طیارے کا حادثہ

۲۰ اپریل ۲۰۱۲ کو بھوجا ائیر لائین کا طیارہ کراچی سےا سلام آباد جانے کے لئے روانہ ہوا۔ جب طیارہ اسلام آباد پہنچا تو موسم بہت خراب تھا۔ موسم کی خرابی کے باوجود طیارے نے لینڈ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں طیارہ کریش ہوگیا ۔ طیارے میں ۱۲۸ عملے سمیت مسافر سوار تھے جن میں سے کوئی بھی نہ بچ پایا۔ ان مسافروں میں چھ شیر خوار بچے اور دو نوبیاہتا جوڑے بھی شامل تھے۔ لیکن موت کے پنجوں سے کوئی بھی نہ بچ سکا اور سب چشم زدن میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
جہاز کے اس حادثے پر ایک ٹی وی چینل نے یہ ہیڈنگ لگائی:
"۱۲۸ بدقسمت مسافر ، جو اپنی منزل پر نہ پہنچ سکے”۔
یہ ہیڈنگ آج کے انسان کی رحجان کی عکاس ہے۔ آج انسان اس دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اس دنیا میں اپنا آشیانہ تعمیر کرتا، اس میں آسائشیں پیدا کرتا اور ایک اچھی زندگی گذارنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ یہ سب کچھ بذات خود کوئی برا عمل نہیں۔ لیکن اس کوشش میں انسان یہ حقیقت فراموش کر بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے اور یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں ہر شخص اپنے حصے کا پرچہ حل کرہا ہے ۔ یہاں کا پانا کوئی پانا نہیں اور یہاں کا کھونا کوئی کھونا نہیں۔ یہاں کسی نعمت کا ملنا یا کسی مصیبت کا پیش آنا ایک امتحان ہے۔ کسی کو غربت سے آزمایا جارہا ہے تو کسی کو امارت سے، کوئی ظاہری حسن سے جانچا جارہا ہے تو کوئی بدصورتی سے۔ کسی کا امتحان اقتدار و عزت سے ہورہا ہے تو کسی کا کمزوری و بے طاقتی سے۔ اس دنیا کی چند روزہ زندگی کا یہ امتحان کوئی معمولی امتحان نہیں ۔ اس آزمائش کا انجام یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

لیکن انسان روزمرہ کی زندگی میں اس حقیقت کو فراموش کربیٹھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کاحصول اس کی منزل نہیں بلکہ اس کی اصل منزل آخرت کی زندگی ہے۔ اس آخرت کی زندگی کا دروازہ موت ہے۔ جب بھوجا ائیر جیسے حادثے رونما ہوتے ہیں تو حقیقت سامنے آتی اور غفلت کا پردہ آنکھوں سے اٹھتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی کس قدر ناپائیدار، ناقابل اعتبار اور بے وفا ہے۔ اس قسم کے حادثے انسان کو موت کی یاد دلاتے اور اصل زندگی تک راہنمائی کرتے ہیں ۔لیکن اس نوعیت کے حادثات اور مصیبتوں کا اثر عارضی ہوتا ہے۔ عقلمند شخص وہ ہے ان واقعات سے سبق لے کر خود کو اصل زندگی کی تیاری میں کھپادے اور اپنی دنیا کے چند فانی لمحات کو آخرت کی لافانی اور کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی کی تیاری میں فنا کردے۔
پروفیسر محمد عقیل

Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by گمنام on 13/06/2012 at 12:30 شام

    all is well to read and accept the realistic of islam

    جواب دیں

  2. Posted by Osama Hashmi on 13/06/2012 at 6:53 صبح

    نبی صلی اللہ عليھ والہ وسلم کی حديث کا مفہوم ہے کہ دنيا کافر کے ليے جنت اور مومن کے ليے قيد خانہ ہے

    جواب دیں

  3. Zindagi aik imtehan hai yahan ki manzil koi manzil nahi blkay ik juzwaqti test hai or haqiqi zindagi ka agaz srif mout k baad hoga…

    جواب دیں

  4. May Allah bless you.Whoever comes into this short lived world only thinks that this is only life which he has come to live unless n until he learns from the Book of Wisdom or he is taught by his parents that the life hereafter is the real world which somebody achieves according to his deeds good or bad gets the reward n punishment accordingly.

    جواب دیں

  5. Posted by Silent night  on 24/04/2012 at 7:41 شام

    Really you r right

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s