گالی اور لڑائی


شقیق، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1954)
اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنی سوسائٹی کا جائزہ لیں تو علم ہوگا ہم اس گناہ میں کتنے زیادہ ملوث ہیں۔ اس گناہ کی پہلاشکار ہماری سوشل لائف ہے ۔ مثال کے طور پرٹریفک میں ذرا سی گاڑی ٹچ ہوجانے پر تو تڑاک، اور ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی ہے حالانکہ اکثر اوقات نقصان معمولی اور قابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ گھریلو جھگڑوں میں بھی یہ بات دیکھی گئی ہے کہ لوگ ایک دوسر ے کو برا بھلا کہتے اور آپس میں لڑائی جھگڑا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس گنا ہ میں سیاست دان بھی ملوث ہیں ۔ آج کی سیاست میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، انہیں برے القابات سے پکارنا اور ٹاک شوز میں لڑنا جھگڑنا بہت عام ہوگیا ہے۔المناک بات یہ ہے کہ اس گناہ سے ہمارے قانون سازی کے ادارے یعنی پارلیمنٹ بھی محفوظ نہیں ہے۔
گالم گلوج اور لڑائی میں ہمارے مذہبی حلقے بھی پیچھے نہیں۔ فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، فرقہ بازی کرکے دوسرے فریق کو طنزو تشنیع کا نشانہ بنانا اور سب سے بڑھ کر دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو کافر قرار دینا انتہائی زیادتی کی بات ہے۔جبکہ نبی کریم ؐ کا واضح ارشار ہے کہ اگر کوئی کسی کو کافر قرار اور وہ سامنے والا کافر نہ ہو تو یہ بات کہنے والے پر ہی پلٹ آتی ہے یعنی وہ کہنے والا ہی کافر ہوجاتا ہے۔
اس گناہ کا شکا ر ہمارے سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی ہیں جہاں کسٹومر اور اہلکار دست و گریباں ہوتے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔ ان اداروں میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہے ۔ آج ٹی وی اور ریڈیوپر شوبز ، کھلاڑی اور سیاستدانوں پر پھبتی کسی جاتی ، ان کا مذاق اڑایا اتا ، انکی نجی زندگی میں مداخلت کی جاتی اور انہیں مختلف قسم کے القابات سے نوزا جاتا ہے۔ اس ضمن میں جائز حدود میں رہ کر تنقید کرنے کو کوئی برا نہیں بولتا لیکن ایک حد سے آگے بڑھنا مناسب نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس گناہ بچنے کا اہتما م کریں۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھیں اور سامنے والے کی زادتی اور سختی کا جواب نرمی سے دیں۔ ورنہ ممکن ہے کہ ہم بھی اس فسق اور کفر کا شکار ہوکر آخرت میں نمراد ہوجائیں۔
از پروفیسر محمد عقیل

3 responses to this post.

  1. JAZAK ALLAH AQEEL BHAI AAP NE AIK AAM MASALAY KI TARAF TAWAJUH MABZOOL KERWAI

    جواب دیں

  2. May Allah bless u. Everything has been taught in Quran n the sunnah which is more 1500 years old but the problem with the so called Muslims is that nobody wants to read take guidance from the Quran n the sunnah. We are looking for guidance elsewhere where as it is part of our norm to keep the Holy Book but not to read for understanding it. Is it not shame on us? How will we answer Allah Almighty on the Day of Judgement?

    جواب دیں

  3. Posted by Ajaz on 16/02/2012 at 9:46 شام

    That’s why we have civil laws which are More civilized than a 1400 hundred year old religion.  

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s