علامہ اقبال اور آج کا نوجوان

21اپریل علامہ سر محمد اقبال کا یوم وفات ہے ۔ وہ اقبال جنہیں مصوّرِ پاکستان اور مفکرِ پاکستان کہا جاتا ہے ۔ جن کے اشعار نے ایک شکست خوردہ قوم کے تنِ مردہ میں زندگی کی روح پھونک دی۔ جن کے افکار نے ایک عظیم مملکت کی تاسیس کی۔ جن کی کوششوں نے قائد اعظم کو حصولِ پاکستان کی جدوجہد پر آمادہ کیا۔ پاکستان انہی اقبال کا ورثہ ہے ۔

وہ ایک غلام قوم کے ایسے فرد تھے جسے اعلیٰ تعلیم اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر ملک کے اندر اور باہر ترقی کے تمام مواقع میسر تھے ۔ لیکن وہ 1908 میں یورپ سے لوٹ آئے ۔ اپنے معاش کے لیے انہوں نے وکالت کا پیشہ ضرورت کی حد تک اختیار کیا اور اپنی توانائی اور صلاحیتیں قوم کے لیے وقف کر دیں ۔ اس کا نتیجہ 40 برس بعد دنیا کی سب سے بڑ ی مسلم ریاست کی شکل میں نکل آیا۔ اب ذرا چشم تصور کو وا کیجیے اور سوچیے کہ علامہ اقبال آج کل کے نوجوانوں کی طرح صرف کیرئیر، اسٹیٹس، اولاد اور بینک بیلنس کو اپنی زندگی کا مقصود بنالیتے تو کیا ہوتا؟ صرف یہ ہوتا کہ 21 اپریل 1938 کو ایک وکیل ورثے میں چند لاکھ یا آج کل کے حساب سے چند کروڑ روپے چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوجاتا۔ کہاں دنیا کی سب سے بڑ ی مسلم ریاست اور کہاں چند کروڑ روپے ۔

آج پاکستان کے بہترین نوجوانوں کی منزل دولت اور اسٹیٹس کا حصول ہے ۔ اس منزل کا اُخروی انجام جو بھی ہو، دنیوی انجام ایک گمنام موت اور ورثے میں چھوڑ ے ہوئے چند کروڑ روپے ہیں ۔ دوسری طرف سر محمد اقبال کا راستہ ہے ۔ یہ قومی خدمت کا راستہ ہے ۔ یہ معاش کو ضروریات تک رکھ کر اپنا سب کچھ قوم و ملت کے لیے وقف کرنے کا راستہ ہے ۔ یہ اپنے پیسے اور وقت کے ایک حصے کو ایمان و اخلاق کی دعوت اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے وقف کر دینے کا راستہ ہے ۔

پاکستان کے مستقبل کا انحصار کرپٹ لیڈروں اور سپر پاورز پر نہیں ۔ آج کے نوجوانوں کے اس فیصلے پر ہے جس میں ایک طرف قومی خدمت اور دوسری طرف ایک گمنام موت ہے ۔
(By ریحان احمد یوسفی)

2 responses to this post.

  1. Posted by وسیم رانا on 20/04/2012 at 8:38 شام

    زبردست، دل سے نکلی ہوئی بات کا اثر جادو جیسا ہوتا ہے۔

    جواب دیں

  2. May Allah bless you. When people are away from the Book of Wisdom then this is what happens that one is only thinking of money, status, relationship,building of palaces, etc.One forgets that the coming into this world is only temporary whereas the life hereafter is permanent.May Allah guide us to read,understand, practice, n propagate the message of the Book of Wisdom.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s