فحش اشتہارات


آج کل گرمی کی آمد ہے چنانچہ کراچی شہر میں جگہ جگہ لان کی ایڈورٹزمنٹ کے سائن بورڈز نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر اخلاقی میعار سے گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی بورڈ میں کوئی ماڈل لیٹی ہوئی نسوانی اعضاء کو نمایاں کر رہی ہے تو کسی ہورڈنگ میں برہنہ پشت کی نمائش جار ی ہے۔ کہیں چست لباس اعضاء کو ابھارنے میں مصروف ہے تو کہیں خطرناک حد تک چاک گریباں راہ گیروں کودعوت گناہ دے رہا ہے۔
ایڈورٹائزنگ آج کل مارکیٹنگ کا ایک اہم اور لازمی جزو ہے جس کا بنیادی مقصد خریدار کو متوجہ کرنا، اسے پراڈکٹ کے بارے میں تفصیلات بتانا اور خریدنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگرمارکیٹنگ کے اس کے اصل مقصد کا تجزیہ کیا جائے تو بظاہر اس میں کوئی اخلاقی قباحت نظر نہیں آتی۔لیکن دولت کمانے کی ہوس ، ایک دوسرے نیچا دکھانے کی کاوش اور ہر جائز ناجائز طریقے سے اپنے حریف پر سبقت لے جانے کی کوشش نے ایڈورٹائزنگ کو ایک غیر اخلاقی عمل بنادیا ہے۔
یہ آبرو باختہ عمل صرف لان کی ہورڈنگز تک محدود نہیں۔ ٹی وی پر چلنے والے اکثر اشتہارات اس برائی کو پھیلانے میں آگے بھی ہیں اور مؤثر بھی ۔ ان اشتہارات میں عورت کے وجود کا ایک ایک انگ نمایاں کرنے اور کیش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نیم عریاں عورت کے ساتھ ساتھ ، فحش ڈائلاگز، بے ہنگم موسیقی، آبرو باختہ لطیفے ، نوجوانوں کو رات بھر عشقیہ باتوں کی ترغیب اور دیگر پہلو بھی ان اشتہارات کا لازمی جزو ہیں۔
اگر صاف پانی کے تالاب میں گندگی ڈالی جائے تو پانی دھیرے دھیرے گدلا ہونے لگتا ہے اور اس کا دیکھنے والوں کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہمارے اشتہارات میں یہ غیر اخلاقی پہلو اس آہستگی کے ساتھ سرایت کرگیا ہے کہ اب یہ سب کچھ شرفاء کو بھی برا نہیں لگتا۔ اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ نیم عریانی، فحش کلامی، گھٹیا مذاق اور بے ہنگم موسیقی کے ساتھ سمجھوتہ کرتا نظر آرہا ہے ۔
اگر اس قبیح عمل کو یہاں نہ روکا گیا تو یہ معاملہ یہاں رکے گا نہیں۔ حرص و ہوس کے پجاری ان معاملات کو اسی نہج پر لے آئیں گے کہ پھر واپسی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جائے گی۔شکوہ ان لوگوں سے نہیں جو مغربی ذہنیت کے غلام ہیں۔ شکایت تو قوم کے ان سنجیدہ حلقوں سے ہے جو حیا کو ایک بنیادی قدر مانتے اور اسے فروغ دینے کے حامی ہیں ۔ لیکن نہ تو ان کی زبانیں کسی فورم پر آواز اٹھاتی نظر آتیں اور نہ ہی ان کے قلم اس بے اخلاقی پر حرکت میں آتے ہیں۔
صورت حال اگر یہی رہی تو اگلی نسلوں کے آنے تک حیا ایک ماضی کی داستان بن کے رہ جائے گی اور مغربی و اسلامی اقدار کا فرق برائے نام رہ جائے گا۔
اس موقع پر صنعت کاروں ، تاجروں اور حکومتی اداروں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلا ش کرنا ضروری ہے تاکہ اس طرح کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جائے جو مارکیٹنگ کے مقاصد بھی حاصل کرتا ہو اور فحاشی کے زمرے میں بھی نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نتیجے کے طور پر جنسی ناآسودگی، آبروریزی اور آزادانہ جنسی اختلاط کا ایک طوفان جنم لے گا جو محض چند طبقات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا شکار ہر دوسرا محلہ اور گھر ہوگا اور کیا خبر یہ اسی اشتہار دینے والے کا گھر ہو جس نے عریانی کے ذریعے دولت کمانے کی کوشش کی تھی۔
از پروفیسر محمد عقیل
aqilkhans@gmail.com
https://aqilkhans.wordpress.com

Advertisements

17 responses to this post.

  1. Posted by ناصر on 17/01/2015 at 1:31 شام

    کوڈ آف کنڈکٹ تو پہلے سے موجود ہے۔ پیمرا کو چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرے۔

    جواب

  2. Posted by Osama Hashmi on 12/04/2012 at 7:34 صبح

    اللہ تمام مسلمانوں کو سمجھ عطا فرماۓ آمين
    آپ کي بات واقعی ٹھيک ہے اس قسم کے اشتہارات سے برائی اور فحاشی ہی پھيلتی ہے اور بعد ميں بچے اور نوجوان اس قسم کی حرکتيں کرتے نظر آتے ہيں

    جواب

  3. Posted by Hammad on 08/04/2012 at 11:21 شام

    ایک طرف وہ انتہا پسند ہیں جنہیں عورت کی تصویر برداشت ہی نہیں ہوتی اور وہ راتوں رات اشتہاری بورڈز پر سیاہ رنگ پھیر کر سمجھتے ہیں گویا انہوں نے دین اسلام کی بہت خدمت کردی۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف یہ کارپوریٹ کمپنیاں ہیں جو عورت کو ننگا کر کے اپنی پرؤڈکٹس بیچنا چاہتی ہیں۔ عام آدمی کو دونوں سے فرق نہیں پڑتا۔

    جواب

  4. آپ ٹہک کہرہے ہیں اس کی وجہ سے دوسرا شخص بحی گناہ گار ہوجاتا ہے۔ حکومت کو ضابطہ اخلاق پر دور دینے کی ضرورت ہے

    جواب

  5. بھائی پروفیسر صاحب،
    برائی کی جزئیات پر تبصرہ یا بحث کرنا کارِ لا حاصل ہے۔ جب پورا معاشرہ لاتعداد برائیوں اور ان گنت منفی رحجانات کا حامل ہو تو پورے نظام کو تبدیل کرنے کے سوا کوئی حل نہیں ہوتا۔
    پورے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل کر میدان عمل میں اترنا پڑتا ھے۔
    اس قوم کے تو تمام دانشور بھی اول درجے کے موقع پرست، خود غرض اور اس حمام کے ننگوں میں شامل ہیں۔
    معاف کریں، آپ کی آواز صرف صدا بہ صحرا ثابت ہوگی، جب تک آپ جیسے دانشور اپنا منشور بدل کر ایمانداری اور بے غرضی کا لباس نہ پہن لیں اور سر پر کفن باندھ کر میدانِ عمل میں نہ نکل آئیں۔
    عوامی تحریک ہی وہ علاج ہے جو صدیوں کا سفر چند دنوں میں طے کر لیتی ہے اور ایک بدنما، استحصالی اور فرعونی نظام کو اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔
    خالی خولی الفاظ صرف ذہنی عیاشی ہے جنابِ عالی۔

    جواب

    • محترم اورنگ زیب صاحب
      السلام علیکم
      آپ نے درست فرمایا کہ خالی خولی الفاظ محظ ذہنی عیاشی ہے۔لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کے پیچھے ایک مضبوط فلسفہ ہوتا ہے اور یہ فلسفہ الفاظ ہی سے بنتا ہے۔

      جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s