ماں کا عالمی دن


۱۳ مئی کو دنیا بھر میں مدرز ڈے یعنی ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن ساری دنیا بالخصوص مغربی دنیا کے افراد اپنی اپنی ماوؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ، ان کی خدمات کو سراہتے، ان کے احسانات پر ممنونیت کا اظہار کرتے اور انکے ساتھ بتائے ہوئے لمحات سے کو بیان کرکے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
ماں کی ہستی اتنی بلند ہے کہ اگر سال کے ۳۶۵ دن بھی اس کر دئیے جائیں تو اس کے احسانات کا شمار ممکن نہیں۔ اسی اہمیت کی بنا پر ماں کے احسانات کو ہر کوئی جانتا، سمجھتا اور اسے بیان کرتا ہے۔ خواہ وہ کوئی پڑھا لکھا افسر ہو یا کوئی انگوٹھا چھاپ دہقان۔
لیکن ماں کی ہستی سے بھی بلند ایک اور ہستی ہے جو ماں سے زیادہ مہربان، شفیق،رحیم اورکریم ہے۔ یہ ہستی ماں سے بڑھ کر انسان کی ضروریات کا خیال رکھتی اور ہر سرد و گرم میں اس کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ ہستی ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں انسان کے بے جان وجود کو زندگی بخشتی،اسے رزق فراہم کرتی، اس کا تنفس بحال رکھتی ، اسے بیرونی ٹھیس سے بچا کر رکھتی اور ایک مخصوص مدت تک اس تاریک ماحول میں زندگی کو ممکن بناتی ہے۔
جب یہ محروم و مجبور انسانی وجود اس دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے تو پہلے ہی لمحے ماں کی شفیق گود اس کا گہورا بن جاتی، اسکی چھاتیاں اسے غذا فراہم کرتیں اور باپ کا وجود اس کے لئے مادی آسائیشیں مہیا کرنے میں جت جاتا ہے۔یہ سب کچھ اس ہستی کے حکم سے ہوتا ہے جس کا نام اللہ ہے۔
اللہ کے احسانات ان گنت ہیں ۔ اس کے احسانات محض بچپن تک محدود نہیں بلکہ یہ لڑکپن ،جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپے غرض عمر کے ہر حصے میں جاری رہتے ہیں۔ پھر اس کے یہ احسانات محض مادی سطح ہی کا احاطہ نہیں کرتے بلکہ انسان کی نفسیاتی، روحانی اور دیگر احتیاجات کو بھی پورا کرتے ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ آج لوگ ماں کے احسانات کو مان کر اس کی یاد کے لئے ایک دن مقرر کئے ہوئے ہیں لیکن جس نے ماں کی ممتا کو تخلیق کیا ، جس نے اسے یہ احسانات کرنے کی توفیق دی، جس نے اس کی فطرت میں یہ شفقت ودیعت کی، اس ہستی کی یاد کے لئے کوئی دن نہیں، کوئی رات نہیں، کوئی صبح نہیں ، کوئی شام نہیں۔
آج ماں کا عالمی دن اس لئے منایا جاتا ہے کہ ماں کی شفقت کھلی آنکھوں سے نظر آجاتی ہے لیکن خدا کی مہربانیاں اسباب کے پردوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک سعادت مند بیٹا اپنی ماں کی خدمات کو پہچان کر احسان مندی کا رویہ اختیار کرتا ہے ۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو دنیا اسے نالائق فرزند سمجھ کر لعنت ملامت کرتی ہے۔ اسی طرح ایک نیک بندہ اپنے رب کی نعمتوں کو پاکر شکر گذاری کا رویہ اپناتا ہےاور اگر وہ ایسا نہ کرے تو خدا کی نظر میں ایک ناشکرا انسان بن جاتا ہے۔ایک نالائق فرزند دنیا میں رسوائی کا شکار ہوتا ہے تو ایک ناشکرا انسان دنیا و آخرت دونوں میں رسوا ہے۔
آئیے، اپنے رب کو ہر لمحے یاد رکھیں، اسکی باتوں کے نور سے اپنے سینے کو منور رکھیں، اسکی نعمتوں کو چرچا کریں، اس کی بڑائی بیان کریں، اس کاموں کے گن گائیں اور ہر ہستی سے بڑھ کر اس کے شکر گذار اور احسان مند بنیں۔
پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

Advertisements

2 responses to this post.

  1. پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے. میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھال رہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو ورنہ اس کی عمر کیسے کٹے گی اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں. پل جائیں گے لیکن ان ظالم بھائیوں کو یہ خیال نا آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نا کرنے کا ارادہ کر لیا تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں. کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کرسکے. اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی بیچ کر میں نے گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی.

    جواب

  2. May Allah bless you. As majority of the people in this world are non Muslims n the so called Muslims also have started following what the non Muslims are doing so how would the world in general recognize the uncountable benefits that Allah Almighty bestows on his servants? May Allah guide us all to recognize Allah n sing his praises day n night by helping His creation n our selves by bringing our children in the best possible manner according to the Quran n Sunnah.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s