانے کی ذمہ داری اللہ کو سونپ دے تو وہ اصل میں اللہ کے رزق دینے کے نظام کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ البتہ وہ معاملات جو اس کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتے اور اسباب کی فراہمی کا خود بندوبست کرتے ہیں۔
اس بحث میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ اگر اللہ رازق ہیں تو پھر لوگ بھوک سے کیوں مر جاتے ہیں؟ بے شک رزق کی فراہمی اللہ کے ذمے ہے لیکن اگر اللہ کی مشیت اور حکمت یہ ہے کہ امیر لوگوں یا قوموں کو آزمائے کہ وہ کس طرح غربت اور افلاس سے دم توڑتے لوگوں کو سے پیش آتے ہیں۔ آیا وہ انہیں مرنے دیتے ہیں یا آگے بڑھ کر انکی بھوک کو مٹانے کے اجتماعی اقدامات کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں اللہ رزق کے وسائل امرا ء کو دے کر انہیں آزماتے ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اللہ جس کو چاہتے ہیں بے حساب رزق دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں نپا تلا رزق دیتے ہیں۔ یہاں بیان سے یوں لگتا ہے کہ یہ تقسیم بلا کسی ضابطے اور قانون کے ہے۔ قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں۔ رزق کی فراہمی کا ایک ضابطہ ہے اور یہ ضابطہ اللہ کی مشیت، حکمت،آزمائش کی اسکیم وغیرہ پر منحصر ہوتا ہے۔
۹۔ توحید کے بارے میں غلط فہمیاں
سب سے زیادہ غلط تصورات اسی صفت کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔ اس صفت کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ کو ایک ، یکتا، تنہا جانے اور مانے۔ لیکن انسان کبھی اللہ کے شریک بنا بیٹھا ، کبھی اسکی اولاد بنالی ، کبھی اسے دنیاوی بادشاہوں پر محمول کرکے اس کے مقربین اپنی طرف سے فرض کرلئے تاکہ وہ اللہ کے حضور لوگو ں کی سفارش کرسکیں۔ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ فرض شدہ شریک نمایاں ہوتے چلے گئے اور اللہ کی ذات پس پشت جاتی رہی۔اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ماننے پر زور نہیں دیا بلکہ اسے تنہا ماننے پر زور دیا۔
پروفیسر محمد عقیل
http://aqilkhans.wprdpress.com
aqilkhans@gmail.com

Advertisements

3 responses to this post.

  1. May Allah Almighty bless u. You have written an article full of knowledge n easy 2 understand. The Quran-e-Hakim has mentioned several times it is for the wise to understand besides Allah Almighty always emphasises on analysing n pondering on How He Allah has created the creation of everything in this world for the benefit of mankind.

    جواب دیں

  2. Posted by Azher on 22/09/2011 at 2:55 صبح

    Beautiful

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s