بڑا آدمی

میں جب بچہ تھا تو یہ گمان کرتا کہ بڑا آدمی وہ ہے جس کا قد لمبا ہو۔ چنانچہ میں پنجوں کے بل کھڑا ہونے کی کوشش کرتا تو کبھی کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہو جاتا تاکہ خود کو بڑا ثابت کرسکوں۔ جب کچھ شعور میں ارتقاء ہوا تو علم ہوا کہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کا قد لمبا ہو بلکہ وہ ہے جس کی عمر زیادہ ہو۔ چنانچہ میں جلد از جلد عمر میں اضافے کی تمنا کرنے لگا تاکہ بڑا بن سکوں۔
جب زندگی نوجوانی کی عمر میں داخل ہوئی تو پتا چلا کہ بڑے آدمی کا تعلق عمر سے نہیں دولت سے ہوتا ہے ۔ جس کے پاس اچھا بنک بیلنس، لیٹسٹ ماڈل کی کاریں ، عالیشان مکان اور آگے پیچھے پھرتے نوکر چاکر ہوں تو اصل بڑا آدمی تو وہی ہوتا ہے۔
جب میں نے یہ دولت اور آسائشیں حاصل کر لیں تو محسوس ہوا کہ میں ابھی تک بڑا آدمی نہیں بن پایا۔ اندر کےچھوٹے پن کی ایک خلش سی محسوس ہونے لگی۔یہ خلش اتنی بڑھی کہ راتوں کو اچانک آنکھ کھل جاتی اور یہ سوال ہتھوڑے کی طرح دماغ پر اثر انداز ہوتا۔ چنانچہ میں دوبارہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا کہ ” بڑا آدمی ” کون ہے؟
میں صوفیوں کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ بڑا آدمی وہ ہے جو خود کو نفس کی خواہشات سے پاک کرلے، جوگیوں نے کہا کہ دنیا چھوڑ دو ، یہ دنیا تمہارے پیچھے چلنے لگے گی اور یوں تم بڑے آدمی بن جاؤگے۔دنیا داروں نے مادی سازو سامان میں اضافے کا مشورہ دیا۔ فلسفیوں نے علم میں اضافے کے ذریعے لوگوں پر دھاک بٹھانے کے لئے کہا۔ لیکن ان میں سے کسی جواب سے تشفی نہ ہوئی کیونکہ ہر جواب انسانوں کا بنایا ہوا تھا۔
پھر خیال ہوا کہ یہ بات کیوں نہ اسی سے پوچھ لی جائے جو سب سے بڑا ہے۔ چنانچہ خدا سے لو لگائی اور اس کی کتاب اٹھالی۔ قرآن کو دیکھا تو علم ہوا کہ خدا کے نزدیک "بڑا آدمی” وہ ہے جو خدا کا تقوٰی اختیار کرلے، خود کو اپنے خالق کے سامنے ڈال دے، اپنی ہر خواہش کو اس کے حکم کے تابع کرلے، اپنا جینا ، مرنا خدا سے وابستہ کرے، اپنی جسم کی ہر جنبش پر رب کا حکم جاری کردے، اپنے کلام کے ہر لفظ کو اسکے رعب کے تابع کرلے، اپنے دل کی ہر دھڑکن اسکے یاد کے معمور کرلے۔سب سے بڑھ کر بڑا آدمی وہ ہے دنیا میں خدا کے مقابل چھوٹا بننے پر آمادہ ہوجائے ۔ اگر یہ سب ہوجائے تو خدا اس شخص کو اتنا بڑا کردیتا ہے کہ وہ پہاڑوں کی بلندیوں سے بلند ہوجاتا ہے۔
کیا آپ بھی بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں؟

از پروفیسر محمد عقیل
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

4 responses to this post.

  1. Posted by irfan on 03/01/2012 at 5:41 شام

    ٓدم کو کسی پھل کھانے سے منع نہیں کیا گیا۔ صرف
    اتنا کہا گیاتھا کہ دونوں کو
    "لا تقربا ھذہ الشجرۃ ”
    جیسے کہا گیا کٗی بار ” لا تقربوا الزناؔ”
    ان کو جنسی عمل کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

    جواب دیں

  2. Aoa bbhai ap se aik sawal puchna hai k ap ne Allah pak se itna mazboot taaluq keise bana liya ?

    جواب دیں

  3. Sir u have written a good article it means we have 2 be in constant touch with the book of Allah in order 2 learn the importance of this world n the hereafter.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s