وینا ملک اور ہمارا میڈیا : دو وضاحتیں

پچھلے دنوں ایک پاکستانی اداکارہ وینا ملک کی تصاویر کے حوالے سے میں نے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ اس کی مضمو ن اشاعت کے بعد بعض نکات اٹھائے گئے ۔ان میں سے دو بنیادی نکات کے بارے میں مجھے گفتگو کرنی ہے ۔
پہلی بات اس غلط تاثر کی نفی ہے جو بعض لوگوں نے لیا ۔ انہوں نے میری بات یہ سمجھی کہ چونکہ معاشرے میں میڈیا فحاشی پھیلانے اور پاکستانی عوام اسے دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے وینا ملک نے جو کچھ کیا وہ قابل گرفت نہیں۔ گویا ان کے نزدیک میں وینا ملک کی حمایت کررہا ہوں اور لوگوں کے دل سے برائی کی شناعت بھی ختم کردینے کا خواہشمند ہوں۔
میں اس کے جوا ب میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس اداکارہ کا معاملہ نقل کرنے کے بعد جب میں نے اس پر تبصرہ شروع کیا تو پہلا جملہ یہ لکھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وینا ملک کا عمل اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل قابل مذمت ہے”۔”
سوال یہ ہے کہ جو تبصرہ جو اس جملے سے شروع ہورہا ہو، اس کے بارے میں وینا ملک کی حمایت کا تاثر دینا کون سا انصاف ہے۔اس قسم رائے قائم کرنے والوں کے پاس کیا اخلاقی اور قانونی جواز ہے۔اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ میرے مضمون سے ایک جملہ بھی نقل کرکے یہ نہیں بتاسکے کہ میں کس طرح وینا ملک کی حمایت کررہا ہوں۔میرے مضمون کے نام سے لے کر اس کے آخری پیراگراف تک پڑھنے والا شخص اگر زبان و بیان کا ادنیٰ سا ذوق بھی رکھتا ہے اور اس نے مضمون توجہ سے پڑھا ہے تو باآسانی وہ یہ جان سکتا ہے کہ یہ مضمون وینا ملک کی حمایت میں نہیں بلکہ میڈیا کے اس رویے کی تنقید میں لکھاگیا ہے جس میں اپنے پروگراموں کی ویور شپ بڑھانے کے لیے وہ انتہائی ہیجان انگیز رقص، نیم عریاں اداکارو ں کے جلوے اور اسی نوعیت کی دیگر چیزیں معمول کے طو رپر دکھاتے ہیں۔وینا ملک پر زیادہ تنقید اس لیے نہیں کی کہ اس پر تو ہر شخص پہلے ہی تنقید کررہا تھا۔ ایسے میں اس کی تنقید میں صفحات کالے کر کے کیوں اپنا وقت برباد کرتا۔ اصل مقصود عوام اور میڈیا کی اصلاح مقصود تھی۔ الحمد اللہ قارئین کی ایک بڑی تعداد نے اصل مدعا کو پالیا۔
دوسری وضاحت طلب چیز میرا وہ جملہ ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ انٹر نیٹ پر غلیظ ترین فحش مواد دیکھنے میں اہل پاکستان دنیا بھرمیں سر فہرست ہیں۔ یہ بات میں نے بلاشبہ لکھی ہے اور جو شخص چاہے اس کی تصدیق گوگل ٹرینڈ سرچ کی ویب سائٹ پر جاکر اس کی تصدیق کرسکتا ہے۔ میں متعلقہ لنک کا حوالہ بھی دے دوں گا مگر ایک دو گزاشات پیش کرنی ضروی ہیں۔
میرے علم میں یہ بات 2005 ہی سے تھی کہ گوگل سرچ انجن کیا بیان کررہا ہے۔ تاہم سن 2010میں جب بعض امریکی اور بھارتی اخبارات نے ہمارے ملک کا مضحکہ اڑاتے ہوئے مزید معلومات کے ساتھ یہ رپورٹ بیا ن کی تومیں نے اس کی تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے گوگل پر جاکر خود یہ ساری معلومات دیکھیں۔ پھر دنیا بھی میں یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ کسی طرح اس کی تردید ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تردید ڈھونڈنے کی خواہش میرے لیے بالکل فطری تھی کہ اپنے ملک کے متعلق ایسی بات سننا شرمنا ک تھا۔ بدقسمتی سے کہیں کوئی تردید نہیں تھی۔ ایسی ہی لایعنی ، بے ثبوت اور لایعنی باتیں سامنے آئیں جیسی کے میرے مضمون کی اشاعت کے بعد سامنے آئی ہیں۔یہ باتیں تردید تو کسی پہلو سے نہیں تھیں، ہماری اس اخلاقی کمزوری کا ایک بیان تھیں کہ ہم جس بات کو ماننا نہ چاہیں ، اس کے لیے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔مثلاً ایک دوست نے ایک مضمون کا حوالہ دیا جو کسی نامعلوم شخص نے اس بات کی تردید میں لکھا تھا۔ مگر کمال دیکھیے کہ یہ تردیدان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔
Whatever keywords Fox News has mentioned are factual and not made-up. I don’t deny the fact that Pakistan ranks 1st on these keywords. I also don’t deny the fact that porn is popular in Pakistan.
یعنی فاکس نیوز نے جن الفاظ(کی ورڈ)کا ذکر کیا وہ حقیقی ہیں اور من گھڑ ے نہیں ۔ میں اس حقیقت کا ہرگز انکار نہیں کرتا کہ پاکستان ان الفاظ کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔میں اس حقیقت کا بھی انکار نہیں کرتا کہ فحش بینی پاکستان میں مقبو ل ہے۔ یہ "کی ورڈ” یا الفاظ کتنے شرمناک ہیں اس کا اندازہ اسی مضمون میں موجود فاکس نیوز کی رپورٹ کے اصل الفاظ پڑھ کر کیا جاسکتاہے ۔جودرج ذیل ہیں۔
Pakistan is top dog in searches per-person for horse sex since 2004, donkey sex since 2007, rape pictures between 2004 and 2009, rape sex since 2004, child sex between 2004 and 2007 and since 2009, animal sex since 2004 and dog sex since 2005, according to Google Trends and Google Insights, features of Google that generate data based on popular search terms.
مجھ میں اس بے ہودگی کا ترجمہ کرنے کی ہمت نہیں اوریہی وہ چیز تھی جس کو میں نے اپنے مضمون میں غلیظ ترین فحش مواد کہا تھا۔مگر اس تمام بات کا مطلب یہ ہوا کہ تردید کرنے والا پہلے مرحلے پر یہ مان رہا ہے کہ فاکس نیوز نے جو لکھا سچ لکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد تردید کرنے کے لیے بچا ہی کیا ہے۔ سوائے درج ذیل الفاظ کے۔
However, I deny that Pakistan is No. 1 Nation in Sexy Web Searches as claimed by Fox News.
اس کے بعد انہیں نے یہ ثابت کرے کی کوشش کی ہے کہ جن الفاظ کی تلاش سے اصل میں پورناگرافی دیکھی جاتی ہیے وہ کچھ اور ہیں اور ان میں سب سے نمایاں لفظ سیکس ہے۔بقول ان کے اس لفظ کی تلاش میں پاکستان شامل نہیں۔میں یہ مضمون پڑھنے کے بعد دوبارہ گوگل سرچ انجن پر جاکر یہ سب سارے اعداد شمار تلاش کیے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان2004 تا 2007 تک لفظ سیکس کی تلاش میں پہلے اور 2011میں دوسرے نمبر پررہا ہے۔اسی طرح جب سے گوگل نے یہ ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے، اس وقت سے آج تک آٹھ برس میں انٹر نیٹ پر لفظ سیکس سب سے زیادہ پاکستان سے تلاش کیا گیا ہے۔یہ تمام معلوم آپ خود بھی براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔ درج ذیل لنک پر جاکر سرچ ٹڑینڈ کے خانے میں لفظ سیکس لکھنے سے یہ ساری معلومات مل جائیں گی۔
http://www.google.com/trends
یا براہ راست یہ لنک ایڈریس بار پر کاپی کردیجیے۔
http://www.google.com/trends?q=sex
اس نتیجے میں جو صفحہ سامنے آئے گا اس میں نیچے ملک کے اعتبار سے تفصیل ہے وہاں سر فہرست پاکستان کا نام ہے۔ میری ابھی بھی خواہش ہے کہ اس بات کی کسی طرح کوئی تردید ہوجائے ۔مگر جب تک مدلل تردید نہیں ہوتی، محض اندازوں کی بنیاد پر کوئی وجہ نہیں کہ گوگل کو غلط قرار دیا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا بہرحال یہ ایک حقیقت اور ایک زندہ مسئلہ ہے۔اس مسئلے کا حل اگر کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ شتر مرغ کی طرح گردن ریت کے اندر چھپالیں توان کی مرضی۔ ہمارے نزدیک حقائق کا جرات کے ساتھ سامنا کرنا اور اصلا ح کی کوشش کرنا ہی کرنے کا اصل کام ہے۔ ہم یہی کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس راہ سے نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ہیں روک سکتی ہے نہ کسی فرقہ پرست کے دل کااندھا پن ہماری راہ میں اندھیرے بکھیر سکتا ہے۔ یہ ذمہ داری ہمارے رب نے ہم پر عائد کی ہے اور اس کے نور کے سہارے انشاء للہ یہ ذمہ داری ہم ادا کرتے رہیں گے۔
مصنف : ریحان احمد یوسفی

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 06/01/2012 at 3:35 شام

    پروفیسر صاحب یہ گوگل ٹرینڈ کچھ پراسرار معلوم نہیں ہوتا؟ جب پاکستان کے لنک پر کلک کریں تو چینی زبان انگریزی سے اوپر دکھائ دیتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

    اور کیا یہ ممتن ہے کہ اس میں سے کچھ سرچ تعلیمی مقاصد اور تجسس کے لیے ہوں، مثلا sex education وغیرہ۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس تعلیم کا خاطر خواہ انتطام نہیں کیا جاتا۔ گھر پر والدین قبل از انٹرنیٹ کے دور میں زندہ ہیں، وہ اس وقت تک انتطار کرتےہیں جب تک پانی سر سے گزر نہیں جاتا، اسکولوں میں جنسی تعلیم کی بات کرنے والا یونہی مردود ٹھہرتا ہے۔ کیا فرماتے ہیں آپ اس بیچ؟

    جواب دیں

  2. میری تو سمجھ مین نہی آتا کہ آخر ہو کیا رہا ہے
    ھکومت کو وینا عوام کو وینا میڈیا کو وینا ہی دیکھائی دے رہی ہے

    میڈیا کبھی کود بھی جھانکے اپنے گریبان میں یہ وینا اور جانے ان جیسی کتنی وینائین ان کی خود تیار کردہ ہیں
    اور جس ھال سے مستقبل کی جانب یہ لے جا رہا ہے
    جلد ہی پاکستان مین ایسے ہی ڈرامے ائیں گے جسے کم سے کم مجھ سی دقیانوسی عورت اپنے بچون اور گھر کے دوسرے افراد کو دیکھانا تو درکنار اس کے متعلق بات کرنے پر بھی واویلا مچا دوں گی

    حکومت کو اپنی کرسی اور دوسرون پر الزام تراشی سے ہی فرصت ہین
    کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور رہے گا
    حکومت کی بات چھوڑ دیں

    اب رہی عوام

    اپنے اعمال کی درستگی کی فکر نہیں
    ناچ گانے کے پروگرامز دیکھنے کے ہم عادی ہیں
    بالی ود ہی ہمارا قبلہ بن چکا ہے
    گھر گھر مین ناچ گانے ہیں

    منی ہو یا شیلا بچے بچے کو یاد ہے
    6کلمے اور دیگر دعائیں شائد ہی کوئی مکمل طور پر تھیک سنا سکے
    علم کا فقدان ہے
    کیا کچھ کہوں
    کیسا یہ اب پاکستان ہے

    یہی حال رہا تو شائد کل ہمارے اپنے بچے ویناؤں کی نقل پر ان سے بھی آگے ہون

    اللہ ہمیں ایمان پر قائم رکھے

    اور ہر پاکستانی کا قبلہ درست کرے

    ہم تو بس لذت چاہتے ہیں زبان کی چاشنی اب ایسی ہی گفتگو مین ہی رہ گئی ہے

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Bashir on 04/01/2012 at 7:35 شام

    Assalamu alaikum. Bilkul baja farmaya aap ne. Allah aap ko yeh jehad jari rakhane ke liye istaqamat aur himmat ata farmaye. aameen.

    جواب دیں

  4. Thank you sir for giving us information about our public. May Allah guide us to the straight path n to use our time properly for the sake of Allah.May Allah bless you.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s