حسد – ایک تفصیلی مطالعہ


اس مضمون کے مطالعے بعد آپ جان لیں گے کہ
۱۔کس فعل کو حسدکہتے ہیں اور کونسا عمل حسد نہیں ہے؟۔
۲۔ حسد اور رشک میں کیا فرق ہے؟
۳۔حسد کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے؟
۴۔ حسد سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟
قرآن کی آیت:
اور(میں پناہ مانگتا ہوں رب کی) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔( الفلق ۵:۱۱۳)
احادیث:۱
۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔”مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218)
۲۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اللہ تعالی بندے بھائی بھائی ہو کر رہو اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے) ۔(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1003)
۴۔ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔(طبرانی فی الکبیر ۷۱۵۷)
وضاحت
ہر اخلاقی برائی نقصان دہ ہے ۔ کبھی یہ نقصان دنیاہی میں نظر آجاتا اور کبھی آخرت تک موقوف ہو جاتا ہے۔ حسد یا جلن ایک ایسی ہی بیماری ہے جس کا شکار دنیا ہی میں نفسیاتی اذیت اٹھاتا اور دل ہی دل میں گھٹ کر مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔یعنی حاسد کی سزا کا عمل اس دنیا ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں حسد کرنے والے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے کیونکہ وہ اس باؤلے پن میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے سوکھی لکڑی کو آگ۔ لہٰذا دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے اس بیماری کو جاننا اور اس سے بچنے کی تدابیر اختیا ر کرنا ضروری ہے۔
حسد کی نوعیت:
حسد کے لغوی معنی کسی دوسرے شخص کو نعمت ملنے پر ناخوش ہونا۔اس ناخوشی کے نتیجہ اس شخص کو ملنے والی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اس کے نقصان کے درپے ہونے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جب دیکھتا ہے کہ اسکے بھائی کے پاس کار آگئی ہے تو وہ آرزو کرتا ہے کہ کاش یہ کار اس سے چھن جائے، اس کی کار کو کوئی نقصان پہنچ جائے تاکہ اس کی راحت میں اضافہ ہو ۔
حسد کے لوازمات :
حسد ثابت ہونے کو لئے مندرجہ ذیل لوازمات کا پورا ہونا ضروری ہے۔
۱۔کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہو نا اور ناخوش ہونا
۲۔ اسکے نقصان کی تمنا کرنا یا نقصان ہوجانے پر خوش ہونا
حسد کا ٹیسٹ:
پہلے مرحلے میں یہ معلوم کریں کہ آپ حسد کا شکار ہیں یا نہیں۔اسکا ٹیسٹ یہ ہے کہ اگر آپ کو دوسروں کی تکلیف پر خوشی اور انکی کامیابی پر دکھ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ اس کے نقصان کے متمنی اور اسکی نعمت چھننے کے منتظر ہیں تو آپ حسد میں مبتلا ہیں۔
حسد اور رشک میں فرق:
حسد کا مفہوم کسی کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اس کے چھننے کی خواہش کرنا ہے۔ جبکہ رشک میں کسی شخص کی خوبی سے متاثر ہونا اور اس جیسا بننے کی کوشش کرنا ہے لیکن رشک میں وہ نعمت محسود (جس سے حسد کیا جائے)سے چھن جانے یا اس نعمت کو نقصان پہنچ جانے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ چنانچہ حسد ایک منفی جبکہ رشک ایک مثبت جذبہ ہے۔
حسد کیا نہیں ہے؟
ایک جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات بھی سمجھ لیں کہ محض کسی کی کوئی چیز (مکان ، کپڑے وغیرہ) کا اچھا لگنا حسد نہیں۔مزید یہ کہ اس شے کوجائز حدود میں حاصل کرنے کی کوشش کرنا بھی بذاتِ خود برا عمل نہیں بلکہ اس سے مقابلے کی فضا پروان چڑ ھتی اور ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔اسی طرح وہ وسوسے بھی حسد کے زمرے میں نہیں آتے جو اچانک غیر ارادی طور پر آپ کے دل میں آجائیں البتہ ان خیالات کو پختہ ارادے کے ساتھ پروان چڑھانا قابلِ مذمت ہے۔
حسد (رشک) کب مستحسن ہے؟۱
۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حسد (رشک )صرف دو چیزوں پر جائز (مستحسن )ہے ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے مال دیا اور اس کو راہ حق پر خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالی نے حکمت (علم) دی اور وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1324)
۲۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، حسد (رشک) صرف دو شخصوں پر (مستحسن) ہے، ایک اس شخص پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہے اور وہ اسے دن رات پڑھتا ہے اور اس کا پڑوسی اسے سن کر کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی طرح پڑھنا نصیب ہوتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا، دوسرے اس شخص پر جسے اللہ تعالی نے دولت دی ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے، پھر کوئی اس پر رشک کرتے ہوئے کہے ہے کہ کاش مجھے بھی یہ مال میسرآتا تو میں بھی اسے اسی طرح صرف کرتا۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 18)
اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی امور میں رشک کرنا ایک مستحسن عمل ہے کیونکہ اس سے دینی میدان میں ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ لیکن دنیاوی میدان میں بھی رشک کرنا کوئی ممنوع عمل نہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم دوسرے اسٹوڈینٹ کے اچھے نمبر دیکھ کر رشک کرتا اور جائز حدود میں رہتے ہوئےاس سے زیادہ نمبر لانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی ایک مستحسن عمل ہے۔
حسد کی مختلف شکلیں:
ہماری سوسائٹی میں حسد عام طور پر مندرجہ ذیل صورتوں میں پایا جاتا ہے:
۱۔کسی کی اچھی چیزوں سے جلناجن میں اچھے کپڑے ، زیورات ، مکان، موبائل، کار اور دیگر سامان تعیش وغیرہ شامل ہیں
۲۔ کسی کے ظاہری اوصاف سے حسد جس میں اچھی شکل و صورت ، وجاہت یاشخصیت کےظاہری خدوخال شامل ہیں
۳۔ کسی کی باطنی خصوصیات سے حسد جن میں خوش اخلاقی، ملنساری، ہر دلعزیزی ، دینداری و عبادت گذاری شامل ہیں۔
۴۔ کسی کی مالی ترقی سے جلن جیسے کاروبار کی ترقی، اعلیٰ تعلیم یا اچھی ملازمت وغیرہ
۵۔ کسی کی اولا د بالخصوص اولادِ نرینہ سے حسد یا اولاد کی ترقی پر جلن
۶۔کسی کی شہرت ،عزت، قابلیت یا عہدے سے حسد
۷۔کسی کی صحت ، تندرستی ، اطمینان، خوشی اور راحت سے حسد اور جلن
۸۔ اجتماعی معاملات میں ترقی یافتہ قوموں اور ممالک سے جلنا اور ان کی تباہی کی امید کرنا
۱۱۔ اسکے علاوہ بھی حسد کرنے کی لامحدود صورتیں ہیں جو ایک حاسد اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔
حسد کے نقصانات
حسد کے بے شمار دنیاوی اور اخروی نقصانات ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
۱۔ حسد نفرت کی آگ میں جلاتا ہے۔
۲۔ حسد کئی نفسیاتی مرائض کا باعث ہے جیسے غصہ، ڈپریشن، احساس کمتری، چڑچڑا پن وغیرہ
۳۔ حسددشمنی اور دشمنی فساد کی جانب لے جاسکتی ہے جس سے گھر اورمعاشرے میں فساد پھیل سکتا ہے۔
۴۔حسد دیگر اخلاقی گناہوں کا سبب بنتا ہے جن میں غیبت، بہتان، تجسس اور جھوٹ شامل ہیں
۵۔حسد آخرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے۔
حسد کے اسبا ب اور انکا تدارک:
حسد کرنے کے عام طور پر مندرجہ ذیل اسباب ہوسکتے ہیں۔
۱۔ محرومی یا احساسِ کمتری ۲ ۔خدا کے فلسفہ آزمائش سے لا علمی ۴۔نفرت و کینہ
۵۔ غرورو تکبر ۶۔ منفی سوچ ۷ ۔دیگر اسباب
۱۔ محرومی یا احساسِ کمتری
حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے(لیکن کبھی کبھی نعمت کی موجودگی میں بھی حسد ہوجاتا ہے)۔ مثال کے طور پر جب ایک بس کا مسافر ائیر کنڈیشن کار میں بیٹھے لوگوں کو دیکھتا ہے تو فطری طور پر اسے اپنی محرومی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اس احساس کا ہونا غیر اختیاری ہے لیکن کا ر والوں کی برائی چاہنا اختیاری اور گناہ کا عمل ہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ حتی الامکان ان لوگوں کے بارے میں سوچنے سے گریز کریں جو آپ سے کسی معاملے میں بہتر پوزیشن میں ہیں اور اگر کوئی خیال آجائے تو اپنے سے نیچے کے لوگوں پر تفکر کریں ۔نیچے والوں پر غور کرنے کا مطلب یہ نہیں مال و دولت کے لحاظ سے ہی موازنہ کیا جائے۔ اس میں صحت، تندرستی، ذہنی سکون اور دیگر میعارات پر بھی موازنہ کی جاسکتا ہے۔ دوسرا تدارک یہ ہے کہ جب تک پختگی نہ آجائے اس وقت تک زیادہ وقت ان لوگوں میں گذاریں جو آپ جیسے ہیں۔ مزید یہ کہ خدا کی آزمائش کی اسکیم پر غور کریں جسکا بیان آگے آرہا ہے۔
۲۔خدا کے فلسفہء آزمائش سے لا علمی
فلسفہء آزمائش سے لا علمی اور دنیاوی نعمتوں کو دائمی سمجھ لینا بھی حسد کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اللہ نے جو شکل وصورت ،دولت ، گاڑی، مکان ،اولاد اور دیگر سامانِ زندگی عطا کیا ہے یا عطا نہیں کیا ہے اسکی بنیادی وجہ آزمائش ہے۔ وہ کسی کو نعمتیں دے کر آزماتا ہے اور کسی سے نعمتیں لے کر۔ اللہ کے نزدیک ا س دنیاوی سازو سامان کی حیثیت ایک مردہ بکری کے بچے سے بھی کم ہے۔ ایک حاسد شخص ان نعمتوں کو حقیقی اور مقصود سمجھ کر ان کے حصول کو کامیابی اور ان سے محرومی کو ناکامی گردانتا ہے۔ وہ دنیا کی محبت اور حرص میں پاگل ہو جاتا اور دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جل اٹھتا ہے ۔اگر غور سے دیکھا جائے تو حسد کرنے والے کا معترض ہونا بالواسطہ طور پر خدا کی تقسیم اور اسکی حکمت پر اعتراض کرنا ہے۔ لیکن یہ حاسد شخص حسد کی آگ میں جلتے جلتے خدا کی مخالفت بھی گوارا کرلیتا ہے۔
اسکا علاج یہ ہے کہ خدا کی آزمائشی اسکیم کو سمجھا جائے، دنیا کی حرص و محبت کو کم کیا جائے اور خدا کی حکمت اور تقسیم پر ہر حال میں راضی رہا جائے کیونکہ یہاں کا ملنا ملنا نہیں اور یہاں کی محرومی محرومی نہیں۔
۳۔نفرت و کینہ
کسی کے خلاف نفرت بھی آپ کو مجبور کرسکتی ہے کہ آپ اس شخص کے نقصان کے متمنی ہوں۔حسد نفرت کو اور نفرت حسد کو جنم دے سکتی ہے۔چو نکہ اس حسد کی بنیادی وجہ نفرت اور کینہ ہے لہٰذانفرت کے اسباب اور اس کے تدارک کا علاج کیجئے جب نفرت ختم ہو جائے گی تو اسکی بنا پر پیدا ہونے والا حسد خود بخود دور ہو جائے گا۔
۴۔ ۔ غرورو تکبر
بعض اوقات غرور اور تکبر بھی حسد کا سبب ہوتا ہے بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دوسروں کی کامیابیوں سے جلتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی پر انکی اجارہ داری اور انکا حق ہے ۔اس سے نمٹنے کے لئے تکبر سے نجات ضروری ہے کہ استکبار صرف اللہ ہی کو زیبا ہے اور انسان کا تکبر اسے جہنم میں لے جاسکتا اور جنت کی ابدی نعمتوں سے محروم کرسکتا ہے۔لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ دنیا وی نعمتوں کو اللہ کی جانب سے ایک عطا تصور کیا جائے اور ان پر اپنا تسلط جمانے سے بریز کیا جائے ۔ مزید یہ کہ تمام خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے وہ جس کو چاہے اور جس طرح چاہے نوازے۔ اس تقسیم پر کسی قسم کا اعتراض براہِ راست خدا کی حکمت پر اعتراض کے مترادف ہوسکتا ہے۔
۵۔ منفی سوچ
کچھ لوگوں کی سوچ منفی خیالات پر ہی مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ لوگ ہر مثبت یا نیوٹرل بات میں منفی پہلو نکالنے اور نکتہ چینی کے ماہر ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر یہ کسی کی کامیابی پر ناخوش اور اسکی نعمتوں میں کیڑے نکالتے ہیں۔ اسکا حل یہی ہے کہ زندگی کے بارے میں مثبت رویہ اختیا ر کرکے لوگوں کی کامیابیوں کو سراہا جائے اور انکی خوشیوں میں شریک ہو کر اپنے حسد اور منفی طرزِعمل کی تطہیر کی جائے۔
۶.دیگر اسباب
اسکے علاوہ بھی حسد کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں مثلاََ کسی قدرتی آفت سے اپنی نعمتوں کا چھن جانا ، استحقاق کے باوجود مادی کامیابیوں سے محروم رہنا، ہم عصروں کا کامیابی کے جھنڈے گاڑنا، کسی کا طنزیہ گفتگو سے محرومی کا احساس دلانا وغیرہ۔ان تما م اسباب کا تدارک مندرجہ بالا بحث اور مندرجہ ذیل ہدایات میں موجود ہے۔
حسد سے گریز کے لئے عمومی ہدایات:
پہلے مرحلے میں آپ حسد کی نوعیت اور اسکا سبب معلوم کرلیں پھر اس سبب کے مطابق اسکاتجویز کردہ علاج آزمائیں۔اسکے ساتھ ہی ذیل میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
۱۔ جن نعمتوں پر حسد ہے ان پر اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو بھی مل جائیں اگر وہ اسبا ب و علل کے قانون کے تحت ممکن ہیں یعنی ناممکن چیزوں کی خواہش سے ذہن مزید پراگندگی کا شکار ہو سکتا ہے۔
۲۔وہ مادی چیزیں جو آپ کو حسد پر مجبور کرتی ہیں انہیں عارضی اور کمتر سمجھتے ہوئے جنت کی نعمتوں کو یاد کریں۔
۳۔ نفس کو جبراََ غیر کی نعمتوں کی جانب التفات سے روکیں اور ان وسوسوں پر خاص نظر رکھیں۔
۴۔محسود(جس سے حسد کیا جائے) کے لئے دعا کریں کہ اللہ اس کو ان تما م امور میں مزید کامیابیاں دے جن پر آپ کو حسد ہے۔
۵۔محسود (جس سے آپ کو حسد ہے)سے محبت کا اظہار کیجئے اور اس سے مل کر دل سے خوشی کا اظہار کریں۔
۶۔ ممکن ہو تو محسود (جس سے آپ کو حسد ہے)کے لئے کچھ تحفے تحائف کا بندوبست بھی کریں۔
۷۔اگرپھر بھی افاقہ نہ ہو تو ہو تو محسود(جس سے آپ کو حسد ہے)سے مل کر اپنی کیفیت کا کھل کر اظہار کردیں اور اس سے اپنے حق میں دعا کے لئے کہیں۔لیکن اس با ت کا بھی خیال رکھیں کہ کہیں بات بگڑ نہ جائے۔
۸۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں مندرجہ ذیل ای میل پر رجوع کریں۔
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com
از پروفیسر محمد عقیل
نوٹ: حسد پر ایک مختصرانٹرنیٹ ورکشاپ کے لئے اس لنک کو کاپی کرکے پیسٹ کریں۔
http://wp.me/pX8P5-jo

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by ashfaq ahmed khan on 20/11/2011 at 2:55 شام

    assalam o alaikum
    really a very nice effort to describe these terms mostly used by all but with out knowing them.
    may allah bless u the most wanted regard , "jannah’
    aameen

    جواب دیں

  2. جزاک اللہ

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s