خد اکی طاقت


یا کوئی رب ذوالجلال کی قوت کا اندازہ کرسکتا ہے؟‘‘، آج گفتگو کا آغاز عارف نے ایک سوال سے کیا تھا۔ یہ سوال کیا تھا علم و حکمت کے موتیوں کی ہونے والی برسات کی تمہید تھی۔ اس لیے لوگ خاموش نظروں اور سوالیہ چہرے کے ساتھ عارف کی سمت دیکھتے رہے تووہ گویا ہوئے: ’’ایک ایسی دنیا میں جہاں خدا نظر نہیں آتا، جہاں اس کے منکر اور نافرمان عیش کرتے نظر آتے ہیں، جہاں انسان کو کلی اختیار اور آزادی حاصل ہے وہاں بھی حکم اسی رب کا چلتا ہے۔‘‘
پھر وہ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولے: ’’انسان کو کب اور کہاں پیدا ہونا ہے۔ کب مرنا ہے۔ کیا کمانا اور کیا کھانا ہے۔ کہاں رہنا اور کہاں بیاہنا ہے۔ اولاد کتنی ہوگی۔ رزق کتنا ملے گا۔ رنگ و روپ، شکل، اور صلاحیت کیسی ہوگی۔ خاندان اور قوم کون سی ہوگی۔ زندگی میں کیا ملے گا۔ کیا نہیں ملے گا۔ غرض زندگی کا ہر بنیادی اور اہم معاملہ اور زندگی کا ہر دائرہ اللہ کے اذن سے متعین ہوتا ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان کو بس کچھ عمل کرنے کا ایک محدود اختیار حاصل ہے۔ اس میں بھی اعمال کے نتائج صرف اللہ کی مرضی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اب یہ بتایئے کہ جو خدا غیب میں رہ کر اتنا طاقتور ہے وہ سامنے آئے گا تو انسانی عجز کا عالم کیا ہوگا؟‘‘
’’انسان تو مجبور محض ہوجائیں گے۔‘‘، ایک صاحب نے جواب دیا تو عارف کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ بولے: ’’یہی عجیب بات ہے۔ انسان اگر مؤمن ہوا تو وہ دن اس کے عجز کا نہیں بادشاہی کا دن ہوگا۔ بادشاہ بھی ایسا کہ جو وہ مانگے ملے گا اور جو چاہے وہ دیا جائے گا۔ دنیا میں انسان کو جو عجز اور محرومی درپیش تھی اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ ۔ ۔ جانتے ہو کہ یہ ابدی بادشاہی کس چیز کا بدلہ ہے۔‘‘ خاموشی کا ایک وقفہ آیا اور پھر عارف کی صدا بلند ہوئی: ’’یہ بدلہ ہے دنیا میں اپنی محدود آزادی کے مقابلے میں خدا کی طاقت کو دریافت کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا۔ جنت اسی دریافتِ عجز کا بدلہ ہے۔ بادشاہی اسی غلامی کا بدلہ ہے۔‘‘
(تحریر: ریحان احمد یوسفی)

Advertisements

One response to this post.

  1. May Allah bless you 4 the wonderful message u have given in ur article n may all Muslims understand n practise according 2 the injunctions of Islam.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s