عشق اور نوجوان


آج کل اکثر والدین اپنے بچوں اور خاص کر نوجوانوں کی بنا پر بہت پریشان رہتے ہیں۔ لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں، عشق و محبت کے معاملات، ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے باآسانی دستیاب ہوجانے والے نامناسب مواد وغیرہ نے والدین کی فکروں میں بہت اضافہ کردیا ہے۔ بعض جگہوں پر معاملات آگے بڑھتے ہیں اور بات بے راہروی، ڈانس پارٹیوں میں شرکت اور منشیات وغیرہ تک جاپہنچتی ہے۔
یہ صورتحال انفاریشن ایج کا وہ ضمنی نتیجہ ہے جس سے بچنا ممکن نہیں۔ آج موبائل، کیبل اور ڈش ٹی وی اور ان پر آنے والے ان گنت چینلز اور انٹرنیٹ وغیرہ زندگی کا ایک لازمی جز بن گئے ہیں۔ مخلوط تعلیمی اداروں کا عام ہونا اور معاشی صورتحال کی بنا پر تاخیر سے شادی وہ عوامل ہیں جنھوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس صورتحال میں ناسمجھ بچوں اور نوجوانوں کے معاملات کی خرابی سامنے آنے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسا نہ ہونا باعث حیرت ہونا چاہیے۔
آج کل میڈیا پر ہر طرح کے چینل دستیاب ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ فلموں اور ڈراموں کے وہ چینلز دیکھتے ہیں جو دراصل عشق و محبت کی درسگاہیں ہوتی ہیں۔ ان درسگاہوں میں نوخیز ذہنوں کو کتابِ عشق کے ہر باب کا بالتفصیل نظری مطالعہ کرایا جاتا اور ساتھ میں عملی تربیت کے میدان میں اترنے کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ اس عمر کا عشق ہارمون کی حرکت ہوتی ہے، جسے مزید متحرک کرنے کی خدمت انگلش اور ہندی فلموں کے فحش مناظر اور انٹرنیٹ کی بے لگام دنیا بخوبی سرانجام دیتی ہے۔
نوجوان اس ’تعلیم ‘کے زیور سے آراستہ ہوتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ مخلوط تعلیمی اداروں میں صنفِ مخالف کا ساتھ اور قربت کے مواقع، موبائل اور چیٹنگ کے ذریعے سے بے روک و ٹوک گفتگو کے امکانات انھیں وہ مواقع دیتے ہیں کہ وہ اس ’تعلیم و تربیت‘ کے مطابق اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں۔ یوں والدین کے لیے مسائل کی ایک دنیا پیدا ہوجاتی ہے۔
اس معاملے میں والدین کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے بچے اور بچی کا مسئلہ پیدا ہونے سے قبل آنکھیں بند کیے رہتے ہیں۔ وہ گھر میں بے روک و ٹوک ہر طرح کے چینلز اطمینان سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اولاد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ بچوں کو موبائل لے کر دیتے ہیں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو ان کی بنیادی ضرورت سمجھ کر لگواتے ہیں، انہیں مخلوط تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ان چیزوں کے ساتھ وہ سارے نتائج ناگزیر ہیں جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں۔
ہمارے نزدیک اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ والدین مسئلہ پیدا ہونے سے قبل محتاط رہیں۔ وہ بچوں کو ان کی فرمائش پر ہر چیز فوراً لے کر نہ دیں۔ چیز جب فوراً لے کر دے دی جاتی ہے تو بچے اسے اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس میں والدین کا کوئی احسان اور اپنی کوئی ذمے داری محسوس نہیں کرتے۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ دنیا میں ہر چیز کی قیمت دو صورتوں میں ادا کرنی ہوتی ہے۔ ایک پیسے کی شکل میں جو والدین دے رہے ہیں اور دوسری ذمے داری کی شکل میں جو بچے کو ادا کرنی ہوگی۔ چنانچہ جب انھیں کوئی سہولت اور آسانی فراہم کریں تو ان پر یہ واضح کریں کہ ان چیزوں کے غلط استعمالات کیا ہوتے ہیں تاکہ بچے اپنی ذمے داری سے آگاہ رہیں۔
سہولت دینے کے بعد بچوں کی مسلسل نگرانی کریں۔ اس کی سرگرمیوں اور خاص کر اس کے دوستوں پر نظر رکھیں۔ مگر یہ نگرانی پولیس کی نہیں بلکہ شفیق والدین اور ہمدرد دوست کی ہونی چاہیے۔ بچوں کے ساتھ درشتی، سختی اور لاتعلقی کے بجائے مسلسل محبت اور گفتگو کا ایک رابطہ استوار کیے رکھیں۔ بچے کو اعتماد دیں، لیکن اسے یہ بھی سکھائیں کہ والدین کا اعتماد توڑنا ایک بہت بڑا جرم ہے۔
اپنی اخلاقی اقدار سے بچوں کو روشناس کرائیں اور ان کی اہمیت بچوں کے دل و دماغ میں بٹھائیں۔ نیک صحبت اور اچھی کتابوں کو خود اختیار کریں، تبھی آپ کے بچے ان کو اختیار کریں گے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو برائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہیں۔ بچوں کو بلوغ کی عمر کے مسائل اور شادی کی اصل غایت و حقیقت سے آگاہ کریں کہ یہ دو افراد کا ملن نہیں بلکہ ایک خاندان کی بنیاد رکھنے کا عمل ہے جس میں لڑکے یا لڑکی کے علاوہ بھی کئی چیزیں دیکھنے کی ہوتی ہیں۔
تاہم اس سب کے بعد بھی بچوں کی طرف سے غلطی ہوجائے تو دھونس اور دھمکی کے بجائے پیار و محبت اور گفتگو سے مسئلے کو حل کریں۔ بچے کی تربیت اگر اچھی ہے تو یہ ممکن نہیں کہ وہ والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گا۔ ایسے بچوں سے غلطی ہی ہوا کرتی ہے، جسے نظر انداز کرنا چاہیے یا معاف کردینا چاہیے۔ یہ وہ احتیاطی تدابیر اور اہتمام ہے جس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ بچوں کی طرف سے والدین کو وہ مسائل پیش نہ آئیں جو والدین کی راتوں کی نیند اڑادیتے اور انہیں طرح طرح کی فکروں سے دوچار کردیتے ہیں۔
تحریر : ریحان احمد یوسفی

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 16/11/2014 at 12:10 صبح

    بہت ہی عمدہ تحریر ہے

    جواب

  2. Posted by سفیر on 30/10/2011 at 12:43 صبح

    میرا خیال ہے کہ ایک سادہ سی بات والدین کو سمجھ لینی چاہئے اور وہ یہ کہ بچوں کے ساتھ قربت اور دوستی رکھیں۔ اتنی سختی نہ برتیں کہ بچے اپنے دل کی بات بتاتے ہوئے ڈریں۔ اگر ایسا تعلق بچے/بچی کے ساتھ قائم ہو جائے تو وہ آپ کو خود ہی بتائیں گے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیا نہیں۔
    جو والدین اپنے بچے کو شیر کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کے بچے والدین سے چھپ کر بہت کچھ کرتے ہیں اور پھر ایک دن والدین پر پول کھلتا ہے تو والدین حیران رہ جاتے ہیں کہ ہمارا بیٹا/بیٹی تو ایسے ہو ہی نہیں سکتے

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s