سیکس کے بارے میں متضاد رویے


برصغیر کے لوگ بھی عجیب ہیں۔ سیکس سے متعلق ان کے ہاں بالکل متضاد رویے پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف ان کے ہاں شرم وحیا ایک بہت بڑی اخلاقی قدر ہے۔ سیکس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بھی انسان خود کو کھسیانا سا محسوس کرتا ہے اور دوسری طرف یہ عالم ہے کہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں اگرچہ فحاشی اپنے عروج پر ہے لیکن وہ لوگ اس معاملے میں دوغلے رویوں کا شکار نہیں ہیں۔
برصغیر کی قدیم معاشرت میں عورت کو بری طرح دبایا گیا اور اقدار کا ایسا نظام قائم کیا گیا جس میں عورت کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہے۔ یہ تصور قائم کیا گیا کہ عورت صرف مرد کی خدمت کے لئے پیدا ہوئی ہے۔ پہلے باپ، پھر بھائی، اس کے بعد خاوند اور آخر میں بیٹے کی خدمت اس کا فرض ہے۔ اگر خاوند اپنی بیوی سے بے وفائی کرتے ہوئے کسی اور عورت سے ناجائز تعلقات استوار کر لے تو یہ جرم قابل معافی سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ چلو مرد ہے، لیکن اگر بیوی ایسا کرلے تو یہ جرم ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا موت ہے جو عورت کو اس کا خاوند، باپ یا بھائی دے سکتا ہے۔
انسان کی نفسیات رد عمل کی نفسیات ہے۔ جب انسان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو وہ انہیں آسانی سے قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ اگر اسے ہر طرح سے باندھ کر رکھا جائے تو وہ چور راستے تلاش کر لیتا ہے۔ جب کبھی اسے کوئی ایسا موقع ملتا ہے جس سے وہ ان پابندیوں کو توڑ سکے تو وہ انہیں پوری قوت سے توڑ دیتا ہے۔ یہی معاملہ برصغیر کی عورت کے ساتھ ہوا۔
بیسویں صدی کے اواخر سے میڈیا کے فروغ سے ایک بہت بڑی معاشرتی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ پرانی اقدار ٹوٹ رہی ہیں اور نئی جنم لے رہی ہیں۔ میڈیا نے اپنا کاروبار چمکانے کے لئے انسان کے سفلی جذبات کو بھرپور استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں ایک خاموش تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کا ہدف نئی نسل ہے۔ برصغیر کی عورت نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر خود پر عائد جائز و ناجائز پابندیوں کو توڑنے کا ارادہ کی جس کے اثرات واضح طور پر ہمارے معاشرے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپ نے پاکستان کے بازاروں میں اکثر یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ماں برقعے میں ہے اور اس کی بیٹی نے انتہائی نامعقول سا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ دراصل یہ عورت کی قدیم اقدار کے خلاف بغاوت ہے جن میں اس پر بہت سی ناجائز پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
ان قدیم و جدید اقدار کے درمیان ایک خدا سے ڈرنے والے مسلمان کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ شرم و حیا سے متعلق جو احکام ہمیں قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتے ہیں، وہ انتہائی معقول ہیں اور انسانی عقل بھی انہیں تسلیم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جو پابندیاں ہماری معاشرت میں رائج ہیں، ان میں زیادہ تر نامعقول ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ اس معاملے میں افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے اعتدال پسندی کا رویہ اختیار کریں۔ دین کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے اور بے جا پابندیوں سے اجتناب کرکے ہم اپنی نئی نسل کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی معاشرتی پابندیوں پر ہی اصرار کیا تو عین ممکن ہے کہ نئی نسل دینی احکام کو بھی پس پشت ڈال دے۔
(مصنف: محمد مبشر نذیر)

5 responses to this post.

  1. May Allah bless u 4 a good article u have written.

    جواب دیں

  2. جب میں ایسی بات سوچتا یوں تو دل خوں کے آنسو روتا ہے کہ ہمارہ معاشرہ بھی ان اقدار کی جانب گامزن ہے جس میں بیٹی آدھی رات کو گھر لوٹتی ہے مگر اس کا باپ اس کی وجہ نہیں پوچھ سکتا کیونکہ وہ پولس کو فون کرکے باپ کو گرفتار کروا سکتی ہے۔
    اس قسم کی تبدیلی کا نقصان بھی عورتوں کو ہی زیادہ ہو گا۔ اب تو ان کو مرد کپڑے وغیرہ لے کر دیتے ہیں مگر پھر مغرب کئ طرح عورتوں کو خود ہی مزدورئ کرکے اپنا سازو سامان خریدنا پڑے گا۔

    جواب دیں

  3. بہت خوب لکھا مبشر بھیا نے۔۔۔ اعتدال پسند تحریر بھی🙂 اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

    جواب دیں

  4. Posted by farooq ahmed on 15/10/2011 at 5:32 صبح

    برائے مہربانی اعتدال پسندی کا رویہ کی تشریح کیجئے۔ مضمون کے سیاق و سباق میں اعتدال پسندی کا رویہ کیا ہے اور اس سے فاضل مصنف کی کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھانئے چاہئے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s