ایک جاسوس کی چشم کشا سرگزشت


حال ہی میں ایک معروف مورخ اور کالم نگار نے روزنامہ جنگ میں ایک جاسوس کی چشم کشا سرگزشت کے عنوان سے تین کالم لکھے۔یہ کالم ایک برطانوی جاسوس ہمفرے کی ڈائری کے حوالے سے ہے ۔ ڈائری یا کتاب میں یہ بیان کیاگیا ہے کہ اس جاسوس نے اٹھارہویں صدی کے آغاز کس طرح مسلمانوں میں انتشار اور افتراق کا بیج بویا۔
نظریہ ساز ش پر مبنی اس طرح کی چیزوں پر قلم اٹھانا ہماری دلچسپی کا میدان نہیں، مگر روزنامہ جنگ جیسے اخبار میں اس کتاب کا ذکر آجانے کے بعد یہ بات لازمی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے زیر تبصرہ کتاب کو انٹرنیٹ پڑھ لیا ہوگا۔ہمارے لیے یہ بات بھی اہم نہیں، مگر سوئے اتفاق کہ اس کتاب میں دور جدید کے ایک بہت بڑے مصلح کو جس حیثیت میں پیش کیا گیا ہے اور ان کی کردار کشی کرتے ہوئے انہیں ایک زانی، شرابی کے طور پر دکھایا گیا اور ان کے پورے اصلاحی کام کو برطانوی ایجنڈا قرار دیا گیا ہے ، اس کی بنا پر ضروری کہ کچھ امور پر اب توجہ دلائی جائے۔
نظریہ سازش
فاضل کالم نگار نے خوف فساد خلق سے ان مصلح کا نام نہیں لکھا لیکن سارے واقفان حال جانتے ہیں کہ اصل کتاب میں شیخ محمد بن عبد الوہاب اور ان کے کام کی اخلاقی حیثیت کو بری طرح مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہمارے لیے ایک مصلح تو کیا ایک عام مسلمان کی طرف بھی اس طرح کی چیزو ں کی نسبت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، مگر ہمارے ہاں نظریہ سازش اس طرح فروغ پاچکا ہے کہ لگتا ہے کہ لوگ ایسی باتوں کو سننے اور بغیر تصدیق کے ماننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔چنانچہ فاضل کالم نگار نے غالباً کسی بری نیت سے نہیں بلکہ اسی نظریہ سازش کو قبول کرتے ہوئے بہت اطمینان سے اس کتاب پر تین کالم لکھ ڈالے جس کا اپنا متن پکار پکار کر یہ بتارہا ہے کہ یہ سرتاسر ایک جعلسازی ہے۔فاضل کالم نگار جو خود ایک مورخ ہیں بڑے اعتماد سے کالم کے آغاز پر فرماتے ہیں۔
’’میں چونکہ بنیادی طور پر تاریخ کا طالب علم ہوں اس لیے اس کتاب کے مطالعے نے مجھے تھوڑا سے حیران کردیا۔حیرانی کے اس عالم میں کتاب میں بیان کیے گئے واقعات کی تصدیق دوسرے واقعات سے کیے تو راز کھلا کہ اس میں بیان کیے گئے واقعات وحالات کافی حد تک درست ہیں۔‘‘
ایک مورخ جب اس طرح کی بات کہہ دے تو اس کامطب یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث کتاب کو وہ سند تصدیق عطا کررہا ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں تاریخی واقعات بہت کم اور ہمفرے نامی جاسوس کے وہ واقعات زیادہ بیان ہوئے ہیں جو اس کی ذاتی روداد ہے۔ ایک تو ذاتی رودار اور وہ بھی ایک جاسوس کی جس کی ساری سرگرمیاں بالکل خفیہ ہوتی ہیں، اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی کہ دیگر تاریخ واقعات سے ان کی تصدیق کی جاسکے۔
کتاب میں موجود تاریخی غلطیاں
تاہم اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب میں جو اہم ترین تاریخی باتیں بیان ہوئیں وہ آخری درجے میں کتاب کی سچائی کو مشکوک کردیتی ہیں۔ہم ان میں سے دو کا ذکر کریں گے۔ان میں سے پہلی بات عالمی سیاسی حالات کے بارے میں ہے۔ کتاب کے آغاز میں ہمفرے کہتا ہے۔
Our Great Britain is very vast. The sun rises over its seas, and sets, again, below its seas. Our State is relatively weak yet in its colonies in India, China and Middle East.
ترجمہ:
’’ہمارا عظیم ملک برطانیہ بہت وسیع وعریض ہے۔سورج اس کے سمندروں پر طلوع ہوتا اور اسی کے پانیوں پر غروب ہوجاتا ہے۔تاہم ہماری مملکت انڈیا، چین اور مشرق وسطیٰ میں قائم اپنی نوآبادیوں میں قدرے کمزور ہے۔‘‘
یہ پہلے باب کا آغاز تھا اور دوسرے باب کے آغاز پر یہی صاحب اس زمانے کا تعین بھی خود ہی کررہے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے۔
In the Hijree year 1122, C.E. 1710, the Minister of Colonies sent me to Egypt, Iraq, Hidjaz and Istanbul to act as a spy and to obtain information necessary and sufficient for the breaking up of Muslims.
ترجمہ:
’’سن 1122ہجری ،1710عیسوی میں وزارت نوآبادیات نے مجھے مصر، عراق، حجاز اور استنبول میں بطور جاسوس کام کرنے اور وہ معلومات حاصل کرنے کے لیے روانہ کیاجوجو مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرے کے لیے ضروری تھیں۔‘‘
دو اور دو چار کی طرح اس کا مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں سورج برطانیہ کے پانیوں سے طلوع ہوکر اسی کے سمندروں میں غروب ہوتا تھا اور مشرق وسطی ،چین اور ہندوستان برطانیہ کالونیاں بن چکے تھے، وہ 1710عیسوی یا اس کے لگ بھگ کا زمانہ ہے۔ تاریخ کا معمولی علم رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتاہے کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے، کجا یہ کہ بر صغیر کی تاریخ کا ایک معروف مورخ اتنی موٹی بات کا نہ سمجھ سکے۔حقیقت یہ ہے کہ 1710سے صرف تین برس قبل یعنی 1707تک اورنگزیب عالمگیر متحدہ برصغیر کے 1250ملین مربع میل اور دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر پورے دبدبے کے ساتھ حکومت کررہا تھا۔اس واقعے کے کم و بیش نصف صدی بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو1757 میں جاکر بنگال میں سراج الدولہ کے مقابلے میں پہلی فتح حاصل ہوتی ہے۔پھر اس کے ایک صدی بعد 1857کی جنگ آزادی کے بعد ہی ہندوستان رسمی طورپر تاج برطانیہ کے زیر نگیں آیا۔جبکہ مڈل ایسٹ میں برطانیہ برطانیہ کا اقتدار سب سے پہلے مصر میں1882میں قائم ہوا۔رہا چین تو یہ1842میں ہوا کہ چین کا جزیرہ ہانگ کانگ برطانیہ کے زیر انتظام آیا اور چین میں پہلی برطانوی نوآبادی قائم ہوئی۔
شیخ محمد بن عبد الوھاب سے متعلق ایک تاریخی غلطی
اس تفصیل سے یہ بات بالکل واضح ہے یہ ایک تاریخی جھوٹ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے آغاز پر برطانوی کالونیاں مشرق وسطیٰ، چین اور ہندوستان میں قائم ہوچکی تھیں۔یہ اصل میں انیسویں صدی کا واقعہ ہے جسے غلط طور پر اٹھارہویں صدی کے آغاز کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ اب آیئے دوسری بات کی طرف ۔ ہمفرے کے حوالے سے کتاب میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ 1710میں استنبول گیا۔دو سا ل وہاں رہا اور ایک سال کے بعد بصرہ پہنچا ۔اس طرح یہ سن 1712یاس 1713کے لگ بھگ کا زمانہ تھا۔بصرہ میں اس کی ملاقات شیخ سے ہوئی۔ ہمفرے کے مطابق شیخ عربی ،فارسی اور ترکی روانی سے بول رہے تھے۔عثمانیہ خلافت کے خلاف باغیانہ خیالات کی ترویج کررہے تھے۔ دینی معاملات پر مروجہ تصورات کے خلاف سخت تنقیدیں کرتے تھے۔ علمی بحث و مباحثہ کررہے تھے۔ہمفرے نے ان سے دوستی کی اورجلد ہی انہیں ایک عورت سے متعہ پر آمادہ کرلیا اور وہ شراب بھی پینے لگے۔
قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شیخ اپنے آبائی وطن سے ہزاروں میل دور جب یہ سب کچھ کررہے تھے تو ان کی عمر مصدقہ تاریخ کے مطابق صرف 9یا 10سال کی تھی۔ انا للہ وہ انا الیہ راجعون۔ تاریخی طور پر شیخ کا سن پیدائش 1703یا 1704بیان کیا جاتا ہے۔چنانچہ 1713 میں ان کی عمر صرف نو یا دس ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ مصدقہ تاریخی حوالوں کے مطابق بصرہ آنے سے قبل شیخ حجاز اور خاص کر مدینہ میں رہ کر علم کی تحصیل بھی کرتے رہے۔ اس لیے مورخین عام طور پر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ بصرہ کا سفر شیخ نے اس وقت کیا جب ان کی عمر بیس برس سے اوپر کی تھی۔ یعنی یہ واقعہ1723کے بعد کا ہے، اس سے پہلے کا نہیں۔
یہ ہے ہمفرے کے دعووں کی حقیقت جس کی بنیاد پر یہ مکروہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ان دو واقعات کی روشنی میں اس کتاب کی صحت اور عدم صحت کا فیصلہ باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اسی نوعیت کی اور کئی تاریخی غلطیاں بھی اس کتاب میں پائی جاتی ہیں ۔ ان کی تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
http://www.islamicawakening.com/viewarticle.php?articleID=1105&pageID=439&
دو توجہ طلب چیزیں
تاہم ہمارے نزدیک اصل توجہ طلب چیزیں دو ہیں۔ ایک یہ کہ ہماری قوم ہرمعاملے میں نظریہ سازش قبول کرنے کے لیے ہمہ کیوں تیار رہتی ہے؟ یہ معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ایک مورخ بھی سوچے اور تحقیق کیے بغیر اطمینان سے لاکھوں لوگوں کو اس سازش کی اطلاع دے دیتا ہے۔جب ایک مورخ کا یہ حال ہے تو عوام الناس کا معاملہ تو جانے دیجیے۔ اہل علم کا معاملہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کو سچائی سے آگاہ کریں۔ اور سچائی یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی ذلت اور بدحالی کا سبب کوئی سازش نہیں، علم و اخلاق میں ان کی پستی ان کی بربادی کی اصل وجہ ہے۔ جب تک مسلمان تعلیم اور علم کو اپنی قومی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح اور اخلاقی بہتری کو اپنا سب سے بڑا دینی فریضہ نہیں بنائیں گے انہیں دنیا میں کبھی عزت و اقتدار نہیں مل سکتا۔
دوسری توجہ طلب چیز یہ ہے کہ بدقسمتی سے اس کتاب کو وہابی نقطہ نظر کے مخالفین نے بہت پھیلایا ہے اور متعدد زبانوں میں اس کے ترجمے کیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز شیخ سے حسن ظن رکھنے والوں اور ان کے معتقدین کے لیے بڑی تکلیف دے ہوگی۔لیکن اصل سانحہ یہ ہے کہ شیخ کے اپنے نام لیوا خاص کر برصغیر میں ان سے متاثر مسلمانوں کے دو بڑے گروپ یعنی اہل حدیث اور دیوبندی بھی اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے واے اہل علم کے خلاف ایسی ہی رکیک اور بے سروپا مہمیں پورے اطمینان کے ساتھ چلاتے ہیں۔وہ پورے ’’جذبہ ایمانی ‘‘ سے سرشار ہوکر اختلاف کرنے والے اہل علم کو مغرب کا ایجنٹ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ان میں اور ان کے اکابرین کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے میں اخلاقی طور پر کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ایسا کرنے والے صالحین کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ پروردگار عالم اپنے صالح بندوں کو ہر حال میں ایسے الزام و بہتان سے بچالیتا ہے، مگر الزام لگانے والے یقیناًاس عمل میں اپنی آخرت کھودیں گے۔
رہی دنیا تو ایسی بے سروپا مہموں سے نہ شیخ کہ نقطہ نظر کی مقبولیت میں کمی آئی ہے نہ دیو بندی اکابرین کے خلاف کفر وارتداد کے فتووں سے کچھ فرق پڑا ہے۔ نہ مولانا مودودی کی عظمت میں کوئی کمی آئی ہے۔ اس لیے ان سب کے پیروکار اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے اہل اور مصلحین کے خلاف جھوٹی مہمیں چلاکر ان کا راستہ روکا جاسکے گا تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی۔یہ وہ وقت ہوگا جب روزقیامت قرآن مجید ان کے خلاف کھڑے ہوکر گواہی دے گا۔ وہ اللہ کا حکم یوں سنائے گا:
ایمان والو!اللہ کے لیے کھڑے ہوجاؤ، انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اور کسی قوم کی دشمنی بھی تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔بے شک،اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے،(مائدہ8:5)
اس روزہر جھوٹے ،بہتان طراز اور سنی سنائی بات آگے پھیلانے والے کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں اللہ کے لیے نہیں بلکہ اپنے فرقے کے لیے کھڑا ہوا تھا۔ اس لیے کہ جو اللہ کے لیے کھڑے ہوتے ہیں وہ تہذیب کے ساتھ اختلاف تو کرسکتے ہیں ، مگر کبھی عدل وانصاف سے ہٹ کر کسی کے ساتھ معاملہ نہیں کرتے۔ چاہے وہ ان کا دشمن ہی کیو ں نہ ہو۔
جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِ آزار نہیں، باعثِ رحمت بن کر رہیے۔ اگلی ملاقات تک، اللہ نگہبان۔
ریحان احمد یوسفی

Advertisements

4 responses to this post.

  1. بہترین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیں

  2. May Allah bless for making a clarification. It is because the Muslims in general have been castigated, abused, insulted, etc due to their own practices and are still being pitted that is why they try to blame others rather then correcting themselves.

    جواب دیں


  3. بہت عمدہ اور بھرپور تجزیہ ہے اور یہ بات میرے لیے بہت حیران کن تھی کیونکہ میں ڈاکٹر صاحب کے کالم اور مضاممیں نہایت شوق سے پڑھتا ہوں۔ ان کالموں میں ڈاکٹر صاحب نے وہ غلطی کی ہے جو کسی بھی مورخ کو ہرگز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ غلطیاں مورخ کی کریڈیبیبلیٹی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ حیرانی اس بات پر بھی ہورہی ہے کہ اتنا پڑھا لکھا اور جہاندیدہ شخص بھی مغرب کے اس کھیل کو نہیں سمجھ سکا اور کسی بھی تصدیق کے اس پر کالم لکھ ڈالے۔ یہ کتاب عام آدمیوں کے لیے لکھی اور پھیلائی گئی ہے ڈاکٹر صاحب جیسے مورخوں کے لیے نہیں۔
    بہت عمدہ ،قابل تعریف اور بروقت مضمون ہے۔

    جواب دیں

  4. Posted by گمنام on 10/05/2012 at 5:30 شام

    اسلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    شیخ کا احترام اپنی جگہ مگر پھر بھی مذکورہ کتاب کی بعض غلطیوں کی بناء پر اس تاریخی بات کی اہمیت کسی طرح کم نہیں ہوتی کہ محمد بن عبدالوہاب اور محمد بن السعود نے خلافت عثمانیہ کے خلاف پہلی بغاوت کی تھی، بعد میں عبدالعزیز بن السعود (المعرف ابن سعود) نے دوبارہ خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت لارنس آف عربیہ کی مدد دے کی تھی۔ اور یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہے! تقریبا یہی کام بعد میں جماعت اہلحدیث نے ہندوستان میں کیا تھا۔

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s