امیر ی غریبی-صحیح احادیث کی روشنی میں


۱۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ فقیر آئے اور انہوں نے کہا کہ مالدار لوگ بڑے بڑے درجے اور دائمی عیش حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ وہ نماز بھی پڑھتے ہیں، جیسی کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں، جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں (غرض جو عبادت ہم کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہیں) اور ان کے پاس مالوں کی زیادتی ہے جس سے وہ حج کرتے ہیں عمرہ کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتلاؤں کہ اگر اس پر عمل کرو تو جو لوگ تم سے آگے نکل گئے ہوں، تم ان تک پہنچ جاؤ گے اور تمہیں تمہارے بعد کوئی نہ پہنچ سکے گا، اور تم تمام لوگوں میں بہتر ہو جاؤ گے اس کے سوا جو اسی کے مثل عمل کرلے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح اور تحمید اور تکبیر پڑھ لیا کرو، بعد اس ہم لوگوں نے اختلاف کیا اور ہم میں سے بعض نے کہا کہ ہم تینتیس چونتیس مرتبہ پڑھیں گے، تو میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ﴿سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَکْبَرُ﴾ پڑھا کرو یہاں تک کہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہوجائے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 801)
۲۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابوطلحہ انصار مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار تھے، ان کے پاس کھجور کے باغ تھے، اپنے تمام مالوں میں ان کو بیرحاء بہت زیادہ محبوب تھا، اس کا رخ مسجد نبوی کی طرف تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جاتے اور وہاں کا پاکیزہ پانی پیا کرتے تھے۔ انس نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری کہ تم نیکی نہیں پاسکتے جب تک کہ تم اپنی پیاری چیز اللہ کے راستے میں خرچ نہ کردو اور میرے تمام مالوں میں بیرحاء مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے اور وہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے، میں اس کے ثواب اور ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں، اس لئے آپ اسے رکھ لیں۔ اور جہاں مناسب ہو، صرف کیجیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاباش، یہ تو مفید مال ہے، یہ تو آمدنی کا مال ہے اور جو تو نے کہا، میں نے سن لیا۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے رشتہ داروں میں تقسیم کردو، ابوطلحہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کروں گا۔چنانچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1374)
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمہ یا دو لقمہ ادھر سے ادھر پھیراتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کو مالداری حاصل نہیں ہے اور وہ شرم محسوس کرتا ہے اور لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1388)
۴۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مالدار کا ادائے قرض میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی شخص کا قرض مالدار کے حوالہ کر دیا جائے تو اسے قبول کر لینا چاہئے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2143)
۵۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ اس میں زیادہ مسکین تھے اور مالدار لوگ دروازہ پر روک دئیے گئے تھے پھر میں نے دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو اس میں عموماً عورتیں تھیں۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 181)
۶۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ ایک رات میں باہر نکلا، تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنہا کہیں تشریف لے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی آدمی نہیں، میں نے خیال کیا۔ کہ شاید آپ اس چیز کو نا پسند کرتے ہیں، کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے اس لئے میں چاندنی میں آپ کے پیچھے پیچھے چلا، آپ مڑے، تو مجھ کو دیکھ لیا، فرمایا، کون؟ میں نے جواب دیا، ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے آپ نے فرمایا اے ابوذر آؤ، میں آپ کے ساتھ تھوڑی دیر تک چلتا رہا، آپ نے فرمایا زیادہ مال والے قیامت کے دن نیکی کے اعتبار سے مفلس ہوں گے، مگر وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اپنے دائیں بائیں آگے، پیچھے اس کو خرچ کیا، اور نیک کاموں میں اس مال کو لگایا (تو وہ شخص نیکی کے اعتبار سے بھی مالدار ہوگا) پھر میں آپ کے ساتھ تھوڑی دیر چلا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ یہیں بیٹھ جاؤ مجھے ایسے میدان میں بٹھلایا، جس کے چاروں طرف پتھر تھے، فرمایا کہ جب تک میں نہ لوٹوں اس وقت تک یہیں بیٹھے رہو، آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے، یہاں تک کہ میری نظر سے غائب ہوگئے آپ نے وہاں بہت دیر لگائی، پھر میں نے دیکھا کہ آپ واپس تشریف لا رہے ہیں میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، کہ اگرچہ چوری کی ہو، اگرچہ زنا کیا ہو، جب آپ میرے پاس تشریف لے آئے، تو میں صبر نہ کر سکا اور پوچھ ہی لیا یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھ کو اللہ تعالیٰ آپ پر فدا کرے، آپ اس پتھریلی زمین کی طرف کس سے گفتگو فرما رہے تھے، میں نے کسی کو آپ سے بات کرتے ہوئے نہیں سنا، آپ نے فرمایا، وہ جبریل علیہ السلام تھے میرے پاس پتھریلی زمین میں آئے تھے، انہوں نے کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دیجئے کہ جو شخص مر گیا، اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں نبایا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے کہا اے جبریل، اگرچہ چوری کی ہو اور، اور اگرچہ زنا کیا ہو، کہا ہاں! میں نے کہا، اگرچہ چوری کی ہو اور اگرچہ زنا کیا ہو، جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں اگرچہ شراب پی ہو۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1364)
۷۔ ابوصالح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین فقراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ مالدار لوگ اعلی درجہ اور ہمیشہ کی نعمتوں میں چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جس طرح کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی روزہ رکھتے ہیں جس طرح کہ ہم روزہ رکھتے ہیں اور وہ صدقہ نکالتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں دے سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد نہیں کر سکتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ سکھاؤں کہ جو تم سے سبقت لے گئے ہیں تم انہیں پالو اور اپنے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ اور کوئی تم سے افضل نہ ہو سوائے اس کے کہ جو تمہارے جیسے کام کرے، انہوں نے عرض کیا کہ ہاں اے اللہ کے رسول! فرمائیے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ اور اَللَّهُ أَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ پڑھا کرو، راوی ابوصالح کہتے ہیں کہ مہاجرین فقراء دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی یہ سن لیا ہے اور وہ بھی اسی طرح کرنے لگے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالی کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور روایت میں غیر قتیبہ نے یہ زائد کہا ہے کہ لیث بن عجلان سے روایت ہے کہ سمی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے گھر والوں میں سے کسی سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ تم کو وہم ہوگیا ہے بلکہ اس طرح فرمایا کہ 33دفعہ سُبْحَانَ اللَّهِ 33دفعہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ 33دفعہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہو (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1342)
۸۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے اوہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2323)
۹۔عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا وہ آدمی کہنے لگا اے ابو محمد اللہ کی قسم ہمارے پاس کچھ نہیں ہے نہ خرچ ہے نہ سواری نہ مال ومتاع حضرت عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالی نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم مہاجرین فقراء قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے وہ آدمی کہنے لگا ہم لوگ صبر کریں گے اور ہم کچھ نہیں مانگتے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2966 )
۔10۔عبد اللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ جس ولیمہ میں امراء کی دعوت ہو اور غرباء نہ بلائے جائیں، تو وہ کھانا سب سے زیادہ برا ہے اور جو شخص دعوت کو چھوڑ دے تو گویا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 163)
11۔ ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ابوسلمہ کے بچوں کو خرچ دینے میں مجھے ثواب ملے گا میں انہیں اس حالت میں اور اس طرح (فقر کی حالت میں) چھوڑ نہیں سکتی وہ بھی میرے ہی بچے ہیں، آپ نے فرمایا ہاں تجھے ثواب ملے گا جو تو انکی ذات پر خرچ کرے گی۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 337)
۱۳۔ مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ عمرو بن عوف نے (جو بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک تھے) بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف بھیجا، تاکہ جزیہ لے آئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحرین کے لوگوں سے صلح کرلی تھی اور علاء بن حضرمی کو ان پر امیر مقرر فرمایا تھا،چنانچہ ابوعبیدہ بحرین سے مال لے کر آئے، انصاری نے ان کے آنے کی خبر سنی تو صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہو گئے، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو یہ لوگ آپ کے سامنے آئے آپ نے جب ان لوگوں کو دیکھا تو آپ مسکرائے، اور فرمایا میں گمان کرتا ہوں کہ تم لوگ ابوعبیدہ کے آنے کی، اور کچھ لانے کی خبر سن کر آئے ہو؟ لوگوں نے کہا، ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے فرمایا، تو تمہیں خوش خبری ہو، اور تم امید رکھو، اس چیز کی جو تمہیں خوش کردے گی، خدا کی قسم میں تمہارے فقر سے نہیں ڈرتا ہوں لیکن میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کردی گئی تھی، تو تم رغبت کرنے لگو، جس طرح وہ رغبت کرنے لگے اور تمہیں غافل کردے جس طرح ان لوگوں کو غافل کردیا تھا۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1347)
13۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فقراء مسلمان جنت میں اغنیاء سے نصف دن پہلے داخل ہوں گے اور وہ آدھا دن پانچ سو سال کا ہوگا (کتاب جامع ترمذی جلد 2 حدیث نمبر 237 )
۱۴۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھا کرتے تو اصحاب صفہ میں سے بعض حضرات بھوک سے نڈھال ہو کر بے ہوش کر گر جاتے تو دیہاتی لوگ کہتے کہ یہ پاگل ہیں چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو ان سے فرماتے اگر تم جان لو کہ اس فقروفاقے پر اللہ تعالی تمہیں کس قدر انعام و اکرام سے نوازیں گے تو تم اس سے بھی زیادہ فقروفاقے کو پسند کرنے لگو فضالہ کہتے ہیں کہ میں اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 250)
۱۵۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ابوخالد نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکو مرفوعاً روایت کیا کہ اللہ فرماتا ہے اے آدم کے بیٹے تو اپنا دل بھر کر فراغت سے میری عبادت کر میں تیرادل بھردوں گا تونگری سے اور تیری مفلسی دور کر دوں گا اور اگر تو ایسا نہیں کریگا تو میں تیرا دل (دنیا کے) بکھیڑوں سے بھر دوں گا اور تیری مفلسی دور نہیں کروں گا۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 988)
۱۶۔ معبد بن خالد، حارث بن وہب، خزاعی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں وہ ہر کمزور اور حقیر ہے اگر اللہ پر کوئی قسم کھالے تو اللہ اس کو پورا کردے کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں وہ شریر مغرور اور تکبر والے لوگ ہیں (آیت) جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔ حوالہ: (بخاری ۔جلد ۲ حدیث نمبر۲۰۳۲)
۱۷۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہلاک ہوا بندہ دینار کا اور بندہ درہم کا اور بندہ چادر کا اور بندہ شال کا اگر اسکو یہ چیزیں دی جائیں تب وہ راضی ہے اور جو نہ دی جائیں تو وہ کبھی اپنے امام کی بیعت پوری نہ کرے۔( سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1016)
۱۸۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک نجات پائی اس نے جس کو اسلام کی ہدایت ہوئی اور ضرورت کے موافق روزی دی گئی اور اس پر قناعت کی۔(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1019)

One response to this post.

  1. May Allah bless u 4 writing informative article n putting together all the hadiths concerned with as 2 how should the poor people can increase their ranks as compared with the rich in front of Allah. Aqil Sir u have done a wonderful job.May Allah give us Muslims the strength 2 follow n patience 2 practice whatever is written with sincerity. Aameen.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s