معید کے نام ایک خط از ریحان احمد یوسفی


[19ستمبر2011کی صبح کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے رہائشی علاقے میں ایک اعلیٰ پولیس افس کے گھر کوایک خود کش حملہ آور نے باردود سے بھری گاڑی سے نشانہ بنایا ۔ وہ پولیس افسر تو بچ گیا،لیکن متعددمعصوم اور بے گناہ لوگ مارے گئے۔ ان میں سے ایک 8سالہ معصوم معید بھی تھا جو اسکول جاتے ہوئے اپنی ماں کے ہمرا اس حملے میں مارا گیا۔ یہ خط اسی معصوم بچے کو مخاطب کرکے لکھا گیا ہے۔]
معید میرے بیٹے! جب تک یہ خط شائع ہوگا لوگ تمھیں بھول چکے ہوں گے۔لیکن مجھے تو تمھیں خط لکھنا ہی ہے۔۔۔کیونکہ تمھارا زندگی سے بھرپور چہرہ اور شرارت سے بھری آنکھیں دیکھ کر مجھے اس پروردگار سے بے انتہا محبت محسوس ہوتی ہے جو اتنے معصوم اور خوبصورت چہرے تخلیق کرتا ہے۔مگر تمھارا کفنایا ہوا وجود، خون آلود تمھاری کتابیں اور لہو سے رنگین جوتے دیکھ کر مجھے خداکے اس غضب کا اندازہ ہورہا ہے جو جو تمھارے قاتلوں پر بھڑکنے والا ہے۔۔۔ اس لیے مجھے تمھیں تو خط لکھنا ہی ہوگا۔
تم اگر اپنی نوعیت کے پہلے اور آخری ’ہابیل‘ ہوتے شائد میں یہ خط نہ لکھتا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ ان گنت ’قابیل‘ اس ملک کے گلی کوچوں میں دندناتے پھررہے ہیں۔ موت اتنی ازراں ہے کہ ایک بے گناہ ابھی کفنایا بھی نہیں جاتا کہ دوسرے بے گناہ کا خون مٹی میں رل مل جاتا ہے۔ اب تو میں یہ سوچتاہوں کہ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر حاصل کیا گیا ملک مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا سب سے بڑاذبیحہ خانہ اور مقتل بن چکا ہے ۔
معید میرے بیٹے!میں تمھیں یہ خط نہیں لکھتا،اگر تم کسی ڈاکو کے ہاتھوں یا کسی ڈرون حملے میں مارے جاتے۔زمین میں فساد کرنے والوں سے کیا شکایت کی جائے!میں تمھیں مخاطب کرکے یہ خط نہیں لکھتا اگر اسلام کے نام لیوا خود کش قاتلوں کا یہ آخری حملہ ہوتا۔حیوانی قالب میں ڈھلے ان روبوٹوں سے کیا شکایت کی جائے!ہوا میں اڑنے والے ڈرون ہوں یا زمین میں چلنے والے خود کش روبوٹ۔۔۔دونوں مشینیں ہیں۔ مشینوں سے کوئی شکایت نہیں ہوتی۔
میرے بیٹے معید !مجھے نہیں معلوم کہ تین سو کلو بارود کے دھماکے نے موت سے قبل تمھیں سوچنے کی کتنی مہلت دی ہوگی۔شائد دھماکے اور موت کے درمیان لمحہ بھر سے کم کی زندگی میں تم نے یہ سوچا ہو کہ مجھے اور میری ماں کو کیوں مارا جارہا ہے۔اس آخری لمحے میں شائدتمھیں یہ غلط فہمی ہوگئی ہو کہ تمھیں ان طالبان نے مارا ہے جنہوں نے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تمھیں شائد یہ غلط فہمی ہوگئی ہو کہ تمھیں اس مشینی روبوٹ نے مارا ہو جس نے تین سو کلو بارود سے بھری گاڑی ایک رہائشی علاقے میں دھماکے سے اڑادی۔ میں تمھیں خط اسی لیے لکھ رہاں کہ تم اپنی یہ غلط فہمی دور کرلو۔ تمھیں ان لوگوں نے نہیں مارا۔ تمھیں ایک سوچ نے مارا ہے جو نفرت کے پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری کچھ نادانوں کی تخلیق ہے۔
میرے بیٹے معید!یہی سوچ تمھاری اصل قاتل ہیں۔ یہی ہے جو مشینی روبوٹوں کو بتاتی ہے کہ ہدف کے ساتھ بے گناہوں کو بھی ماردو۔یہ سوچ سب سے پہلے مشینی روبوٹوں کا ضمیر قتل کرتی ہے ۔ یہ کہہ کر کہ ان کے دشمنوں کے ساتھ بے گناہ مارے جانے والے جنت میں جائیں گے۔ مگر نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہ سوچ خداوند ذوالجلال کا یہ حکم چھپا جاتی ہے کہ جس کسی نے کسی بے گناہ مسلمان کو مارا س کی سزا جہنم ہے،جہاں وہ ہمیشہ رہے گا،اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اوروہاں اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے،(نساء93:4)۔ قاتل نے ایک انسان کو نہیں مارا پوری انسانیت کو مارڈالا ہے،(مائدہ32:5)۔
میرے بیٹے معید !ایک طرف تمھا ری قاتل، نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہ سوچ ہے اور دوسری طرف کلام الہی جو بتاتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت کفارمکہ کے درمیان موجود مسلمانوں کی بنا پر کفار کو ہلاک نہیں کیا گیا۔اگرصحابہ حملہ کرتے تو کفار کے ساتھ ان کے درمیان موجود معصوم مسلمان بھی مارے جاتے، (فتح25:48)۔دیکھا تم نے کہ اللہ کے نزدیک مسلمانوں کی جان کتنی قیمتی ہوتی ہے کہ ان کے لیے کافروں کو چھوڑدیا اور دوسری طرف نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہ سوچ ہے جو اپنے دشمنوں کو مارنے کے لیے معصوم مسلمانوں کوبے رحمی سے قتل کردینے کو بہادری سمجھتی ہے۔
میرے بیٹے معید!نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہی سوچ تمھاری قاتل ہے۔ یہی وہ مجرم سوچ ہے جو دہشت گردوں کی ہر قتل و غارتگری پر یہ کہہ کر پردہ ڈال دیتی ہے کہ یہ امریکہ کے ڈرون حملوں کا ردعمل ہے ۔نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہ سوچ نہیں بتاتی کہ قتل کا بدلہ اسی قاتل سے لیا جاتا ہے، نہ کہ بے گناہ معصوموں سے ۔ یہ خائن سوچ آسمان وزمین کے مالک کا یہ حکم نہیں سناتی کہ قصاص کے علاوہ کسی شخص کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ قصاص بھی اسی قاتل سے لیا جائے گانہ کسی اور سے ،(بقرہ178:2)۔
میرے بیٹے معید!یہی سوچ تمھاری بھی قاتل ہے اور بہت سے دوسرے معصوموں کے قتل کی بھی ذمہ دارہے۔ نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری اسی سوچ نے ایمان و اخلاق میں آخری پستی کا شکار قوم کو اپنے زمانے کی سپر پاور سے ٹکرادیا۔ یہ جانے بغیر کے اس کا انجام جان، مال اور آبرو کی بربادی کی شکل میں نکلے گا۔ کاش یہ جانتے کہ اللہ کے محبوب انبیا کی یہ کبھی سنت نہیں رہی۔ یہ سنت اگر رہی ہے تو تو خدا کے مغضوب یہودیوں کی سنت رہی ہے۔ نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری یہ سوچ لوگوں کو یہ نہیں بتاتی کہ ختم نبوت کے بعد امت کے کندھوں پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کے کام کی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ ہمارا غیر مسلمو ں سے تعلق اب عداوت کانہیں دعوت کا تعلق ہے۔
میرے بیٹے معید!میں نے تمھاری روشن دیکھیں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہنے لگے۔ لیکن انہیں آنسوؤں ایک خوشخبری بھی تھی۔ وہ کہ یہ خدا وند دو عالم اس ناپاک سوچ سے اپنی زمین کو پاک کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ نفرت کی پجای اور قرآن و سنت کے فہم سے عاری اس سوچ سے امت کی فکری امامت چھین لی گئی ہے۔
اس سوچ نے بہت خون بہادیا۔۔بہت ہوگیا۔۔۔بس بہت ہوگیا۔اب اس جھوٹی سوچ کا زمانہ گزرگیا ۔اس کی نفرت کی دکان بند کردی جائے گی۔خدا کے نام پر اپنے ذاتی اور قومی مفادات کی جنگیں لڑنے والی اس ناپاک سوچ کا وقت پورا ہوگیا۔۔ اسلام کا نفرت انگیز تعارف دنیا کو پیش کرنے والی اس سوچ کا دور پورا ہوگیا۔
میں یہ خط ختم کررہا ہوں ۔کیونکہ مسجد کے میناروں سے اللہ اکبر کی صدا آنی شروع ہوگئی ہے۔یہ صدا بتارہی ہے کہ سچی خدا پرستی کا دور شروع ہوچکا ہے ۔ ایمان ،رحم اور ہمدردی جو اسلام کا اصل چہرہ ہے وہی اب دنیا کے سامنے آئے گا۔اسلام کی پرامن،خالص اور سچی دعوت؛ توحید کی دعوت اب لوگوں تک پہنچے گی۔ نفرتوں کے پجاری سن لیں۔ خداوند دوعالم نے ان کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔ اب جس میں ہمت ہے وہ آئے اور خدا سے جنگ کرکے دیکھ لے اور جس کا دل چاہے وہ خدا کی طرف سے جنگ کے لیے اٹھ جائے۔ قیامت سے قبل خدا اوراس کے دشمنوں کی آخری جنگ شروع ہوچکی ہے۔یہ جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر ہی ختم ہوگی۔خدا کا ہر دشمن پامال ہوگا۔ خدا کی بادشاہی قائم ہوکر رہے گی۔اللہ اکبر، اللہ اکبر۔لاالہ الااللہ۔

Advertisements

3 responses to this post.

  1. کہتے ہیں کہ وقوعہ سے کچھ قبل ایک غیر ملکی چند ساتھیوں کے ساتھ بلٹ پروف گاڑی میں کھڑا تھا۔

    جواب دیں

  2. Posted by احمر on 24/09/2011 at 3:29 شام

    اس پردرد ہ پر مغز خط لکھنے کا شکریہ

    جواب دیں

  3. May Allah Almighty bless u sir. You have written excellent from his side . Whatever his comments were you have played your part in explaining the true picture of so called g Muslims who are killing their own brothers, sisters n others n thinking that they earning paradise whereas they are earning hell.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s