بخل


تعارف
بخل ایک ایسی بیماری ہے جس کی بنا پر ایک شخص خود کو اور اپنے متعلقین کودستیاب نعمتوں سے بھی محروم رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنی اس عادت کو درست گردانتا اور اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر اوقات اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس لعنت میں گرفتار ہے۔
بخل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
“جو لو گ بخل کریں (سو کریں ) اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی ترغیب دیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اسے چھپائیں۔ ایسے کافروں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے”۔(النساء:۳۷:۴)
بخل کی اہمیت کی بنا پر اس کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” بندوں پر کوئی صبح نہیں آتی، مگر اس میں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطاء فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ بخل کرنے والے کو تباہی عطا کر”۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1356)
ایک اور مقام پر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا “ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا”۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2079 )
کیس اسٹدی بخل کی نوعیت سمجھنے کے لئے درج ذیل کیس کا مطالعہ کریں۔
“اسلم کی چار بیٹیاں ہیں۔ اسلم کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے۔ ایک دن اس کی بچی ایک مہنگے موبائل سیٹ کی فرمائش کرتی ہے۔ لیکن اسلم رقم دستیاب ہونے کے باوجود منع کردیتا ہے۔ اگلے دن اسلم کی بیوی بتاتی ہے کہ پانی موٹر جل گئی ہے نئی موٹر لگے گی۔ اسلم رقم ہونے کے باوجود اس موٹر کے لئے بھی انکار کردیتا ہے “۔
سوالات: ۱۔کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟
ان سب سوالات کا جواب اور بخل کی نوعیت جاننے کے لئے درج ذیل مضمون پڑھئیے۔
بخل کی تعریف“خرچ کرنے کے جائز موقع پر خرچ کرنے سے گریز کرنا بخل ہے”۔خرچ کرنے کے جائز مواقع سے مراد انسان کی جائز ضروریات ہیں۔ جن میں جبلی ضرورت، ذوق جمال کی تسکین، معاشرتی ضرویات وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ خرچ کرنے کے ناجائز مواقع میں تکاثر، نمائش، ، تفاخر، تقابل ، اسراف وغیرہ شامل ہیں۔
مثال کے طور پر ایک شخص کے بچے سردی میں لحاف سے محروم ہیں ۔ اس کے سبب وہ بچے بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ لیکن باپ ہے کہ کنجوسی کی بنا پر لحاف خرید کر نہیں دے رہا۔ چنانچہ یہ بخل ہے۔ دوسری جانب حامد محمود کو طعنہ دیتا ہے کہ “کب تک اس چھوٹی سی گاڑی میں زندگی بتا دوگے، بڑی گاڑی لے لو تاکہ دوستوں میں تمہاری دھاک بیٹھ جائے”۔ لیکن محمود مسکر ا کر یہ کہہ دیتا ہے کہ” بڑی گاڑی میری ضرورت نہیں بلکہ اسراف ہے” ۔ چنانچہ محمود کا خرچ کرنے سے رک جا نا بخل نہیں کیونکہ یہ خرچ کرنے کا جائز موقع نہیں ہے۔
بخل کیا نہیں ہے؟۱۔
1.کسی ناجائز موقع پر خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔
۲۔ مستقبل کی کسی جائز ضرورت کے تحت حال میں خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔
۳۔ اسراف سے بچنے کے لئے رقم خرچ نہ کرنا بخل نہیں۔
۴۔ سادہ زندگی گذارنا اور دکھاوے سے گریز کرنا بخل نہیں۔
۵۔اسراف میں مبتلا لوگوں کی کنجوسی کا طعنہ ضروری نہیں کہ بخل ہو۔
بخل کے طریقے : بخل کی اصل درحقیقت مال کو خرچ کرنے کےجائز موقع پر خرچ کرنے سے روکنا ہے۔چنانچہ بخل یا کنجوسی کا براہ راست یا بالواسطہ اثر مال کی بچت کی صورت ہی میں نمودار ہوتا ہے۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے بخل کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کیجئے۔
۱۔کھانے پینے کے معاملے میں بخل کرنا اور کم تر درجے کا کھانا استعمال کرنا
۲۔گھٹیا معیار کے ملبوسات استعمال کرنا
۳۔سواری کے معاملے میں ًبخل کرنا
۴۔بیوی یا اولاد کی جائز ضروریات مثلاً تعلیم یا صحت پر خرچ کرتے وقت کنجوسی کرنا
۵۔ رہائش کے معاملے میں بخل کرنا
بخل کے نقصانات
بخل کے در ج ذیل نقصانات ہوتے ہیں۔
۱۔ اللہ کی ناراضگی
۱۔ پست میعار زندگی
۲۔ اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائگی سے گریز
۳۔ دنیا کی محبت
۴۔ مال کی محبت
۵۔ دولت کا ارتکاز
۶۔ ضرورت مندوں کے حق پر ڈاکہ
بخل کے اسباب اور ان کا تدارک
عام طور پر بخل کے درج ذیل اسباب سامنے آتے ہیں:
۱۔مال کی محبت
مال کی محبت بخل کا پہلا سبب ہے۔ ایک بخیل شخص مال کو سینے سے لگا کر رکھتا ، اسے گن گن کر جمع کرتا رہتا اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہتا ہے۔چنانچہ جب یہ عزیز شے اس سے جدا ہوتی ہے تو وہ اس کے فراق میں تڑپتا ہے۔ اسی تڑپ کو کم کرنے کے لئے وہ مال کو کم سے کم حد تک خود سے جدا کرنے پر راضی ہوتا ہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ مال کی حقیقت کو جانا جائے کہ یہ زندگی گذارنے کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے نیز اپنی اور اہل و عیال کی جائز ضرورتوں پر بھی فراخ دلی سے خرچ کیا جائے ۔اسی طرح بار بار مال گننے سے پرہیز کیا جائے۔
۲۔ طویل زندگی کی خواہش: ایک اور سبب دنیا کی محبت اور موت کی فراموشی ہے۔ ایک بخیل شخص اس مغالطے میں رہتا ہے کہ وہ اور اس کا مال ہمیشہ رہے گا۔ وہ موت کو بھول جاتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی دانست میں دنیا کی سب سے قیمتی شے یعنی مال کو اپنے پاس سینت سینت کر رکھنے میں سکون محسوس کرتا ہے ۔
اس کا علاج یہی ہے کہ موت کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھا جائے، اس دنیا کو عارضی سمجھا جائے اور آخرت کے اعلیٰ مقام کو منزل مقصود بنایا جائے۔
۳۔مستقبل کا خوف:
مستقبل کے لئے بچانا ایک اچھی عادت ہے لیکن حال کی یقینی ضروریات کا گلا گھونٹ کر مستقبل کے غیر یقینی اندیشوں کے لئے مال بچا کر رکھنا بخل کی ایک علامت ہے۔
اس کا تدارک یہ ہے کہ مستقبل کے خوف سے نجات حاصل کی جائے۔ مستقبل کے اندیشے خواہ کتنے ہی بھیانک کیوں نہ ہوں ، غیر یقینی ہوتے ہیں ۔چنانچہ ایک غیر یقینی مستقبل کے لئے یقینی حال کو برباد کرنا بے عقلی ہے۔
۴۔نفسیاتی عارضہ:
مال کا زیادہ ہونا عام طور پر امارت اور شان و شوکت کی علامت ہے۔چنانچہ ایک کنجوس شخص امیر بننے کے لئے زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا چاہتا ہے۔ اور اس چکر میں وہ ایک نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہی ہے کہ دنیا کی امارت کو نظر انداز کرتے ہوئے آخرت کے اعلیٰ مقامات کا تصور کیا جائے۔
بخل سے نجات پانے کے عملی طریقے
۱۔ بخل سے نجات پانے کا پہلا قدم تو یہ ہے کہ اس بات کا ادراک کیا جائے کہ آپ بخل میں مبتلا ہیں یا نہیں۔ ایک بخیل شخص یہ بات ماننے سے انکاری ہوتا ہے کہ وہ بخیل یا کنجوس ہے۔ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ واقعی کنجوس ہیں تو اپنے قریب ترین دوست ، بیوی، شوہر یا کسی اور قریبی عزیز سے کھل کر اپنے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اگر اکثریت آپ کو بخیل قرار دے رہی ہے تو پھر مان لیں کہ آپ بخیل ہیں۔
۲۔ جب اس بات کا ادراک ہوجائے کہ آپ بخل جیسی عادت میں مبتلا ہیں تو دوسرے اسٹیپ میں اس کا سبب معلوم کریں۔بخل کے اسباب جیسا کہ اوپر بیان کئے گئے ہیں وہ مال کی محبت، طویل زندگی کی خواہش، مستقبل کا خوف یا نفسیاتی عارضہ کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔
۳۔ سبب معلوم ہونے کے بعد اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اس گناہ سے نجات دے دیں۔اس سلسلے میں نبی کریم ؐ کی دعائیں پڑھ کر بھی اللہ سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
(ترجمہ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم ورنج سے اور عاجزی اور سستی سے اور بخل سے اور نامردی سے اور قرض کے بارے میں اور لوگوں کے غلبہ سے)( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 155)
۴۔دعا مانگنے کے بعد متعلقہ سبب کا علاج پڑھیں۔ اور اس پر عمل درآمد کی کوشش کریں۔ ناکامی کی صورت میں اپنے اوپر جرمانہ مقرر کرلیں۔
۵۔اپنی اور متعلقین کی ضروریات کا تعین کریں اور ہر حال میں ان پر خرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔
۶۔ دولت کو ہر لمحے گننا اور اس سے محظوظ ہونا کم یا بالکل ترک کردیں۔ بس موٹا موٹا حساب کتاب رکھ لیں اس کے بعد پیسوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔
۶۔ ہر ماہ اپنی بچت کا دس فی صد یا زائد حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

سوالات
مندرجہ بالا کیس میں کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟
۳۔ ایک شخص کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ ایک مہنگا موبائل سیٹ خرہد سکتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ ایک سستا سیٹ رکھتا ہے کیونکہ وہ منگے سیٹ کو پیسوں کا ضیاع سمجھتا ہے۔ کیا اس کا یہ طرز عمل بخل ہے؟
۴۔اسلم پیزا کھانے کے لئے پیز اہٹ پر رکتا ہے لیکن اس کا دوست واحد کہتا ہے کہ چھوڑو یہ فضول خرچی ہے۔ کیا واحد کا طرز عمل بخل ہے؟
۵۔اکبر جہیز کو ایک لعنت سمجھتا ہے چنانچہ وہ اپنی بیٹی کی شادی بغیر کسی جہیز دئیے کردیتا ہے، اس پر لڑکے والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا اکبر کا جہیز نہ دینا بخل ہے؟
جوابات
۱۔مندرجہ بالا کیس میں کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟
جواب۔ نہیں کیونکہ مہنگا موبائل سیٹ اس بچی کی ضرورت نہیں
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟
جواب۔ ہاں کیونکہ موٹر لگوانا ضرورت ہے
۳۔ ایک شخص کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ ایک مہنگی کار خرہد سکتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ ایک سستی کار رکھتا ہے کیونکہ وہ مہنگی کار کو پیسوں کا ضیاع سمجھتا ہے۔ کیا اس کا یہ طرز عمل بخل ہے؟
جواب: نہیں کیونکہ وہ مہنگی کار کو اسراف سمجھتا ہے
۴۔اسلم پیزا کھانے کے لئے پیز اہٹ پر رکتا ہے لیکن اس کا دوست واحد کہتا ہے کہ چھوڑو یہ فضول خرچی ہے۔ کیا واحد کا طرز عمل بخل ہے؟
جواب۔نہیں کیونکہ واحد کے نزدیک پیزا کھانا ضرورت نہیں بلکہ فضول خرچی ہے۔
۵۔اکبر جہیز کو ایک لعنت سمجھتا ہے چنانچہ وہ اپنی بیٹی کی شادی بغیر کسی جہیز دئیے کردیتا ہے، اس پر لڑکے والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا اکبر کا جہیز نہ دینا بخل ہے؟
جواب۔ نہیں بلکہ اکبر جہیز کو ضرورت نہیں سمجھتا ہے۔
از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

3 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 25/02/2012 at 9:46 شام

    goooooooood

    جواب دیں

  2. May Allah bless you n may we learn from this article. Aameen

    جواب دیں

  3. جزاک اللہ خیراٌ
    پہلے والا حذف کر دیجئے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s