دنیا – احادیث و آثارکی روشنی میں

۱۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2920)
۲۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بازار سے گزر تے ہوئے کسی بلندی سے مدینہ منورہ میں داخل ہو رہے تھے اور صحابہ کر ام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے دونوں طرف تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیڑ کا ایک بچہ جو چھوٹے کانوں والا تھا اسے مرا ہوا دیکھا آپ نے اس کا کان پکڑ کر فرمایا تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی اسے کسی چیز کے بدلے میں لینا پسند نہیں کرتا اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کا کان چھوٹا ہے حالانکہ اب تو یہ مردار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ کے ہاں یہ دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جس طرح تمہارے نزدیک یہ مردار ذلیل ہے۔ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2921)
۳۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کہ جب میں کسی مومن بندے کی محبوب چیز اس دنیا سے اٹھا لیتا ہوں پھر وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے، تو اس کا بدلہ جنت ہی ہے۔ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1346)
۴۔ سعد بن ابراہیم اپنے والد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے تو کہا کہ مصعب بن عمیر شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا کہ اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پاؤں کھل جاتے اور اگر دونوں پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ شاید یہ بھی کہا کہ حمزہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی یا یہ کہا کہ ہمیں دنیا دی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1199)
۵۔ابوالخیر، عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے تو احد والوں پر نماز پڑھی، جس طرح مردوں پر پڑھی جاتی ہے، پھر منبر کی طرف لوٹے اور فرمایا کہ میں آگے جانے والا ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، و اللہ میں اپنے حوض کی طرف ابھی دیکھ رہا ہوں، اور زمین کے خزانے کی کنجیاں دیا گیا ہوں یا یہ فرمایا کہ زمین کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں اور بخدا مجھے اس کو خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو، لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم حصول دنیا میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگو گے۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1261)
۶۔ نافع ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے گھر میں تشریف لائے لیکن اندر نہیں گئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ان سے حضرت فاطمہ نے بیان کیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے فاطمہ کے دروازے پر دھاری دار پردہ دیکھا مجھ کو دنیا کی آرائشوں سے کیا کام؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ چاہیں اس بارے میں مجھے کہہ دیں آپ نے فرمایا کہ فلاں گھر والے کے پاس بھیج دو کہ وہ ضرورت مند ہیں۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2439)
۷۔ عروہ بن زبیر حکیم بن حزام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ کچھ مانگا، آپ نے مجھے دیدیا، پھر میں نے آپ سے مانگا، آپ نے پھر مجھے دیدیا، اس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا، کہ اے حکیم یہ مال ایک سبز شیریں چیز ہے، جو شخص اس کو بغیر حرص کے لے گا، اس کیلئے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اس کو لالچ کے ساتھ مانگے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہ دی جائے گی اور وہ مثل اس شخص کے ہوگا، جو کھائے اور سیر نہ ہو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، حضرت حکیم کہتے ہیں پھر میں نے کہا یا رسول اللہ قسم ہے اس کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو بھیجا ہے، میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں گا۔ یہاں تک کہ دنیا سے سدھار جاؤں، حضرت ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت حکیم کو وظیفہ دینے کیلئے بلاتے رہے، لیکن وہ اس میں سے کچھ قبول کرنے سے انکار کرتے رہے، پھر حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کو بلایا، تاکہ ان کو وظیفہ دیں، مگر انہوں نے اس کے لینے سے انکار کرد یا، تو حضرت عمر نے کہا اے مسلمانو! میں حکیم کو ان کا وہ حق جو اللہ نے ان کے لئے اس مال غنیمت میں مقرر فرمایا ہے، دینا چاہتا ہوں، مگر وہ اس کے لینے سے انکار کرتے ہیں، الغرض حضرت حکیم نے رسول اللہ کے بعد کسی سے مرتے دم تک سوال نہیں کیا۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 23)
۸۔عروہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے عمرو بن عوف انصاری نے جو بنو عامر بن لوی کے حلیف اور بدری تھے بیان کیا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو جزیہ لانے کے لیے بحرین روانہ کیا اور آپ نے بحرین کے باشندوں سے صلح کرکے ان پر علاء بن حضرمی کو حاکم اعلیٰ مقرر فرما دیا تھا انصار نے جب سن لیا کہ ابوعبیدہ بحرین سے مال لے کر لوٹ آئے ہیں تو انہوں نے ایک دن نماز فجر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر جب آپ نماز فجر پڑھ کے واپس ہونے لگے تو انصاری آپ کے آگے جمع ہو گئے یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم نے سنا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ مال لائے ہیں ان لوگوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس کے بعد آپ نے فرمایا مسرور ہو جاؤ اور اس امر کی امید رکھو جو تم کو فرحان و شاداں کردے گی اللہ کی قسم! مجھے تمہاری ناداری کا اندیشہ نہیں البتہ اس امر کا ڈر لگا ہوا ہے کہ تمہارے لئے دنیا ایسی ہی وسیع کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ و فراخ کردی گئی تھی اور اس وقت تم جھگڑے کروگے جیسے کہ پچھلی قوموں نے جھگڑے مچائے تھے اور یہ فراخی و کشادگی تم کو ہلاکت میں ڈال دے گی جس طرح گزشتہ لوگوں کو اس نے ہلاک کردیا ہے۔ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 399)
۹۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک جماعت کے پاس سے گزرے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری تھی ان لوگوں نے ان کو بلایا انہوں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اس حال میں کہ جو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 379)
۱۰۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ذوالحلیفہ میں آپ نے دیکھا تو ایک مردہ بکری پیر اٹھائے ہوئے پڑی تھی۔ آپ نے فرمایا تم کیا سمجھتے ہو یہ اپنے مالک کے نزدیک ذلیل ہے قسم خدا کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ دنیا اللہ کے نزدیک اس بکری سے بھی زیادہ ذلیل ہے اس کے مالک کے نزدیک اور اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے بازو کے برابر بھی نہیں رکھتی تو اللہ تعالی اس میں سے ایک قطرہ پانی کا کافر کو پینے نہ دیتا۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 991)
۱۱۔ مجاہد، عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے میرا مونڈھا پکڑ کر فرمایا کہ تم دنیا میں اس طرح رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو اور ابن عمرکہتے ہیں کہ جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو اور اپنی صحت کے اوقات سے اپنی مرض کے اوقات کے لیے حصہ لے لے اور اپنی حیات کے وقت سے اپنی موت کیلیے کچھ حصہ لے لے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1339 )
۱۲۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر داخل ہوئے جبکہ گھر میں میں اور میری والدہ اور ام حرام میری خالہ تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ وقت کسی نماز کا بھی نہیں تھا ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے گھر والوں کے لئے ہر طرح کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول انس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک چھوٹا سا خادم ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی دعا فرمائی اور دعا کے آخر میں جو میرے لئے تھی اس کے ساتھ یہ فرمایا اے اللہ ان کے مال اور ان کی اولاد میں کثرت اور ان کے لئے اس میں برکت عطا فرما۔ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1496)
۱۳۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دنیا میٹھی اور سر سبز ہے اور اللہ تعالی تمہیں اس میں خلیفہ ونائب بنانے والا ہے پس وہ دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو دنیا سے بچو اور عورتوں سے بھی ڈرتے رہو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2451)
۱۴۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شکل چار خطوں کی بنائی اور اس میں ایک خط کھینچا جو اس سے باہر نکلا ہوا تھا، اور اس کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی لکیریں اس طرف بنا دیں، جو حصہ اس مربع کے درمیان تھا، اور فرمایا یہ آدمی ہے اور یہ اس کی موت ہے، جو اس کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ خط جو باہر کو نکلا ہوا ہے، اس کی دراز آرزویں اور امیدیں ہیں اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اغراض اور مصائب ہیں، اگر ایک سے بچ کر نکلا تو دوسرے میں پھنسا، اور اس سے نکلا تو پھر کسی اور میں پھنسا۔ (اس کی شکل یہ ہے ) (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1340))
۱۵۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دولت مندی کثرت مال سے نہیں ہوتی بلکہ دولت مندی دل کے غنی ہونے کا نام ہے۔ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2414)
۱۶۔ مستوردؓ سے روایت ہے جو بنی فہر میں سے تھے وہ کہتے تھے میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ فرماتے تھے دنیا کی مثال آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں لگتا ہے۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 989)
۱۷۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بورئیے پر لیٹے۔ آپ کے بدن میں اس کا نشان پڑ گیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان کاش آپ ہم کو حکم دیتے تو ہم آپ کے واسطے بچھونا کر دیتے اور آپ کو یہ تکلیف نہ ہوتی۔ آپ نے فرمایا میں تو دنیا میں ایسا ہوں جیسے ایک سوار ایک درخت کے تلے سایہ کے لئے اتر پڑے پھر تھوڑی دیر میں وہاں سے چل دے۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 990)
۱۸۔ ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق جس چیز سے زیادہ ڈرتا ہوں، وہ زمین کی برکتیں ہیں کسی نے پوچھا زمین کی برکتیں کیا ہیں، آپ نے فرمایا دنیا کی زینت ایک شخص نے عرض کیا، کیا خیر سے شر پیدا ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا، کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے، پھر فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ابوسعید کا بیان ہے کہ جب اس سوال کا جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، تو ہم نے اللہ کی حمد بیان کی، آپ نے فرمایا کہ خیر سے خیر ہی پیدا ہوتا ہے، یہ سرسبز و شاداب اور شیریں گھاس کی مانند ہے، جو جانور اسے حرص سے زیادہ کھالے، تو اسے یہ ہلاکت کے قریب یا ہلاک کردیتی ہے، اور جو پیٹ بھر کے کھائے، اور سورج کی طرف منہ کرکے جگالی کرے، اور لید اور پیشاب کرے، پھر اگر کھائے تو آرام میں رہتا ہے، اسی طرح یہ مال ہے، کہ جس نے اس کو حق کے ساتھ لیا، اور حق ہی میں خرچ کیا، تو وہ بہترین ذریعہ ہے، اور جس نے اس کو ناحق لیا، تو وہ اس شخص کی طرح ہے، جو کھاتا ہے، لیکن آسودہ نہیں ہوتا ہے۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1349)
۱۹۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، کہ اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں، تو وہ تیسری تلاش کرے گا، اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے۔( صح،ا بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1358)
۲۰۔ عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ کا بستر چمڑے کا تھا، جن کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1377)

Advertisements

7 responses to this post.

  1. May Allah bless u 4 writing the importance of this world which is equivalent to the amount of water a finger has when dipped into the ocean n taken out. In spite of the hadiths u have quoted n if people get benefit from it the Muslim in large will be successful in this world n the hereafter.

    جواب دیں

  2. Posted by Jawad Ahmad Hashmi on 10/12/2011 at 7:47 صبح

    Assalam Alaikum! Mai aap ko daad diye baghaiir nahi reh sakta…
    Aur ye is waqt ki liye intehayi ahmiyyat ka haamil hai Jo kaam aur tahqeeq kiya.
    Q ke logo mai dunya ki hiras boht barh gayi hai.
    Allah aap ko ajar ata farmaye.

    "Rang ralyo pe zmane ke na jaana ae dill.

    Ye khizan hai Jo ba andaaze bahaar aayi hai”

    جواب دیں

  3. جزاک اللہ، عقیل صاحب!
    احادیث اکٹھی کرنے اور شیئر کرنے کا بہت شکریہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    جواب دیں

  4. جزاک اللہ خیر۔۔۔۔ دنیا سے متعلق احادیث ایک جگہ جمع کرکے آپنے ایک قابل قدر کام کیا ہے۔

    جواب دیں

  5. Posted by hameed sipra on 08/12/2011 at 3:15 شام

    Allah aap ko mazeed himat our iski jaza atta farmay. Ameen

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s