عورت اورگوشت کی تھیلی


پچھلے دنوں آسٹریلیا کے ایک مسلم عالم دین مفتی شیخ تاج الدین حامد الہلالی، جن کا تعلق مصر سے ہے، نے کہا کہ جو عورتیں اپنا سر نہیں ڈھانپتیں وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود ہیں۔ یہ عالمِ دین آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی سب سے بڑی جامع مسجد میں پیش امام ہیں۔انہوں نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں خطبے کے دوران میں مذکورہ بالا بات ارشاد فرمائی۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ گوشت سے بھری تھیلی بغیر ڈھکے باہر رکھ دیں گے تو ظاہر ہے کہ بلیاں اسے کھالیں گی۔پھر اس میں قصور بلیوں کا نہیں ہوگا بلکہ گوشت کھلا رکھنے والوں کا ہوگا۔انہوں کہا کہ عورت اگر گھر میں اور باہر حجاب پہنے رہے تو اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو۔عالم دین کے اس بیان کی اشاعت کے بعد آسٹریلیا میں ایک تنازع پیدا ہوگیا ہے۔وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جبکہ دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیاوغیرہ نے بھی اس بیان پر تبصرے اور رپورٹیں شائع کی ہیں۔

عالم دین کا یہ ارشاد بظاہر اس قابل نہیں کہ اس پر کوئی سنجیدہ گفتگو کی جائے، مگر بدقسمتی سے یہ کسی فرد واحد کی رائے نہیں، بلکہ ہمارے مذہبی لوگوں کا عام نقطہ نظر یہی ہے۔ہمارے کانوں نے بارہا مذہبی مجالس میں اہل علم سے اسی قسم کے خیالات کو سنا ہے۔ گوشت کی تھیلی نہ سہی وہ خواتین کو کسی اور ’’چیز‘‘ سے تشبیہ دے کر مردوں کو یہی سمجھاتے ہیں کہ اپنی خواتین کو’’بند‘‘کرکے رکھیں۔اسی لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دینی تعلیمات کی روشنی میں ا س رائے کا جائزہ لے لیا جائے۔

اس مضمون میں ہمارے پیش نظر یہ نہیں کہ مردو زن کے اختلاط کے حوالے سے پردہ و حجاب کے جو احکام قرآن کریم میں آئے ہیں ان کی تفصیل کی جائے۔یہاں ہم صرف ان احکام کا خلاصہ اس طرح بیان کریں گے کہ دین مرد و زن دونوں پر باہمی اختلاط کے وقت کچھ پابندیاں لگاتا ہے ۔خواتین کی کچھ خصوصیات چونکہ انہیں مردوں کے لیے باعث کشش بناتی ہیں، اس لیے ان پر کچھ اضافی پابندیاں اس حوالے سے لگائی گئی ہیں کہ وہ مردوں کے سامنے اپنی زینت اور نسوانیت کا کھلم کھلا اظہار نہ کریں۔

مسلمان اہل علم کو دین کا یہ حکم خواتین تک پہنچانا چاہیے،ان کے پروردگار کے ایک حکم اور ایک پاکیزہ مطالبے کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔مگر دین کے احکام سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ جو خواتین پردہ نہ کریں، ان پر ہونے والے جنسی تشدد کی ذمہ داری ان کی اپنی ہے ، دین و انسانیت دونوں کے فہم سے عاری ہونے کا ایک ثبوت ہے۔

اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ اپنی ذہنی ساخت کی بنا پر پہلے مرحلے پر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ایک بے پردہ عورت اور ایک فاحشہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔انہیں اپنے غیر دعوتی ذہن کی بنا پر یہ اندازہ نہیں ہوپاتا کہ اکثر و بیشترمسلم مرد و خواتین دین کی بنیادی دعوت ہی سے واقف نہیں ہوتے۔ ان کا نام مسلمانوں جیسا ضرور ہوتا ہے مگر وہ دینی تعلیم کے اعتبار سے بالکل کورے ہوتے ہیں۔ایسے میں پہلے مرحلے میں ان سے پردے کا مطالبہ کرنا ٹھیک نہیں ہے، اور اگر کیا بھی جائے تو اس لب و لہجہ میں کہ خواتین گوشت کی تھیلی قرار پائیں اور اوباشوں کی جگہ وہ خود مجرم ٹھہرائی جائیں، ایسا مطالبہ کبھی موثر نہیں ہوسکتا۔

اس معاملے سے یہ بات بالکل واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ مسلمان اہل علم دعوت کی زبان میں گفتگو کرنا نہیں جانتے۔ان میں دردمندی اور لوگوں کی محبت کا مادہ باقی نہیں رہا ہے۔وہ نفرت اور دھمکی کی زبان میں بات کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔وہ سر تا سر ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ان کیفیات میں مبتلا ایک مذہبی آدمی جو زمانے کی ہوا اور میڈیا کے اثرات سے واقف نہیں ہوتا، جب خواتین کو بے پردہ اور نیم عریاں لباس پہنے دیکھتا ہے تو ساری اخلاقی حدود کو عبور کرکے ا س لب و لہجے میں گفتگو شروع کردیتا ہے ، جس کا ایک نمونہ اوپر گزرا ہے۔

اس طرح کے بیانات نہ صرف اوباشوں کو ان کی بے راہ روی کا ایک سرٹیفیکیٹ دینے کے مترادف ہیں، بلکہ انٹرنیشنل میڈیا کے اس دور میں یہ بیانات بین الاقوامی سطح پر اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔اس بیان کے بعد سی این این اور دیگر بڑے بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے اس پر تفصیلی پروگرام اور رپورٹیں نشر کی ہیں۔چنانچہ اس طرح کی باتیں نہ صرف جگ ہنسائی کا سبب بنتی ہیں بلکہ دین سے لوگوں کی دوری کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔

اس طرح کے خیالات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے اہل علم خواتین کو ابھی تک کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اہل مغرب نے اگر خواتین کو ’’چیز‘‘ سمجھ کر میڈیا کے بازار میں بیچا ہے تو ان سے شکایت نہیں، مگر اپنے لوگ بھی جب عورتوں کو ’’شے‘‘ سمجھ کراسی طرح ان سے معاملہ کرتے ہیں تو یہ بات باعث عار ہے۔ ہمارے مذہبی لوگوں کا یہ علانیہ موقف ہے کہ وہ جب کبھی اقتدار میں آئیں گے تو خواتین کو گھروں میں بند کردیں گے۔ اس کا ایک نمونہ دور جدید میں طالبان نے قائم بھی کیا تھا۔اوراس وقت بھی سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر اسی بنا پر پابندی ہے۔

جبکہ ہمارے دین نے تو خواتین کو ’’شے‘‘ سے اٹھاکر انسانیت کے مرتبے پر رکھا ہے۔ انہیں بیوقوف سمجھنے کے بجائے انہیں صاحب عقل جان کر شریعت کے احکام کا مکلف بنایا ہے۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی ان پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں لگائی گئی ہے۔صرف انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ معاشرے میں عفت و عصمت کا ماحول برقرار ر کھنے کے لیے مردوں سے زیادہ ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔یہ ذمہ داریاں انہیں ایک باشعور مسلمان سمجھ کر تفویض کی گئی ہیں، نہ کہ گوشت کی تھیلیاں سمجھ کر۔اور اس کا بدلہ یہ نہیں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ممکنہ جنسی تشدد کی ذمہ داری سے بری ہیں بلکہ اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی ابدی بادشاہی ہے
مصنف۔ :ریحان احمد یوسفی

Advertisements

11 responses to this post.

  1. Posted by haroon on 06/10/2014 at 10:06 شام

    جہان تک بات انٹرنیشنل میڈیا کی ہے وہ یہودی ہوں عیسائی ہوں ھندو ہوں یا اور کوئی ہو۔ وہ ہمیشہ اسلام سے ناخوش رہے ہیں اور آخر تک رہیں گے۔ سورۃ البقرہ آیت نمر120میں ارشاد ہے(تم سے یہودی اور عیسائی راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ان کہ مذہب کی پیروی اختیار کر لو،ان سے کہ دو اللہ کی ہدایت یعنی دین اسلام ہی ہدایت ہے

    جواب دیجیے

  2. Posted by سرفراز فیضی on 21/06/2012 at 8:57 صبح

    حجاب کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اس سے اچھی مثال کیا ہوسکتی ہے جو شیخ ھلالی نے دی ۔ شیخ نے نہ عورت کو گوشت کی تھیلی قرار دیا ہے نہ آدمیوں کو کتا بلی۔
    شیخ نے محض ایک مثال دی ہے کہ عصمت و عزت عورت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس بیش قیمتی سرمایہ کی حفاظت کرے ۔
    پھر اگر وہ اپنے اس سرمایہ کو پبلگ پراپرتی بنا دے ۔ اسے خوب آراءش و زیباءش کے ساتھ پیش کرے۔ تو اس کے لوٹ لیے جانے پر بڑی ذمہ دار وہ خود ہے ۔

    جواب دیجیے

  3. Posted by گمنام on 09/02/2012 at 12:28 شام

    its nice to read such an article and all the replies

    جواب دیجیے

  4. بہت لمبے لمبے تبصرے ہیں۔ میں انہیں تو پڑھ نہیں سکتا۔ مگر گوشت اور بلی یا کتے کی جو مثال پیش کی گئی اس میں یہ بات بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ مذکورہ مولاناصاحب سڈنی والے مردوں کو (بشمول ان کی اپنی ذات کے) عاقل و بالغ انسان نہیں سمجھتے بلکہ کتے بلی کی سی چیز سمجھتے ہیں۔
    کوئی مولانا صاحب کو بتائے کہ اگر گوشت کھلا پڑا ہو تو کتا یا بلی اٹھا کر لے جائے گا مگر عاقل بالغ فرد کسی کی چیز (چاہے اس کی نگرانی نہ کی جارہی ہو) اٹھا کر نہیں بھاگے گا۔
    مگر ہمارے مولانا صآحبان ہر بات میں عورت کو قصور وار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ قرار دینا چاہتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قیامت کے دن صحیح غلط کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، مولانا صاحب کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔

    جواب دیجیے


  5. مجھے عالم دین پر یہ تنقید سمجھ نہیں آئی۔
    جس قسم کی عورتیں اور جس قسم کی بے پردگی میں کراچی میں دیکھتا ہوں اس لحاظ سے گوشت کی تھیلی سے زیادہ مناسب مثال ہو ہی نہیں سکتی۔
    باریک اور ہلکے پیلے رنگ کی قمیض کے اندر اگر عورت نے کالے رنگ کا بریزر پہنا ہو تو اسے گوشت کی تھیلی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔
    لگتا ہے مضمون نگار کے ذہن میں بے پردگی کا وہی تصور ہے جو برصغیر میں آج سے ۱۰۰ سال پہلے تھا جب شریف تو شریف بیسوا تک بھی قدرے تمیز اور تہذیب کی مالک ہوتی تھی۔

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s