کیا آخرت میں غیر مسلموں کی نجات ممکن ہے؟


سوال: میں ایسے بہت سے غیر مسلموں کو جانتا ہوں جو کہ اخلاقی اعتبار سے بہت اچھے انسان ہیں، کسی کے ساتھ بددیانتی نہیں کرتے، ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، اپنے مذہب کے مطابق خدا کی عبادت کرتے ہیں اور انسانوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان کا مذہب بڑی حد تک اس کا ماحول متعین کرتا ہے۔ ہمارے بہت سے لوگوں کے نزدیک تمام غیر مسلم کافر ہیں اور جہنم کے مستحق ہیں۔ ان کی یہ رائے معقول معلوم نہیں ہوتی۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
جواب: کسی مخصوص فرد کے ساتھ اللہ تعالیٰ آخرت میں کیا معاملہ کرے گا، اس کا علم اسی کے پاس ہے۔ ہمیں اس ضمن میں فتوے بازی سے گریز کرنا چاہئے۔ رہا سوال غیر مسلموں کی نجات کا تو اس معاملے میں قرآن مجید نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ آخرت میں نجات خود کو کسی خاص گروہ سے متعلق کر لینے میں نہیں ہے بلکہ اس کاتعلق انسان کے نظریات اور عمل سے ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ۔ (البقرۃ2:62 ) ’’بے شک جو لوگ اب مسلمان ہوئے، یا یہودی یا عیسائی یا صابی ، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہوگا اور انہیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
آخرت کی کامیابی کے لئے دو شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ انسان ہمیشہ حق کی تلاش میں رہے اور دوسرے یہ کہ جب حق اس پر واضح ہوجائے تو وہ اسے قبول کرنے میں تامل نہ کرے۔ اگر ہم بہت سے مسلمان کہلانے والوں کے طرز عمل کا جائزہ لیں تو وہ ان شرائط پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں مسلم و غیر مسلم برابر ہیں۔ ان میں سے جو بھی حق کی تلاش میں رہا اور اس نے حق کو پہچاننے کے بعد اسے قبول کرنے میں دیر نہ لگائی، وہ یقینا کامیاب ہوگا۔ جس نے جان بوجھ کر حق کا انکار کر دیا، وہ ناکام رہا۔
قرآن مجید کی دیگر آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آخرت میں نجات کے لئے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالی کے تمام انبیاء پر ایمان لائے۔ اللہ تعالی کے کسی پیغمبر کے بارے میں یہ واضح ہو جائے کہ وہ واقعتاً خدا کے بھیجے ہوئے نبی یا رسول ہیں اوران کا انکار کر دیا جائے تو یہ بدترین جرم ہے اور اس انکار کے بعد نجات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ایسے لوگوں کے لئے قرآن مجید نے کافر کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
رہے ایسے لوگ جنہوں نے حق کی تلاش کی، خواہ وہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہوں یا غیر مسلموں کے، اور ان پر تلاش کے باوجود حق واضح نہ ہوسکا ، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ ہر انسان صرف اسی بات کے لئے مسؤل ہوگا جو کہ اس تک پہنچی ہے کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَهَا۔ (البقرۃ 2:256) ’’اللہ انسان پر اس کی وسعت کے مطابق ہی بوجھ ڈالتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرے گا بلکہ تمام معاملات عین انصاف کے مطابق ہوں گے۔
موجودہ دور کے کسی مسلمان یا غیر مسلم کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے حق کو کتنا تلاش کیا اور جب اسے پا لیا تو جان بوجھ کر اس کا انکار کردیا۔ ہمیں دوسروں پر فتویٰ لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں دیکھنا چاہئے کہ حق کو قبول کرنے کے بارے میں ہمارا رویہ کیا ہے؟ کیا ہم حق کی تلاش سے غافل تو نہیں اور اگر ہمارے سامنے کوئی حق پیش کرتا ہے تو کیا ہم اپنی گروہی تعصبات کے تحت اس سے اعراض تو نہیں کرتے؟
محمد مبشر نذیر

Advertisements

7 responses to this post.

  1. May Allah Almighty bless u. U r absolutely right when u wrote that Allah is the judge of what an individual does after finding the truth whether he accepts it or rejects it. If he rejects the truth he will have to pay in the form of punishment n if he accepts the truth he will get paradise.

    جواب دیجیے

  2. اسلام کے دو مطالب ہیں۔ ایک سرِ تسلیم خم کرنا۔ دوسرا سلامتی۔
    اسلام کسی بھی مذہبی تقسیم کا نام نہیں ہے۔ جو بھی انسان اللہ کی کتابوں میں دی گئی ہدایت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے، اور بنی نوع انسان کی سلامتی کے لیے کام کرتا ہے، وہ مسلم ہے، خواہ کسی بھی معاشرتی، دینی، مذہبی، تہذیبی گروہ یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ دراصل تمام ادیان کو اللہ تعالیٰ "اسلام” ہی کہتا ہے۔ ” ان الدین عند اللہ الاسلام”۔[القرآن]۔
    اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئی تمام کتابیں "ہدایت” ہیں [۲/۲]۔ "ھدیْ” کا مطلب ایک comprehensive mode of conduct ہے، یعنی ایک آسان اور واضح "ضابطہِ کردار”۔ پس جو کوئی بھی اس ضابطہِ کردار پر جتنا زیادہ چلے گا وہ اتنا ہی "مسلمان” ہوگا، خواہ وہ ہندو ہو، عیسائی ، سکھ یایہودی۔
    تمام الہامی کتابیں انسان کی کردار سازی ہی کے لیے نازل کی گئ ہیں۔ اسی کردار سازی کے لیے جو اصول و اقدار دیے گئے ہیں، ان پر عمل کی نسبت سے کسی بھی انسان کے نیک و بد، یا مسلم و غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا جائیگا، کیونکہ ہمارے پاس یہی ایک عالمی نصاب، پیمانہ، معیار اور ٹسٹ ہے۔ فیصلہ بھی ہم نے نہیں کرنا، بلکہ قوم کی حالتِ زار خود بخود بتا دے گی کہ اللہ کے دیے ہوئے ضابطہ کردار پر کام کیا جا رہا ہے یا نہیں ۔ یا کتنا زیادہ کام کیا جا رہا ہے یا کتنا کم۔
    انسانی معاشرے میں مذہبی گروہو ں کے نام پر تفریق، تعصب اور دشمنی پیدا کرنے کی تمام تر ذمہ داری مذہب کے ٹھیکیداروں، یعنی ملاءوں، پادریوں اور پنڈتوں کے ذمہ ہے۔ یہ طبقہ انسانی معاشرے کا کینسر ہے۔ اس طبقے سے نجات حاصل کیے بغیر نہ تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ضابطہِ کردار زیر عمل آ سکتا ہے۔ مسلمان کہلانے والے لوگوں میں یہ ملا بادشاہ کے آلہِ کار کی حیثیت حاصل کر کے بہت طاقتور ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف ایک نہایت مضبوط تحریک برپا کرنےکی ضرورت ہے۔ لیکن اس سےقبل جہالت دور کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے خالص قرآنی فکر رکھنے والوں کو آگے آکر اقتدار حاصل کرنا ضروری ہے۔ اقتدار حاصل کیے بغیر تمام کوششیں بے کار ہوںگی۔ آئیے ایک سیاسی پلاٹ فارم پر متحد ہو کر کام کا آغاز کریں۔

    جواب دیجیے

    • Posted by mohammad ansari on 22/10/2011 at 3:00 شام

      جناب یہ تو اس طرح ہوا کہ چور کو چور نہ کھو ڈاکو کو ڈاکو نہ کھو کیوں کہ سب کے سب صحیح کر رہے ہیں قیامت کے دن اللھ اپنی مرضی سے سب کو جنت میں داخل فرمادے گا۔
      حالانکہ قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو اللہ اور (اور) (اور) اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا اور ان پر ایمان نہیں لاتا وہ ھمیشہ ھمیشہ جھنم میں جلیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
      اب ءلماء دین کی تشریح کرتے ہیں تو اس میں ان سے نجات پانے کی کیا ضرورت ہے اگر حق کو حاصل کرنا ہے تو ہمیں راہ الھی اور رسالت پر چلانے والے صحابی تابعی تبع تابعی اور علماء ہیں ہمیں ان کی پیروی کرنی چاھیے سوال کو سمجھ کر برائے مھربانی جواب دی جیے کہ جسے اللہ نے کافر قرار دیا ہے وہ کس طرح جنت میں جا سکتا ہے؟

      جواب دیجیے

      • محترم انصاری صاحب
        السلام علیکم
        آپ کی بات بالکل درست ہے کہ جسے اللہ نے کافر قرار دے دیا وہ جنت میں کیسے جاسکتا ہے۔ آپ کا اختلاف اسی اصطلاح کے استعمال پر ہے۔ ہر غیر مسلم کافر نہین بلکہ کافر وہ ہے جس نے جانتے بوجھتے دین کا انکار کیا۔ چنانچہ آج میرے یا آپ کے پاس کوئی ذریعہ نہین کہ ہم غیر مسلموں کی نیت کا حال جان کر ان پر کفر کا فتویٰ لگا سکیں۔ البتہ اگر ایک غیر مسلم جانتے بوجھتے انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے۔

        جواب دیجیے

    • Posted by Mohammad ansari on 23/10/2011 at 8:31 صبح

      محترم جناب :
      ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ غیر مسلم بھی کہہ رہے ہیں اور اسے کفر سے بھی بچا رہے ہیں؟
      حالانکہ مینے پھلے بتایا کہہ جس نے سات چیزوں پر ایمان نہیں لایا وہ مسلم نہیں ہے
      اور لازمی ہے کہ جو مسلم نہیں وہ کافر ہی ہوگا۔

      جواب دیجیے

      • السلام علیکم
        محترم انصاری صاحب
        آپ کا نقطہ نظر سر آنکھو ن پر۔ اور اگر میرا مدعا آپ پر واضح نہیں ہورہا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ مین آپ سے معذرت چاہتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اپنا مدعا واضح کرسکوں۔
        آپ کا کہنا یہ ہے کہ جو مسلم نہیں وہ یقینی طور پر کافر ہے۔ میں اس سے اختلاف کروں بلکہ امت کے جید علما بھی یہی بیان کرتے ہیں کہ کافر وہ شخص ہے جو دعوت ملنے کے بعد ایمان نہیں لایا۔ اگر ایک شخص تک دعوت اسلام ہی نہیں پہنچی تو وہ کافر یعنی انکار کرنے والا نہ تو لغت کی رو سے ہوتا ہے اور نہ ہی شریعت کی رو سے۔ آپ نے جن سات چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ اس شخص کے لئے ماننا لازم ہے جس تک یہ پہنچ جائیں۔
        چنانچہ میری ناقص رائے میں تین طبقے ہیں، ایک مسلم، دوسرے کافر اور تیسرے غیر مسلم

        جواب دیجیے

  3. جزاک اللہ آپ جیسے مسلمان ہی اسلام کی صحیح تصویر قُرآن کے حوالے سے دِکھائیں گے ۔ قُرآنی آیت 5:69 مولانا مودودی کا ترجمہ ( یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے ) مسلمان ہوں یا یہودی صابی ہوں یا عیسائی جوبھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بیشک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا ۔۔۔۔۔

    ان دونوں آیات یعنی البقرۃ: 2:62 اور المائدۃ5:69 ترجمہ کرتے وقت کئی ترجمہ کرنے والے تعصب کا شکار ہوئے ہیں ۔ جس پر ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے تنقید بھی کی ہے ۔ عمران خان ڈاکٹر صاب سے بہت متاثر ہیں جسکا تذکرہ انہوں اپنی آپ بیتی کتاب میں بھی کیا ہے ۔ جناب کا بُہت شُکریہ۔( ایم ۔ ڈی )۔

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s