پاکستان: جنت کے یقینی حصول کا ذریعہ


پاکستان کے متعلق دنیا بھر میں بہت سی منفی باتیں مشہور ہیں ۔ ان باتوں کی تفصیل کرنے بیٹھیں تو صفحات در صفحات سیاہ کیے جا سکتے ہیں ۔ مگر اس ملک کے متعلق ایک حقیقت ایسی ہے جو کبھی بیان نہیں کی جاتی۔ وہ یہ کہ ایک سچے خدا پرست کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی ابدی کامیابی حاصل کرنے کے یقینی مواقع دنیا کے اسی ملک میں پائے جاتے ہیں ۔
جس ملک کا صدر علانیہ کہے کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے ، وزیر اعلیٰ یہ فرمائیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی اس سے کیا فرق پڑ تا ہے ، وفاقی وزیر یہ کہیں کہ کرپشن کرنا سب کا حق ہے ؛ اس ملک میں رہ کر ایمانداری کی زندگی گزارنے اور مایوس ہوئے بغیر دوسروں کو اس کی تلقین کرتے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان جنت میں اپنی جگہ یقینی بنا چکا ہے ۔
جس ملک کے تاجر و صنعتکار ظالمانہ حد تک منافع خور، ملاوٹ کے عادی اور غیر معیاری اشیا فروخت کرتے ہوں ، جہاں سرکاری ملازمین کام چور، رشوت خور اور حرام کھانے کے عادی ہوں ، جہاں قانون مکڑ ی کے جالے کی طرح صرف کمزوروں کی گرفت کے لیے بنا ہو؛ اس ملک میں رہ کر اصول و قانون اور عدل و انصاف کے مطابق جینا اور دوسروں کو اس راہ کی طرف بلانا جنت میں اپنا داخلہ یقینی بنانے کے مترادف ہے ۔
آج پاکستان کے حالات بے شک بہت خراب اور مایوس کن ہیں ۔ مگر یہ مایوسی صرف منفی انداز فکر کے حامل لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے ۔ سچے خدا پرست اور مثبت ذہن کے ساتھ جینے والوں کے لیے آج کا پاکستان وہ محشر ہے جہاں ان کی ابدی جنت کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے ۔ وہ اسے اپنا آخری موقع سمجھ کر پوری قوت سے میدان عمل میں اتر رہے ہیں ۔ یہی وہ انداز فکر ہے جو اگر عام ہوجائے تو یہی پاکستان آنے والے دنوں میں جنت ارضی بن جائے گا۔
By Rehan Ahmed Yousfi

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by Kashan on 22/10/2011 at 3:36 شام

    Janwar bhi saza ya khanay k lalach k liye kuch bhi kartay hain, tu thora tu faraq rakho insan aur janwar mai. K jannat k khanay aur dozakh ki ag k liye tum logo ko Allah ki edadat ka dars dey rhaya ho. Allah ki apni zaaat itni pyari hai k woh bagair lalach ebadat k laiq hai

    جواب دیں

    • بھائی کاشان
      السلام علیکم
      آپ کا دلچسپ اور اختلاف پر مبنی تبصرہ پڑھ کر خوشی ہوئی۔ آپ کی بات یقینی طور پر درست ہے کہ اللہ کی ذات اتنی بلند اور بزرگ ہے کہ انسان کو اسی کیرضا کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن میں پہلے نکتے میں اختلاف کرون گا۔ جنت کی لالچ اور جہن سے ڈرا کر خدا کی عبادت کی جانب راغب کرنا درحقیقت وہ طریقہ ہے جو خود اللہ نے قران میں اپنایا ہے چنانچہ میں یا آپ کوئی بھی اس طریقے پر تنقید نہین کرسکتا۔ مثال کے طور پر سورہ حدید آیت ۲۱ میں بیان ہوتا ہے
      ” دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسماں و زمین کی وسعت کے برابر ہے”
      اسی طرح البقر ہ آیت ۲۴ میں بیان ہوتا ہے
      "لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے”
      اس طرح کی بیسیوں آیات قرآن میں موجود ہیں۔ البتہ میں آپ کی بات کے اس پہلو سے دوبارہ اتفاق کروں گا کہ اللہ کی ذات اتنی بلند ہے کہ اس کو ماننے کے لئے کسی جنت کی لالچ اور کسی جہنم کے خوف کی ضرورت نہین ۔ اس پر مین نے ایک آرٹیکل لکھا تھا، وقت ملے تو ضرور پڑھئے گا
      http://wp.me/sX8P5-772

      جواب دیں

  2. Posted by Kashan on 22/10/2011 at 3:28 شام

    When u people stop worship Allah for Jannat? what if, If Allah not make Jannat or Dozakh, then will u not worship Allah? Be mature Aqil .

    جواب دیں

  3. May Allah bless u for this short n wonderful article concerning the realities of our people of this country. May Allah help u all to stay strong n follow the Quran n the Sunnah of the Prophet (pbuh) n also call people towards Islam.

    جواب دیں

  4. آپ نے تو مجھے بھی جنت کی اُميد دِلا دی ہے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s