وینا ملک اور ہمارا میڈیا


حال ہی میں بھارت کے ایک میگزین نے پاکستانی اداکارہ وینا ملک کی عریاں تصاویر شائع کی ہیں۔جس کے بعد ہمارے ہاں میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث و مباحثے کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔کم و بیش تمام لوگ وینا ملک کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔ جبکہ موصوفہ مختلف ٹی انٹریوز میں اپنی پوزیشن کو یہ کہہ کر صاف کررہی ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔انہوں نے عریاں نہیں بلکہ نیم عریاں تصویروں کا شوٹ کرایا تھا۔ظاہرہے کہ ان کے اس استدلال کو بھی قبول نہیں کیا جارہا اور میڈیا ٹرائل سے لے کر عدالتی مقدمہ اور فتویٰ، ہر چیز کا انہیں سامنا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وینا ملک کا عمل اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل قابل مذمت ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس کے خلاف احتجاج اور غیر ت ملی کا مظاہرہ وہ لوگ کررہے ہیں جن کے ملک کو گوگل سرچ انجن کے ریکارڈ کے مطابق پچھلے دس برسوں سے مستقل یہ ایوارڈ مل رہا ہے ہے کہ انٹر نیٹ پر غلیظ ترین فحش مواد دیکھنے میں وہ دنیا بھرمیں سر فہرست ہے۔اس صورتحال میں نجانے کیوں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ (انجیل یوحنا باب 8)یاد آرہا ہے ۔ آپ کے سامنے یہودیوں نے شرارتاًایک زانیہ کو پیش کیا اور کہا کہ اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیجیے۔ اس شرارت کاآپ نے جو جواب دیا وہ آج دو ہزار سال بعد بھی بے مثل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جو بے گناہ ہو پہلے وہی اسے پتھر مارے۔یہ سن کر ساری بھیڑ چھٹ گئی۔
بہتر ہوگا کہ وینا ملک سے سوال کرنے سے پہلے ہمارے میڈیا کو چاہیے کہ ذرا اپنے پروگراموں کا جائزہ لے کر دیکھے کہ کس قسم کے ہیجان انگیز چیزیں دکھانا ان کا معمول ہے۔ عوام کو دیکھنا چاہیے کہ کس طرح کی فلمیں، رقص، تصویریں ؛میڈیا اور نیٹ پر وہ دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد ضمیر مطمئن ہوجائے تو وینا ملک کوجو دل چاہے کہہ لیں۔
مصنف: ریحان احمد یوسفی

Advertisements

12 responses to this post.

  1. Masaallah Rehan Bhai u have written an excellent article. the problem with the society of ours is that majority of us never 2 c what is our media in particular n the public in general is doing.

    جواب دیں

  2. اگرچہ گوگل سرچ پر فحش مواد کی تلاش میں پاکستان کے سرفہرست ہونے والی بات پر مجھے اعتراض ہے تاہم یہاں وہ نقطہ اتنا اہم نہیں۔ اہم نقطہ یہ ہے کہ زیادہ تر تماش بین پاکستانی ہی وینا پر اعتراض کر رہے ہیں۔

    جواب دیں

  3. […] وینا ملک کوجو دل چاہے کہہ لیں۔ مصنف: ریحان احمد یوسفی وینا ملک اور ہمارا میڈیا نوٹ: اگرچہ گوگل سرچ پر فحش مواد کی تلاش میں پاکستان کے […]

    جواب دیں

  4. The figures disclosed in a report that google receives most search queries from Pakistan on such stuff were fake as most of the Pakistanis don’t have access to internet.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s