کرکٹرز کی سٹے بازی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بالآخر ۳ نومبر ۲۰۱۱ کو سٹے بازی کی کہانی اختتام پذیر ہوئی جب لندن کی عدالت نے تینوں پاکستانی کرکٹرز کو ان کے ایجنٹ سمیت جیل کی راہ دکھادی ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عدالت نے سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی جبکہ ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال اور آٹھ ماہ کے لئے جیل بھیج دیا۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ سٹے بازی کی سب سے بڑی سزا ہے کیونکہ اس سے قبل کسی سٹے بازکھلاڑی کو جیل نہیں ہوئی تھی۔
یہ قضیہ اگست ۲۰۱۱ میں شروع ہوا جب میں ایک اخباری نمائندے نے دھوکے سے مظہر مجید سے پاکستانی کھلاڑیوں کی سٹے بازی کی معلومات حاصل کی ۔ ان کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں جان بوجھ نو بالز کرائیں اور اس کے عوض خطیر رقم حاصل کی۔ عدالتی کاروائی کی ابتدا میں تمام ملزمان اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات کی تردید کی اور خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب تفتیش کا دائرہ تنگ ہوتا گیا تو ان کھلاڑیوں کے لئے انکار ممکن نہ رہا ۔
یہ سزا کا اعلان مسلمانوں کے لئے بالعموم اور پاکستانیوں کے لئے بالخصوص ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ یہ مجرمان بدقسمتی سے پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہیں۔ یہ سزا اسلام کے نام پر بننے والی مملکت پرایک بدنما داغ ہے ۔ آخر یہ کھلاڑی کیوں اس قبیح عمل میں ملوث ہوئے؟کیوں وہ سوسائٹی میں ہونے والی رسوائی سے نہ ڈرے؟ کیوں انہیں خدا کا خوف نہ محسوس ہوا؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر پاکستانی دوسر سے سے پوچھ رہا، اس پر تبصرےکررہا اور ان ہارے ہوئے جواریوں کو لعنت ملات کررہا ہے۔ لیکن کیا یہ کرپشن ان تین کرکٹرز تک محدود ہے؟ آج پاکستان کی سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ کرپشن میں براہ راست اور بالواسطہ ملوث ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیاستدان، بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے خفیہ اکاؤنٹس ہیں۔ دوسری جانب عوام بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اپنا حق سمجھتی ہے۔ چنانچہ کلرکوں کی رشوت خوری، چھوٹے تاجروں کا ناجائز منافع سے استفادہ، بس اور ٹیکسی چلانے والوں کی کرائے میں زیادتی ، اساتذہ کی بدعنوانی ، ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت وغیرہ اس عوامی بدعنوانی کی چند نمائندہ مثالیں ہیں۔
یہ معاملہ تین افراد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔ یہ قوم ایک ایسے مذہب کی حامل ہے جو انسانیت کی راہ نمائی اور ہدایت کا واحد مستند ذریعہ ہے ۔ اس قوم کی ذمہ داری تو دنیا کے سامنے ایک ایسا ااخلاقی ماڈل پیش کرنا تھی جس سے متاثر ہوکر غیر مسلم خدا کی بندگی اختیار کرلیتے۔ لیکن یہاں تو اس کا الٹ ہورہا ہے۔ چند صالح عناصر کے سوا اس قوم کی اکثریت اپنی کرپشن کو کسی نہ کسی بہانے سے جائز سمجھ رہی اور دوسروں کو بدعنوانی پر مورد الزام ٹہرا رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج لوگ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے بلکہ اس میں پکڑے جانے کو شر خیال کرتے ہیں۔
اس بدعنوانی کے کلچر کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی پہلی ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے جو مادی آسائشوں کے حصول کو ہی زندگی کا مقصد بنا کر پیش کرتا اور لوگوں کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے اسے پورا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کی دوسری ذمہ داری مذہبی طبقے پر ہے جس نے کبھی اخلاقی تربیت کو دین کی تبلیغ کا بنیادی جزو نہیں بنایا اور اس کے نتیجے میں مذہب صرف نماز،روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود ہوکر رہ گیا۔ اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان اور تفریح تو دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن انکی تربیت کے لئے کوئی وقت نہ دے پائے۔ اس کی ذمہ داری اساتذہ پر ہے جو بچوں کو ڈاکٹر ، انجینئر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تو بناتے رہے لیکن انہیں اچھا انسان نہ بناسکے۔اس کی ذمہ داری این جی اوز اور مصلحین پر ہے جو نعرے بازی کرکے فنڈز اور شہرت تو بٹورتے رہے لیکن قوم کی درست تربیت نہ کرپائے۔
اس سٹے بازی کیس کا سب سے المناک پہلو یہ تھا کہ سلمان ، آصف اور عامر نے عدالت سے رو رو کر رحم کی اپیل کی اور اپنے ان ساتھیوں کو برا بھلاکہنے لگے جو کبھی ان کے یار ہوا کرتے تھے۔ لیکن عدالت نے ان کی ایک نہ سنی اور انصاف کے تقاضوں کے تحت سزا سنادی ۔ ایک دن خدا کی عدالت بھی لگنے والی ہے۔ اس تما م کرپٹ لوگ اور ان کی تربیت کے ذمے دار ان ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔ اس روز یہ سب ایک دوسرے کو برابھلا کہیں گے، الزام لگائیں گے۔ یہ سب روئیں گے، چلائیں گے کہ انہیں بخش دیا جائے ، معاف کردیا جائے ۔ لیکن اس سب شورو غوغا کے باوجودکائنات کا بادشاہ اپنا فیصلہ سنادے گا اور وہ فیصلہ یقینی طور پر انصاف پر مبنی ہوگا۔
پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com

aqilkhans@gmail.com

Advertisements

One response to this post.

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اصل معاملہ تو یہی ہے کہ اللہ کو اس معاشرے سے نکالنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے اور میڈیا اس تصور کے ہر عکس کو مٹانے کے لئے کوشاں ہے جب اللہ کا علم ہی نہیں تو پھر ایمان کی حیثیت؟

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s