وجود باری تعالیٰ- کچھ سوالات


اس دفعہ کی ملاقات میں قارئین کی خدمت میں ایک انتہائی اہم مسئلے کے حوالے لکھے گئے دو ای میل پیش ہیں ۔ یہ ای میل جرمنی میں مقیم ایک دوست کے ای میلز کے جواب میں لکھے گئے ۔ یہ دوست موجودہ دور کی الحادی فکر پر کافی کام کر رہے ہیں ۔ میں نے ان ای میلزمیں ان سوالات کے کچھ جوابات دیے ہیں جن کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ کا انکار کیا جاتا ہے ۔یہ ای میل آپ کی خدمت میں پیش ہیں ۔اس خط و کتابت میں میں صرف اپنے خطوط نقل کر رہا ہوں ان کے نہیں ۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان کے آخری ای میل کا ایک جز یہاں نقل کر دوں ۔ یہ جز یہ بتاتا ہے کہ آج کا نوجوان کیسی ذہنی الجھن کا شکار ہوجاتا ہے ۔ میں زندگی میں خود اس مرحلے سے گزر چکا ہوں ۔ اور جانتا ہوں کہ ان سوالات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو الحادی سوچ کس طرح انسان کی زندگی اور اس کے ایمان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ۔اب آپ پہلے ان کے آخری خط کا ایک جز ملاحظہ فرمائیے اور اس کے بعد میرے ای میل ملاحظہ فرمائیں ۔

our discussion has been extremely useful for me. Struggling alone with this problem, I was getting desperate. I wasn[L:146]t able to sleep at nights, couldn[L:146]t concentrate on daily life activities and even in prayers. It was hurting so much as if somebody had told me, with evidence in his hand, that my father was a merciless killer.
ترجمہ: ’’ہماری یہ گفتگو میرے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے ۔میں اس مسئلے کو حل کرنے کی جدوجہد میں مایوس ہورہا تھا۔راتوں کو سو نہیں سکتا تھا۔ روزمرہ امور اور نماز کی ادائیگی میں بھی یکسوئی باقی نہیں رہی تھی۔میں اس شخص کی طرح اذیت میں تھا جسے واضح ثبوت کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ اس کا باپ ایک بے رحم قاتل ہے ۔
‘‘
اب آپ میرے خطوط ملاحظہ کیجیے جو اس بنیادی سوال کا جواب دیتے ہیں کہ دنیا میں مصائب کیوں ہیں ۔ایسا کیوں ہے کہ آزمائش کی جو دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے وہاں آلام و مصائب کی آگ انسانوں کو ہی نہیں آزماتی بلکہ بے زبان جانوروں کی بھی جھلسادیتی ہے ۔

میرا پہلا ای میل
’’برادر عزیز

آپ کا اٹھایا ہوا سوال ایک اہم سوال ہے اوران جیسے متعدد سوالات اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف استدلال کرنا ایک عام ملحدانہ رویہ ہے جو بہت مقبول بھی ہے ۔ میں اپنی کتاب کا دوسرا حصہ تحریر کر رہا ہوں جس کا ایک مقصد انہی تمام سوالات کا جواب دینا ہے ۔
اس کتاب میں تین بنیادی سوالات کو ایڈریس کیا گیا ہے :
پہلا یہ کہ جو شر انسان پیدا کرتے ہیں ، ان کا ذمہ دار بہرحال خدا ہی ہے کہ وہ مداخلت کر کے اس شر کو جب رونما ہونے سے روک سکتا ہے ، مگر نہیں روکتا۔ ظلم پر خا موش رہنے والا یہ خدا عقل و فطرت بظاہر قبول نہیں کرتی۔

دوسرا سوال وہی ہے جو آپ نے اٹھایا اور جس کے لیے اصلاً پرابلم آف ایول کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ خدا کی موجودگی کے دلائل کم وبیش اسی سطح کے ہیں جس سطح کے جواب مخالفین کے پاس موجود ہوتے ہیں ۔ خدا نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ اپنی موجودگی کا ایسا استدلال پیش کرتا کہ اچھے اور معقول لوگ تو گمراہ ہونے سے بچ ہی جاتے ۔وجود باری تعالیٰ کی بحث ، کم از کم صالح فطرت لوگوں کے لیے بحث کے دائرے سے نکل کر واقعہ کے دائرے میں داخل ہوجاتی۔

ان تین بنیادی سوالات کے ذیل میں پھر وہ تمام سوالا ت آئیں گے جو ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے کم و بیش تمام فلسفی اٹھاتے ہیں ۔

ا ن میں سے ایک سوال یہ بھی ہو گا جو آپ بیان فرما رہے ہیں ، (مکتوب نگار کا سوال یہ تھا کہ حال ہی میں ایک ہرنی کا بچہ جنگل کی آگ میں جھلس گیا اور بعد میں تڑ پ تڑ پ کر مرا۔ اس ظلم کی بظاہر ذمے داری اسی ہستی پر عائد نہیں ہوتی ہے جو اس کائنات کا نظام چلا رہا ہے ؟)۔ تاہم ناول میں میرا اندازقرآنی واقعاتی استدلال کا ہو گا نہ کہ فلسفیانہ انداز کا۔ تاہم آپ کے اس سوال کے مختصر جواب میں عرض ہے کہ یہ سوال صرف ایک ہرنی کے بچے ہی تک محدود نہیں ، اس دنیا میں جگہ جگہ ایسے واقعات ہورہے ہیں جن کے بارے میں ٹھیک یہی سوال اٹھایا جا سکتا ہے ۔

اس خاکسار کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ جان بوجھ کر کر رہے ہیں اور اس کی بہت سی حکمتیں ہیں ۔ ان حکمتو ں میں سے ایک بنیادی حکمت یہ ہے کہ انسانی فطرت کی تشکیل جس اصول پر ہوئی ہے اس میں تکلیف انسان کے اندر خیر اعلیٰ کو پیدا کرنے اور اسے حاصل کرنے کا بنیادی محرک ہے ۔ مجھے کہنے دیجیے کہ آزمائش کی اس دنیا میں انسانیت کی بقا تکلیف کی بقا کے ساتھ ہی وابستہ ہے ۔ ٹوائن بی نے اس کو چیلنج اینڈ ریسپونس کے نام سے پورے فلسفیانہ اور تہذیبی نظام کے طور پر ثابت کر دیا ہے ۔

ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اس اصول پر تو نہیں بنا سکتے کہ تکلیف ہرنی کے بچے سے تو ختم کر دی جائے لیکن باقی جگہوں پر وہ موجود رہے ۔ تکلیف رہے گی تو ہر سطح پر رہے گی۔ میرا بچہ بیمار ہو گا اور بخار سے جلے یہ تو مجھے قبول نہ ہو، لیکن چیلنج اور ریسپونس کو میں ٹھیک سمجھوں ، اللہ کی دنیا میں اس طرح کے مذاق گوارا نہیں کئے جاتے ۔ان کی آزمائش ہر پہلو سے مکمل ہوتی ہے ۔ یہاں انسان کینسر سے تڑ پ تڑ پ کر بھی مریں گے اور زلزلے بھی آئیں گے ۔ یہ دنیا اسی اصول پر بنائی گئی ہے ۔ اور اسی بات کو ٹوائن بی نے سمجھ لیا تھا۔ اسی حقیقت کو جو معقول انسان مانتا ہے وہ زندگی میں بہتری لاتا چلا جاتا ہے ۔

اللہ کا اصل مقصود یہ ہے کہ عقلمند لوگ اس حقیقت کو سمجھیں اور کائنات کی سب سے بڑ ی تکلیف یعنی جہنم سے بچنے اور سب سے بڑ ے خیر یعنی جنت کی طلب کریں ۔ جو لوگ دنیا اور آخرت کی بہتری کے یہ دونوں کام کرنے کے بجائے اعتراضات کرتے ہیں ان کے اعتراضات کا اصل ہدف عیسائیوں کا خدا ہوتا ہے جہاں نہ جہنم کی ہولناکی کا وہ تصور ہے نہ دنیا کے آزمائش ہونے کی بات بیان ہوئی ہے ۔ جہاں خدا کو صرف ایک رحیم ہستی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہی وہ سوالات تھے جو ساری زندگی مدر ٹریسا کو گھیرے رہے اور وہ ایک متشکک کے روپ میں دنیا سے رخصت ہوئیں ۔

میں آج کل قدیم فلسفے ، جدید فلسفے ، اور ملحدانہ نظریات کے اہل علم کا مطالعہ اسی پس منظر میں کر رہا ہوں ۔ میرا تاثر یہ ہے کہ ہمارے فرقہ پرستو ں کی طرح ان کے پاس بھی الفاظ ختم نہیں ہوتے ۔ بہرحال اس مرض کا علاج رسولوں کے پاس بھی نہیں تھا۔ میں بھی نہیں کرسکوں گا ۔لیکن پروردگار کا اصل مقصد ہدایت کو کھول کر واضح کرنا ہوتا ہے لوگوں سے منوانا نہیں ۔ یہی کوشش قرآن کریم کی ہے اور یہی میں اپنے نئے ناول میں کروں گا۔ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو آسان فرمادے ۔

آخر میں یہ بات بھی واضح کر دو ں کہ اہل ایمان کو اپنے متعلق غلط فہمی سے بچانے کے لیے وہ قرآن مجید میں بار بار اپنے بارے میں واضح کرتے ہیں کہ وہ رائی کے دانے کے برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس میں مزید وہ سارے بیانات بھی شامل ہیں جو آپ نے نقل فرمائے ہیں ۔
والسلام
ریحان‘‘
دوسرا ای میل
ٍ میرا درج بالا ای میل ، جیسا کہ اسے آپ نے ملاحظہ کیا اشارات پر مبنی تھا۔مکتوب نگار نے دوبارہ کچھ چیزیں تفصیل کے ساتھ اٹھادیں ۔ جس کے بعد میں نے ایک تفصیلی ای میل لکھا۔ یہ ای میل درج ذیل ہے ۔
’’برادر عزیز
السلام علیکم
آپ کے تفصیلی ای میل کا شکریہ۔ مجھے اس مسئلے کا عرصے سے ادراک ہے جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے ۔ میں اسے مغرب کی دوسری یلغار کہتا ہوں ۔ انیسویں صدی کی پہلی یلغار کے برعکس جو سیاسی نوعیت کی تھی اور جس کا براہ راست نشانہ ہماری ایلیٹ اور مقتدر طبقات تھے ، یہ تہذیبی ، فکری اور ثقافتی نوعیت کی یلغار ہے جس کا نشانہ ہماری مڈل کلاس بنے گی۔یہ دوسری یلغار اکیسویں صدی کے ربع اول میں ہمارے لیے سب سے بڑ ا چیلنج ہو گا۔

آپ نے جو پہلو اٹھائے ہیں وہ اس یلغار کا فکری پہلو ہے ۔ میں نے اس حوالے سے اپنا نقطہ نظر عرض کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر شاید میں اپنا استدلا ل واضح نہیں کرسکا۔

میرا استدلال یہ تھا کہ اس دنیا میں امتحان تو بلاشبہ انسان ہی کا ہورہا ہے لیکن یہ اسی کرہ عرض پر لیا جا رہا ہے جہاں دیگر تمام مخلوقات بھی آباد ہیں ۔پھر یہ انسان انہی مادی عناصر اور انہی حیوانی اجزا، قویٰ اور جبلتوں سے بنا ہے جو دیگر حیوانات کو دیے گئے ہیں ۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ انسانوں کے جسمانی مصائب کی نوعیت جو بہرحال امتحان ہوتے ہیں مختلف ہو اور دیگر حیوانات کے لیے اللہ تعالیٰ کچھ اور معاملہ کریں ۔جو آگ انسانوں کو جلائے گی بہرحال جانوروں کو بھی جھلسادے گی۔ اس لیے معاملہ اس کے برعکس کرنا خدا کی حکمت کے بالکل خلاف ہوجاتا۔

اب سوال صرف یہ ہے کہ جانوروں کے مصائب کی نوعیت خود ان کے حوالے سے کیا ہے ۔ میری ناقص رائے میں اس معاملے میں یہ گفتگو تو ہو سکتی ہے کہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ، لیکن اس کو بنیاد بنا کر وجود باری تعالیٰ پر اعتراض کرنا ایک غیر معقول رویہ ہے ۔ خدا کو ظالم ، غیر عادل اور پھر غیر موجود ثابت کرنے کی کوشش میرے نزدیک اس پہلو سے اعتراض برائے اعتراض ہے ۔اس لیے کہ اگر یہ اعتراض درست مان لیا جائے تو خدا سے پہلے یہ اعتراض خود انسانوں پر وارد ہو گا۔

پھر کسی جانور کا گوشت کوئی انسان نہیں کھا سکتا۔ بلکہ کسی جانور کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی اور جانور کو اپنا شکار بنائے اس لیے کہ ہر تکلیف سے بڑ ی تکلیف تو موت ہے ۔ پھر جاندار صرف چوپائے یا پرندے تو نہیں ہوتے ، حیات کی ہر قسم کا تحفظ انسانیت کا فریضہ قرار پائے گا۔ اور زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ بے چاری انسانیت اس فریضے کی ادائیگی کی ناکام کوشش میں (بشرطیکہ کچھ احمق اس استدلا ل کو مان لیں ) کرہ ارض سے فنا ہوجائے گی۔

اس لیے اگر یہ ایک درست اعتراض ہے تو میرے نزدیک معترضین کو اس کو بنیاد بنا کر خدا سے پہلے انسانو ں کے خلاف مہم چلانی چاہیے ۔ جب وہاں سب کو قائل کر لیں تو خدا کے بارے میں جواب میں دے دوں گا۔

میرے نزدیک یہ تکالیف ایک فطری امر ہیں ۔فطری امور بدیہات میں سے ہوتے ہیں اور خود دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ موت اور تکلیف تو ایسا آفاقی اصول ہے کہ جس پر نہ صرف ساری انسانیت اپنی زندگی گزار رہی ہے ، بلکہ باقی مخلوق بھی اپنی زندگی گزار رہی ہے کہ ایک کی موت پر دوسرے کی زندگی موقوف ہے ۔ اس لیے میرے نزدیک فطری اصولوں کا انکار کرنے والے خدا کے خلاف اعلان جنگ کرنے سے پہلے انسانوں کے خلاف اعلان جنگ کریں اور ان کی فطرت کو تبدیل کروائیں ۔

باقی رہی یہ بات کہ جانوروں کے اندر بے رحمی کے عناصر پائے جاتے ہیں ۔ موت کی بعض اقسام بے رحمی کے ساتھ آتی ہیں ، میرے نزدیک ان تمام معاملات میں ہمارے پاس مکمل ڈیٹا نہیں ہے ۔ ہم جانوروں کی نفسیاتی کیفیات کے بارے میں بہت کم علم رکھتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ انسانوں جیسی ہی مکمل نفسیات اور حساسیت رکھتے ہیں (جس کا کوئی خاص قرینہ موجود نہیں ہے ، نہ مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں )، تب بھی ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ معاملہ کس قسم کا ہے ۔ قرآن نے ایک آدھ مقام پر اصولی بات بیان کی ہے ۔ مثلاً سورہ انعام آیت 38 میں ’’امم امثالکم ‘‘کے الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان مخلوقات کی اپنی معنویت ہے ۔ حضرت سلیمان کے معاملے میں جانوروں خاص کر چیونٹی کے شعور اور شہد کی مکھی کے حوالے سے قرآن کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے ۔ قرآن مجید کے قرآئن بتاتے ہیں کہ یہ مخلوقات اگلی دنیا میں بھی ہوں گی۔سورہ واقعہ میں ’’و لحم طیر مما یشتھون‘‘ کے الفاظ اس کی واضح دلیل ہیں ۔

بہرحال میرے نزدیک ان معاملات کو سمجھنے پر گفتگو ہو سکتی ہے ، مگر اس کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک مولویانہ اپروچ ہے جو ملحدوں میں بھی یکساں طور پر پائی جاتی ہے ۔

تکلیف اس زندگی کی ایک حقیقت ہے ۔سلبی طور پر چھوٹی تکلیف ہمیشہ بڑ ی تکلیف سے بچانے کا سبب بنتی ہے ۔ چاہے دنیا کی ہو یا آخرت کی۔ مثبت طور پر یہ تخلیق کا لازمی عنصر ہے ۔ ٹوائن بی کے حوالے سے میں اس کی اہمیت بھی بیان کر چکا ہوں کہ یہ بقا و ارتقا دونوں کی ضامن ہے ۔ یہ انسان کے نفسیاتی وجود کی ترقی اور اعلیٰ احساسات کے فروغ کی ضامن ہے جو انسان کو حساسیت عطا کرتی ہے ۔

میرے خیال میں مصائب کے فوائد اتنے زیادہ ثابت شدہ ہیں کہ اس کو موضوع بنا کر خدا کے وجود پر اعتراض کر کے انسان اپنے سطحی ہونے کا ثبوت دیتا ہے ۔ رہا جانوروں کا معاملہ تو میں عرض کر چکا ہو ں کہ اس معاملے میں ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہے ۔ ہمیں اس بات کو ماننا ہو گا۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نہیں مانتے تو پہلی جنگ خدا کے بجائے انسانوں سے لڑ نی چاہیے
(By ریحان احمد یوسفی)

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by raza on 16/12/2012 at 12:18 صبح

    ass salaam wo alekum, yes the same questons were triggering my thoghts too..why Almighty Allah is silent abot all the messy incidents , sir ur arguments are reliable. the fact that the only threat to all creatures of the universe is human by himself.u r going to blame so blame the humans….and what a pity people reffer to that fire incident in forest and held responsible Allah……haven’t you read history the whole sum blood shed that human caused.

    جواب

  2. Posted by Ajaz on 04/06/2012 at 2:10 صبح

    This type of conversation makes you look good but the facts are otherwise. Muslims are ready to kill to prove that the BOOK is right and nobody else. Wake up. Peaceful societies have locked their religion in their places of worship and that’s the only way for all the individuals to live happily and prosper to fullest and not be shackled by Islam.

    جواب

  3. May Allah bless you. Even though Allah has created this world for testing many different species in the form of human beings, animals, devils, Jins n others. But the information we have is more concerned with humans n we the followers of Prophet of Allah should guide n spread the message of believe in one God, His books, angles, Day of Judgement, etc. Stop people from doing wrong n invite people to do good.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s