اچھائی اور برائی


“جناب آپ کا کام ہوجائے گا لیکن کچھ خرچہ پانی دینا پڑے گا”۔ پولیس کے ہیڈ محرر نے اجمل کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
” کتنا خرچہ ہوگا”؟ اجمل نے جلدی سے پوچھا کہ محرر اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرلے۔ وہ صبح سے تھانے کے تین چکر لگا چکا تھا اور ہیڈ محرر مل کر نہیں دے رہا تھا۔ اسے اپنی کار جو چوری ہونے کے بعد مل گئی تھی کے لئےتھانے سے کلیرینس چاہئے تھی۔
“پندرہ سو روپے ہونگے جناب؟” محرر نے ترپ کا پتہ پھینکا کیونکہ وہ اجمل کی آنکھوں کا اضطراب پڑھ چکا تھا۔
“بس بھائی ، ایک ہزار روپے میں معاملہ طے کرلو”۔ اجمل نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ رقم زیادہ ہے لیکن وہ اس ذہنی اذیت سے چھٹکارا کرنا چاہتا تھا۔
محرر کی باچھیں کھل اٹھیں اور وہ کلئرینس دینے کے لئے تیار ہوگیا۔
“جناب کیا کریں ، تنخواہ میں گذارا نہیں ہوتا ، اگر آپ لوگوں سے خرچہ پانی نہ لیں تو گذارا نہیں ہوگا”۔ محرر اپنی غربت کا رونا روتے ہوئے بولا ۔
اجمل یہ سوچنے لگا کہ برائی کبھی بھی اچھائی کے برابر نہیں آسکتی۔ ہر برائی کی کوئی نہ کوئی توجیہہ بیان کی جاتی ہے تاکہ اس کا جواز تلاش کیا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے قبل ہی اچھائی اور برائی کا شعور اس کی فطرت میں پیوست کردیا۔ یہ خیر و شر اس مضبوطی سے انسان کے وجود سے چمٹا ہوا ہے کہ کوئی انسان اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ چنانچہ جب بھی انسان کوئی برائی کرتا ہے تو وہ اس کی توجیہہ پیش کرتا ہے تاکہ اس برائی کواچھائی کے طور پر پیش کیا جاسکے یا کم از کم اس شر سے پیدا ہونے والے ضمیر کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔
یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر برائی اپنی ذات میں تنہا ہو کر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی بلکہ یہ جھوٹے بہانے کا لبادہ اوڑھ کر نمو پاتی ہے۔چنانچہ عریانیت کو جدت پسندی کی آڑ میں میڈیا پر فروغ دیا جاتاہے، رشوت ستانی کو محدود آمدنی کی اوٹ میں پروان چڑھایا جاتا ہے، چوری و ڈکیتی پر غربت کا بہانہ تراشا جاتا، جنسی بے راہ روی کو سچی محبت گردانا جاتا اور جھوٹ پر مبنی فروخت کو مارکیٹنگ قرا دیا جاتا ہے۔
انسان جانتا ہے کہ یہ سب بہانے جھوٹے ہیں اور اسکی بنا پر وہ کسی دوسرے شخص کو اپنے خلاف یہ غلط اقدام اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر کوئی ڈاکو غربت کی آڑ میں اس کے گھر ڈاکہ ڈالے ، یا مارکیٹنگ کی آڑ میں اسے غلط سلط اشیاء فروخت کرے تو یہی انسان اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائے گا۔
آج کا انسان ان جھوٹے بہانوں کی آڑ میں بے شمار غلط کام کرہا ہے اور خود کو چھوٹ دے رہا ہے لیکن اس کا ضمیر گواہ ہے کہ وہ ظلم کررہا ہے۔ ایک دن آنے والا ہے جب یہی انسان خدا کے سامنے کھڑا ہوگا اور اس وقت اسکی زبان اور اعضاء خود اس کے خلاف گواہی دے کر تمام بہانوں کو ہوا کردیں گے۔
مصنف: پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

4 responses to this post.

  1. May we all learn from whatever you present in your articles. May Allah bless u

    جواب دیں

  2. Please correct the following sentence
    ” اس برائی اور اچھائی کے طور پر پیش کیا جاسکے”

    جواب دیں

  3. ميں تو کبھی نہ دوں کسی کو رشوت ۔ ميرے پاس فالتو پيسے نہيں ہوتے
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ہی ہی ہی
    پروفيسر صاحب ۔ کچھ تو خيال کيجئے داڑھی سفيد اور سر کے بال بہت سے جھڑ گئے اس دھندے سے بچتے بچتے ۔ وقت سے 9 سال قبل ريٹائرمنٹ لے لی تھی احتجاج کرتے ہوئے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s