اقتدار


کہتے ہیں کہ تمام نشوں میں اقتدار کا نشہ سب سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔ عام طور پرانسان اس نشے میں بدمست ہوکر اپنی اوقات بھول جاتا اور خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ جس حاکم کے تسلط میں وسیع و عریض علاقہ، کثیر فوج، مال و دولت کی فراوانی اور اطاعت گذار رعایاہو اس کا اقتدار اتنا ہی مضبوط گردانا جاتا ہے۔ لیکن اقتدار مضبوط ہو یا کمزور، اس کی خامی یہ ہے کہ یہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ایک نہ ایک دن یہ کسی دوسرے حاکم کی یلغار سے ڈھ جاتا ہے یا پھر موت کا ہرکارہ اسے حکمران سے چھین لیتا ہے۔
انسانوں کی حاکمیت کے برعکس خدا کا اقتداربھی ہے۔یہ اقتدار عارضی نہیں دائمی ہے، یہ اقتدار کسی زمین کے مخصوص ٹکڑے پر نہیں بلکہ زمین ، آسمان، چاند سورج، ستاروں ، کہکشاؤں غرض پوری کائنات پر ہے۔یہ اقتدار کسی دوسرے حاکم کی یلغار سے ختم نہیں ہوسکتا۔اس کا حکم ہر شے پر جاری ہے ۔ عالم اصغر میں الیکٹران اسی کے حکم سے محوگرد ش ہے تو عالم اکبر میں سورج زمین کے پھیرے لگانے میں مصروف ہے۔نباتات اسی کے حکم پر پھل اور پھول سے پیدا کررہے ہیں تو رنگ برنگے پرندے تعمیل ِحکم میں دنیا کو رنگین کررہے ہیں۔کہیں پہاڑ کی ایستادگی خدا کی اطاعت کا مظہرہے تو کہیں بہتے دریا اس کے اقتدار کو اپنے اوپر نافذ کئے ہوئے بہہ رہےہیں۔
اس لامتناہی طاقت اور اقتدار کے باوجود خدا بڑا عالی ظرف ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اپنی طاقت کے نشے سے مغلوب نہیں ہوتا۔ وہ اس بے پناہ قوت ، شان اور شوکت کے باوجود اپنی مخلوق کے ساتھ بہت رحیم، شفیق، مہربان اور نرمی برتنے والا ہے۔چنانچہ آج ملحدین اس کا انکار کررہے ہیں لیکن وہ انہیں رزق دے رہا ہے۔ آج لوگ اس کی نافرمانی میں شراب و کباب کی محفل جمائے بیٹھے ہیں لیکن وہ صرف نظر کررہا ہے۔ آج وحشی اسکی مخلوق کو ناحق قتل کررہے ہیں لیکن وہ قاتلوں کو ڈھیل دے رہا ہے۔ آج لوگ اسے بھول کر دنیا میں مست ہیں لیکن وہ اپنا جودو کرم جاری رکھے ہوئے ہے کہ شاید یہ نافر مان لوگ مان جائیں اور پلٹ کر اپنے رب کی بندگی میں آجائیں۔ کوئی ہے ایسا بادشاہ جو اتنا شفیق اور مہربان ہو؟ کوئی ہے ایسا حاکم جو قہر کرنے میں اتنا دھیما ہو؟ کوئی ہے ایسا مقتدر جو اپنے نافرمانوں کو اتنا موقع دے؟
لیکن یہ خدا کے اقتدار کا ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا پہلو آخرت ہے۔ اس روز یہ بادشاہ حقیقی مہلت ختم کرکےاپنی شفقت و مہربانی صرف اپنے فرمانبرداروں کے لئے مخصوص کردے گا ۔دوسری جانب ناہنجاروں کو اس شفقت سے محروم کردیا جائے گا۔چنانچہ آئیے اور آج اس مہلت سے فائدہ اٹھالیجئے ۔
از پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

8 responses to this post.

  1. The political incentives provided by democratic governance acquire great practical value at that time.

    جواب دیں

  2. May Allah bless you. May the people benefit from your hard work n easy to understand n digest articles.

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Bashir on 11/02/2012 at 1:22 صبح

    subhanAllah

    جواب دیں

  4. NICE WORK IN SHORT

    جواب دیں

  5. Wonderful article sir

    i wrote in a similar way a while ago….have a look and please comment sir 🙂

    http://aamir-lifelessons.blogspot.com/2011/12/king-and-rebels.html

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s