بچوں کی دینی تعلیم


“تمہارے بچے کس اسکول میں پڑھتے ہیں؟”۔اس نے اپنے دوست سے سوال کیا۔
“سٹی اسکول میں پڑھتے ہیں۔ بھئی آج کل کے بچے بہت مصروف ہوتے ہیں۔ صبح اسکول، شام میں ٹیوشن اور رات میں ہوم ورک ۔ بے چاروں کو کھیلنے کودنے کے لئے بھی وقت نہیں ملتا”۔دوست نے جواب دیا۔
“یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بچوں کی دینی تعلیم کے لئے تم کیا کرتے ہو؟” اس نے ایک سوال اور داغ دیا۔
“ہاں ایک مولوی صاحب آتے ہیں ۔ وہ بچوں کو روزانہ آدھے گھنٹے سپارہ پڑھاتے ہیں”۔ دوست نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
“حیرت ہے۔ دنیا کی تعلیم کے لئے تو پورا دن اور دین کی تعلیم کے لئے صرف آدھا گھنٹا؟اور دین کی تعلیم بھی کیسی کہ صرف قرآن پڑھنے کا تلفظ درست کروادیا ، اللہ اللہ خیر سلا۔نہ بچے کو توحید کا علم اور نہ ہی آخرت کی خبر۔ نہ اسے اچھے اخلاق کی تربیت اور نہ ہی اچھا مسلمان بننے کی ترغیب”۔ اس نے اپنا اعتراض پیش کیا۔
یہ آج ہر گھر کا المیہ ہے۔جب ایک بچے کا سارا وقت دنیا کی تعلیم پر صرف ہوگا تو نتیجہ بھی دنیا پرستی ہی کی صورت ہی میں نکلے گا۔ چنانچہ اس بچہ کی منزل ایک عالیشان مکان، چمچماتی کار،بھاری بنک بیلنس، پرکشش اسٹیٹس اور اعلیٰ میعار زندگی نہیں ہوگی تو کیا ہوگی۔ ایک دنیا داری کی تربیت پانے والے بچے سے یہ تقاضا کرنا فضول ہے کہ اس کے دل میں تقوٰی کی آبیاری ہو، وہ خوف خدا سے لرز اٹھے، وہ رات کو اپنے رب کے حضور رقت کے لمحات گذارےاور دن میں خدا کے بندوں کے حقوق ادا کرے۔اسی طرح اس سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ آخرت کو اپنی منزل بنائے، جنت کا حصول اس کا نصب العین ہو اورجہنم سے آزادی اس کا مقصد حیات ہو۔
آج کل دینی تعلیم محض ظاہر کے چند عقائد کو ازبر کرانےاور قرآن کی تجوید سکھانے تک محدود ہوگئی ہے۔ نہ بچوں کو دینی عقائد کا فلسفہ پتا ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں قرآن کی تعلیمات کا علم۔ سیکھنے کی یہ عمر چھلکا کھانے تک محدود ہو جاتی ہے اور مغز تک رسائی نہیں ہوپاتی۔
آج اس بات کی ضرورت ہے کہ دینی تعلیم کے لئے ایک آسان نصاب ترتیب دیا جائے جو اتنا آسان ہو کہ ہر گھر کے پڑھے لکھے ماں باپ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں۔ اس نصاب میں قرآن کی عربی کے ساتھ ساتھ قرآن کے بیان کردہ قصے ہوں تاکہ بچوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے انہیں قرآن کا ترجمہ پڑھنے پر راغب کیا جائے۔ اس کے نصاب میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سیرت کے واقعات ہوں جن سے اخلاقیات کی تربیت دی جاسکے۔اس نصاب میں سبق آموز داستانیں ہوں جن سے نصیحت حاصل کی جاسکے۔ غرض یہ نصاب تعلیم اور تربیت پر مبنی مواد کا ایک مرقع ہو جس میں اسلام کے ظاہر کےساتھ ساتھ اس کے باطنی پہلو کو بھی اجاگر کرے۔
اگر ہمیں اپنے بچوں کی دنیا کے ساتھ ساتھ انکی اور اپنی آخرت کو بھی سنوارنا ہے تو ان کی تربیت انٹرنیٹ اور ٹی وی جیسے بد چلن استادوں کے ہاتھوں کرنے کی بجائے اپنی شفقت بھری نگرانی میں کرنی ہوگی۔ ورنہ بدچلن بچوں کی آخرت کی بربادی ہماری اپنی بربادی ہے۔
از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

6 responses to this post.

  1. Mashallah, very good article. Im looking forward to read mor on this blog, because right now im learning urdu in germany. Your site helped me a lot, thanks much

    Greetings
    Sister Alicia

    جواب دیں

  2. معذرت خواہ ہوں کے بغیر آپ کی اجازت کے حماد صاحب کے تبصرہ کا جواب لکھ رہا ہوں
    حماد صاحب
    آپ کی یہ غلط سوچ ہے کہ قرآن شریف پڑھانے والا بچے مین تعصب پیدا کرتا ہے ۔ اُس کے پاس تو بچہ آدھے گھنٹے کیلئے جاتا ہے جن کے پاس بچہ ساڑھے تئیس گھنٹے رہتا ہے وہ کیا کرتے ہیں ؟ والدین متعصب ہوں گے تو اپنے بچوں کو وہ متعصب بنانے کی کوشش کریں گے ورنہ بچہ متعصب نہیں بنے گا

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے اپنے محلے کی مسجد میں ایک باعِلم امام رکھنے کیلئے کتنی کوشش کی ؟
    اور یہ کہ آپ نے دین اسلام کا درست عِلم حاصل کرنے کیلئے کتنی کوشش کی ؟

    جو دو جماعیتیں پڑھ جاتا ہے سب کو حقیر جاننے لگ جاتا ہے ۔ پروفیسر محمد عقیل صاحب نے اپنے تحریر میں واضح کیا ہے کہ دینی تعلیم کیلئے بہت کم وقت اور وہ بھی بادلِ نخواستہ دیا جاتا ہے جبکہ میرے علم میں ہے کہ پرائمری کے طالب علم کو ایک مضمون پڑھانے کیلئے والدین ایک سے پانچ ہزار روپے ماہانہ دیتے ہیں اور دینی تعلیم کیلئے پچاس سے ایک سو روپیہ ماہانہ ۔ اس عوضانے میں جو دینی تعلیم کا معیار ملے گا وہ ظاہر ہے ۔

    جواب دیں

  3. May Allah bless you sir.Very well written n keep it up. May all realize the importance of teaching n inculcating the interest of Islam in their children for there benefit, their children n for the society as a whole.

    جواب دیں

  4. Posted by Hammad on 13/05/2012 at 4:32 شام

    بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھائیے ۔۔۔ وہ مسلمان ، ہندو یا عیسائ پیدا نہیں ہوا ۔۔صرف انسان پیدا ہوا ہے۔۔۔ اسے مسلمان تو دور کی بات ۔۔۔ اسے پہلے سنی، دیوبندی ، شیعہ بنایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے فرقوں اور غیر مسلمانوں سے نفرت سکھائ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسی مذہبی تربیت محض ایک ایسی جنریشن تیار کرتی ہے جو تنگ نظر ہوتی ہے ۔۔۔ صرف نفرت کرنا جانتی ہے۔ ۔۔۔ انسانیت سے محبت کا سبق کبھی نہیں پڑھ پاتی۔۔۔۔ ایک تنگ نظر جنریشن تیار کرنے سے بہتر ہے ایک انسان دوست ، وسعت نظر سے مالا مال جنریشن تیار کی جائے جو بڑے ہو کر تمام فرقوں سے بالا ہو کر سوچ سکے ۔۔۔۔۔ خدارا کچے ذہنوں کو مذہبی برین واشنگ سے بچایئے!

    جواب دیں

  5. Posted by گمنام on 13/05/2012 at 4:12 شام

    جب والدین کی خود ہی دین کا علم نہیں ہوگا تو پھر وہ بچوں کو کیا سیکھایئں گے ؟؟؟

    جواب دیں

    • السلام علیکم
      آپ نے درست فرمایا کہ جب ماں باپ ہی تعلیم سے عاری ہونگے تو وہ بچوں کی تربیت کیسے کریں گے ۔ ۔ لیکن جب کوئی ماں یا باپ اپنے بچوں کی تربیت کرنے پر تل جائے تو تعلیم کی کمی دور کی جاسکتی ہے

      جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s