کیا زرداری حکومت سے نجات روشن مستقبل کی ضامن ہے؟


مشہور دانشور ڈاکٹر منظور احمد نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پاکستان بننے سے قبل مسلمانوں کے ذہن میں ایک فلاحی اسلامی مملکت کا وہی تصور تھا جو ایک غیر شادی شدہ انسان کا میرج لائف سے متعلق ہوتا ہے۔ برصغیر کے مسلمان ایک نئی مملکت کے بارے میں بڑے پر امید اور پرجوش تھے بلکہ شاید ان کے ذہن میں خلافت راشدہ کا تصور تھا۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو تمام امیدیں خاک میں مل گئیں اور یہ ملک بہت جلد جاگیردار اور دیگر استحصالی طبقات کے ہاتھوں یر غمال بن گیا۔
جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو ان سے یہی توقعات قوم نے وابستہ کرلیں۔ گو کہ پاکستان نے معاشی طور پر بہت ترقی کی لیکن یہ دولت بائیس خاندانوں تک محدود رہی اور اسکے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پائے۔ چنانچہ اسی قوم نے صدر ایوب کو ہٹا دیا اور یوں حکومت یحیٰ خان کے ہاتھ میں چلی گئی۔ قوم ابھی ان سے امیدیں وابستہ بھی نہیں کرپائی تھی کہ مشرقی پاکستان الگ ہوگیا۔نتیجے کے طور پر بچا کچھا ملک ذوالفقار علی بھٹو کی لِڈر شپ میں آگیا۔ انہوں نے روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر لوگوں کو ایک نئی سمت کی جانب گامزن کیا لیکن اس سے ادارے قومیائے جانے کی بنا پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔
قوم کو دوبارہ کسی مسیحا کی تلاش تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے نظام مصطفیٰ کا نعرہ مارا اور میدان میں کود گئے۔ کم و بیش ایک دہائی تک یہ کھیل چلتا رہا لیکن قوم نہ تو اسلام کے ثمرات سے بہرہ مند ہوئی اور نہ ہی اس کی معاشی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ان کے بعد لوگوں نے جمہوریت سے امیدیں وابستہ کی لیکن محترمہ بے نظیر اور نواز شریف دونوں دو دو مرتبہ چانس ملنے کے باوجود قوم کو مایوسی کے سو ا کچھ نہ دے پائے۔
نتیجہ پرویز مشرف کے مارشل کی صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ قوم دوبارہ یہ سمجھنے لگی کہ اب وہ وقت دور نہیں کہ ملک میں ترقی، روزگار کی فراہمی اور دیگر فلاح و بہبود کے کام ہونگے۔ ابتدا میں کچھ آثار مثبت تھے لیکن بعد میں وہی سیاسی بازی گری، کرپشن، بدامنی اور غربت کی داستان دہرائی جانے لگی۔
اس زبوں حالی میں عوام نے پہلی مرتبہ ایک نئے ادارے یعنی عدلیہ سے توقعات وابستہ کرلیں۔ یوں عوام، میڈیا اور وکلا ء سب نے مل کر پرویز مشرف کو ہٹانے کی ٹھان لی۔ لوگ پھر یہ سمجھنے لگے کہ عدلیہ بحال ہوگئی اور مشرف کو ہٹا دیا گیا تو ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی اور شیرو بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پئیں گے۔لیکن جب چیف جسٹس بحا ل اور مشرف مستعفی ہوگئے تو وہی ڈھاک کے تین پات۔ عدلیہ اپنی نیک نیتی کے باوجود مہنگائی، غربت، بدامنی اور کرپشن کو کم نہ کرپائی۔
آج ملک کا حال یہ ہے کہ کرپشن عروج پر ہے۔ریلوے ، پی آئی اے، اسٹیل مل اور دیگر ادارے آخری ہچکیاں لیتے نظر آرہے ہیں۔ بجلی ، گیس اور پانی کی دستیابی ایک مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ جبکہ حکمران میمو گیٹ اسکینڈل میں اپنی گردنیں بچانے اور بچی کچھی دولت کو ہڑپ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ اس صورت حال میں عوام ایک مرتبہ پھر یہ سمجھ رہی ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے حالات بہتر ہوجائیں گے۔ گویا قوم دوبارہ اسی سوراخ میں ہاتھ ڈال رہی ہے جس سے وہ کئی مرتبہ ڈسی جاچکی ہے۔
حکومت کی تبدیلی ناگذیر تو ہے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔ موجودہ حکمران بدل جائیں گے کو دوسرے آکر کم و بیش یہی سب کچھ کریں گے۔ اس ملک کے مسائل کا حل یک رخی نہیں کہ حکومت بدلنے سے تمام مسائل حل ہوجائیں۔ ان مسائل کو کئی سمتوں سے ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔
ان اہداف میں ایک سب سے بڑا ہدف یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ کسی گروہ کی اصلاح کی بات کی جائے، فرد کی اصلاح کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ ہر گروپ خواہ حکومت ہو ، عدلیہ ہو ، میڈیا ہو یا دیگر ادارے ، یہ سب افراد پر مشتمل ہوتے اور ان کی حرکتوں کے عکاس ہوتے ہیں۔ اگر ایک فرد کو بدعنوانی، چوری، کام چوری، رشوت ستانی اور دولت کی ہوس سے دور رکھا جائے تو ممکن نہیں کہ کوئی ادارہ بحیثیت مجموعی کرپٹ ہو۔
اس کے لئے ابتدائی طور پر اسلامی اخلاقیات پر مبنی ایسا لٹریچر ترتیب دیا جائےکہ لوگ خود اپنی اصلاح کی جانب مائل ہوں اس لٹریچر کی بنیاد پر لیکچرز، سیمنار اور ورک شاپ کنڈکٹ کی جائیں۔ دوسرے مرحلے میں ایسی تربیت گاہیں اور ٹریننگ سینٹرز قائم کئے جائیں جہاں جدید طرزپر ان اخلاقی اصولوں کی تربیت فراہم کی جائے۔ ان سینٹرز کا ابتدائی کام مساجد اور تعلیمی درسگاہوں سے بھی لیا جاسکتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی ہر کلاس میں اخلاقیات کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے ۔
اس وقت ضرور چہرے بدلنے کی نہیں بلکہ خود کو بدلنے کی ہے۔ جب تک فرد کرپٹ رہے گا تو ہر ادارہ بدعنوان رہے گا۔ آج امریکہ و برطانیہ کی ترقی کا راز یہ نہین کہ وہاں کے حکمران اچھے ہیں ۔ بلکہ اس کا راز یہ ہے کہ وہاں کا عام آدمی اچھا بھی ہے اور تربیت یافتہ بھی۔ آئیے آج سے خود کو اخلاقیات سے متصف کریں تاکہ ملک کی حالت سدھاری جاسکے۔
مصنف: پروفیسر محمد عقیل
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

One response to this post.

  1. May we all benefit by reading n practicing what ever u have written. In order 2 bring change in our society we must change our selves then n only then we can bring change. May Allah bless u.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s