معراج کے تحفے از ڈاکٹر بشری تسنیم


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قرآنِ پاک سورت بنی اسرائیل کی ابتدائ میں اُس عظیم واقعہ کا تذکرہ ہے جس کو ’’اسرا‘‘کہا جاتا ہے۔
’’پاک ہے وہ ذات جو اپنےبندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔ جس کے آس پاس کو ہم نےبرکت عطا کر رکھی ہے تا کہ اسے ﴿رسولِ عربی کو﴾ اپنی قدرت کے نمونے دکھائے۔ یقینااللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘ ﴿بنی اسرائیل17:1﴾
اسی طرح سورہ نجم کی ابتدائی آیات میں معراج شریف کا تذکرہ ملتا ہے۔
معراج کا پس منظر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ ابھی کامیابی اورظلم و ستم کے درمیانی دور سے گزر رہی تھی۔ مکہ مکرمہ کے آخری دور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن کے دوران وفاتِ ابو طالب،وفات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور شعب ابی طالب کی جاں گسل سختیوں جیسے عظیم صدمات سے دو چارتھے۔ گویا یہ سال ’’عام الحزن‘‘ تھا۔اس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پے در پے صدمات آئے،سفرِ طائف وہ واقعہ ہے جسے سن کر پتھروں میں بھی گداز پیدا ہو جائے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس دن کی سختی اورشدّت کا تذکرہ ملتا ہے۔
اتنی تکلیف ، غم اور حزن کے عالم میں بھی جب دل پاش پاش تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت جبرئیل کو منع کر دیا کہ ان ظالم اور پتھر دل لوگوں کوپہاڑوں کے درمیان پاش پاش کیا جائے۔ اس اخلاق عظیم کی قدر و منزلت زمین و آسمان کےمالک نے اس طرح کی کہ اپنی رحمت و برکت اور منزل تک پہنچنے کے راستے کشادہ کر دیے۔حوصلہ افزائی اور یقین کی ایک جھلک اس واقعے میں ملتی ہے کہ انسانوں کی بد سلوکی اور ایمان نہ لانا جب دل شکستہ کر رہا تھا تو جنوں کی ایک جماعت نے قرآنِ پاک سنااور دین اسلام قبول کیا۔ ﴿الجن 2-1:72﴾ یہ طائف کے سفر سے واپسی پر وادیٔ نخلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد بھی تھی اور سکونِ قلب کا باعث بھی.۔مگر ایک مخلوق نے دکھ دیا تو دوسری نے دل شاد کر دیا .اس تائید الٰہی سے غم و الم اور حزن و مایوسی کے بادل چھٹ گئے. اس آن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی گرم جوشی، چستی اورتوانائی محسوس کی ہو گی اور پھر وہ مکہ کی طرف گامزن ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحیم و شفیق ہے۔ وہ مشکل کام میں ہمت اور حوصلہ دیتا ،محبت سے ہاتھ تھامتا ، دل کو سکون عطا کرتا اور کام کی تکمیل کی خوشخبریاں سناتا ہے۔ اسی طرح وہ اچھی کارکردگی پر نقد انعام عطا فرماتا ، . محنت کا ثمر بھی دیتا اور حتمی کامیابی کا یقین دلاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے بچوں کو ماں مشقت والا کام کروا کر سینے سے لگاتی،پیار کرتی اور راضی ہو جانے کی خوشخبری سناتی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ واپس آ کر افراد اورقبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینا شروع کی اور انسانوں کے اس انبوہِ کثیر میں کچھ لوگوں نے بہترین جواب دیا۔ سختیوں کے دور میں یثرب کے چند لوگ اندھیرے میں روشنی کی کرن ثابت ہوئے اور یہی کرنیں آفتاب کے طلوع ہونے کی پیش گوئی کر رہی تھیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کےدور کی محنتوں پہ شاباش دینے اور اگلی منزل کے لیے ہمت، حوصلہ اور منصوبہ بندی فراہم کرنےکے لیے اپنے دربار میں بلایا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا شان ہے اس عظیم ترین انسان کی جس کو جبریل امین کی معیت میں سواری بھیج کرپوری شان کے ساتھ دربارعالی میں بلایا جائے۔
اللہ رب العزت نے اپنے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوںکی سیر کرائی۔ اپنی سلطنت کے دروبام دکھائے، اپنے بندوں کے اچھے برے احوال کابتایا جیسے محب اور محبوب کی باتیں ہوتی ہیں . اپنے برگزیدہ نبیوں سے ملاقات کرائی. انبیائے کرام کو عین الیقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہی قاعدہ ہے . عینالیقین کی ہی کرامت ہوتی ہے کہ انبیائے کرام ایسی سختیاں پورے ایمان کے ساتھ آسانی سے جھیل جاتے ہیں جن کو برداشت کرنا عام انسان کےبس کی بات نہیں ہوتی۔

ہجرت سےایک سال قبل یہ معجزہ رونما ہوا۔ واقعے کو بیان کرنے والے صحابہ کرام کی تعدادتقریباً 25 ہے۔ آج ہم بحیثیت امتی اس واقعے کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اپنی نشانیاں دکھانے اور اپنی رحمت کی لامتناہی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے لیے پوری شان و شوکت ﴿پروٹوکول﴾ کے ساتھ بلایا۔ ہمارے لیے بھی یہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔ اگر ہمارے گھر کے سربراہ کو حاکمِ وقت پورے پروٹوکول کےساتھ ملاقات کا شرف بخشے تو سارے خاندان میں شادیانے بجنے لگتے ہیں . ایک پارٹی کاسربراہ کسی اعزاز کا مستحق ہو تو پوری پارٹی اس کو اپنا اعزاز سمجھتی ہے ۔
یہ بھی دستور ہے کہ دربار میں جانے والا، کچھ نہ کچھ کارنامے، کوئی ایجاد، کوئی سند، کوئی ڈگری، کوئی کلام لے کر جاتا ہے . اپنے ذمہ لگے ہوئے کاموں کی رپورٹ لے کر جاناپڑتا ہے . حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تگ و دواور کوششوں کا تو یہ عالم تھا کہ خود رب جلیل کو تسلی دینی پڑی کہ ’’کیا تم ان کی خاطر اپنی جان کو ہلاک کیے دیتے ہو کہ وہ اس تعلیم پہ ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘﴿الکھف18:6﴾ گویا کہ ایوارڈ تو مل ہی چکا ہے منصب کی ذمہ داری نبھانے کا، پیار ومحبت سے بلوایا اور اگلی کامیابیوں کے نشان راہ بھی بتائے۔
یہ بھی دستور ہے کہ جب دربارِ عالیہ میں اپنے کسی خاص بندے کو بطور مہمان بلایا جاتا ہےتو اس کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا۔ یہاں تو رب کائنات کرم فرما ہے اور امام الانبیاء مہمانِ مکرم ہے۔ دینے والا عظیم ترین تو لینے والا بھی انسانوں میں عظیم ترین. مہمان سے جس قدر محبت ہے اس کے اہل سے بھی اسی نسبت سے محبت کا اظہار ہو گا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ عطا کرنے والا رب عظیم ہو اور وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے ساتھ کچھ تحائف نہ دے۔ پھر مہمان جن احباب کو پیچھے چھوڑ کر آیا ہے ان کے پاس خالی ہاتھ کیسے جائے؟کیسے جا کر یقین دلائے کہ میں کہاں گیا تھا؟ وہاں میرا کیسا اعزاز و اکرام ہوا؟ وہ تحائف ہی گواہی دیں گے کہ جہاں وہ ٹھہرا تھا وہ اتنا مہربان ہے کہ ساتھ اس قدرقیمتی تحفے بھیجے ہیں۔
اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کی امت کےلیے ان کے ساتھ کتنے عظیم تحائف ارسال کیے، امت نے ان تحفوں کی کیا قدردانی کی؟امت کے ہر فرد کے لیے یہ سوال ہے۔
تحائف کی فہرست پہ نگاہ ڈالتے ہیں:
1 جو شخص کسی نیکی کاارادہ کرے اور کسی وجہ سے نہ کر سکے تب بھی اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا۔ ﴿صحیح البخاری: 6491﴾
2 جب گناہ کا ارادہ کرےاور گناہ کو نہ کرے تو گناہ نہ لکھا جائے گا اگر کیا تو ایک ہی لکھا جائے گا . اگرارادہ پختہ کیا پھر عمل نہ کیا تو گناہ کے ارادے چھوڑنے پہ ثواب ہو گا۔﴿صحیح البخاري: 6491﴾
3سورۃ بقرہ کی آخری آیات تحفہ میں دی گئیں۔ ﴿صحیح مسلم: 173﴾
4یہ وعدہ کیا گیا کہ جواللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اُس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ﴿صحیح مسلم: 173﴾
۔5امت کو پچاس نمازوں کاتحفہ دیا گیا جو امت کی آسانی کی خاطر پانچ کر دی گئیں لیکن ثواب پچاس نمازوں کاہی ہو گا۔ ﴿صحیح البخاری: 7571، وصحیح مسلم: 173﴾
ہم نے نمازوالے تحفہ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہے؟ ہم اگر کسی کو تحفہ دیں اور اپنی آنکھوںسے اُس کی ناقدری دیکھیں تو جذبات و احساسات کا کیا عالم ہو گا؟ اور آپس کے قلبی تعلقات میں کیا کچھ کمی آ جائے گی؟ اس کی ایک واضح مثال سیدنا عمر فاروقt کا واقعہ ہے۔ انھوں نے ایک آدمی کوتحفے میں گھوڑا دیا، کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد گھوڑے کو دیکھا تو بہت کمزور ہو چکاتھا۔ عمر فاروق کو بہت تکلیف ہوئی۔ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ اس آدمی سےگھوڑا خرید لے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کردیا۔﴿صحیح البخاری: 2623﴾

بڑی عجیب سی بات ہے کہ ہم اگر کسی کی طرف سے تحفہ وصول کریں اور معلوم ہو کہ اس سے زیادہ تعداد میں مل رہا تھا مگر اب اس کو کم کر کے دیاگیا ہے تو حسرت کا کیا عالم ہو گا؟اور اگر ہماری نالائقی کا حوالہ زیر بحث آیا ہو اور نالائقی کی وجہ سے زیادہ بڑایا تعداد میں زیادہ تحفے سے محروم ہو گئے ہوں تو ندامت کا کیا حال ہو گا؟ کیاواقعی ایسا ہی نہیں ہے؟ لیکن نماز جیسا عظیم تحفہ جو ملا کم، پھر بھی اس کے ثمرات زیادہ کے برابر ہیں . کم ملنے کی ندامت کہاں ہے، ہمارے دل میں تو زیادہ ثواب ملنےکی شکر گزاری بھی نہیں ہے . نمازوں سے لاپروائی کا کوئی غم ہی نہیں ہے۔ نماز دراصل معراج ہے جس میں دعوت ہے ملاقات کی، باہم گفتگو کی، ترقی کے زینوں پہ چڑھنے کی،آسمانوں کی سیر کی، مخلوق کی خالق کے سامنے عجز و نیاز کی، عبد کی معبود سے اظہاربندگی کی، ساری دنیا سے ناطہ توڑ کر اک نئے عجائبات عالم کی سیر کی، رب کو دیکھلینے کی لذت کی، حدیث جبریل میں ہے: ’’تو اپنے رب کی عبادت ایسے کر جیسے کہ تواسے دیکھ رہا ہے۔‘‘صحیح البخاری: 50﴾

نماز میں جب مومن قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے تو جنت، دوزخ کا مشاہدہ کرتا ہے۔ کبھی قوموں کےعروج و زوال کا حال دیکھتا ہے۔ کبھی ماضی میں جھانکتا ہے کبھی مستقبل کو دیکھتاہے۔ کبھی رب کے حضور نادم ہے اور تسلی و تشفی حاصل کرتا ہے۔ کبھی مایوس ہے توحوصلے کی ردا مل جاتی ہے جس کو اوڑھ کر وہ زندگی کے سرد و گرم سے خود کو محفوظپاتا ہے۔

مگر نمازنہ ہمارے دل کا سکون ہے نہ آنکھوں کی ٹھنڈک، اپنی زندگی میں نماز کے بارے میں کیےگئے مطالعہ اور اپنی نمازوں کی کیفیت کا اگر ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ادراک اور شعور کبھی پاس نہیں پھٹکے. نماز ضائع کرنے والی شہوات میں اُلجھ جاتےہیں۔ اور نماز تو بے حیائی اور ہر برائی سے دور رکھنے والی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم نمازی بھی ہیں اور بے حیائی اور برائی کا سیلاب بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ سیلاب میں زیادہ طاقت ہے یا ہماری نمازوں میں معراج والی کیفیت نہیں ہے؟ یقینا ہم نماز پڑھلیتے ہیں ’’ادا‘‘ نہیں کرتے . ’’قائم‘‘ نہیں کرتے . نماز تو استعارہ ہے ایک اسلامی نظام زندگی کے قیام کا . نماز دین کا ستون ہے۔ ’’دین‘‘ نظامِ زندگی ہے۔ نظامِ زندگی میں کہاں کیا غلط ہے؟ کون بالکل درست حالت میں نہیں ہے؟ یہ غور کرنا ہر فردکا اپنا کام ہے۔ افراد سے مل کر معاشرہ بنتا ہے۔ عمارت کی ہر اینٹ درست ہو گی توعمارت درست ہو گی۔

ہم آج سےفکر کریں، عہد کریں کہ رب کائنات کی طرف سے ملنے والے اس عظیم تحفے کی قدر کریں گے۔ معراج کے اس تحفہ سے یہی ادراک حاصل کریں گے کہ پیارے نبی محمد کو معراج کے سفر پر بلایا گیا، خاطرمدارت کی گئی اور اس کا ایک نمونہ بطور تحفہ نماز کی صورت میں امت مسلمہ کو بھی عطا کیا گیا۔ اسی نماز کے بارے میں، اسی تحفہ کی یاد دہانی کے بارے میں کتب سیرتمیں ہم پڑھتے ہیں کہ حضورآخری وقت میں ’’نماز‘‘ . ’’نماز‘‘ کی تلقین کرتے رہے۔ ﴿سنن أبي داود: 5158﴾ ہمارا کوئی عزیز دنیا سے رخصتی کے وقت جو بول ادا کر رہا ہو ورثاء کے لیے وہ پورا کرنا واجب بلکہ وصیت جان کر فرضِ عین سمجھا جاتا ہے، تو کیا ہمارے محسن جن سے محبت کا دعویٰ کرنے میں ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، اُن کی اس آخری وصیت اور لفظوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں؟ ہرمومن، مومنہ سے حشر میں سب سے پہلے سوال اسی تحفہ کی قدر دانی کے بارے میں کیاجائے گا۔ ﴿سنن أبي داود: 864﴾ وہ وقت ہو گا جب اپنے افکار و اعمال پہ نظر ثانی کی مہلت نہ ملے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے شعور، ادراک، فہم و عقل کو ایمانی نور عطا فرما دے۔ ہمیں ان لوگوںمیں شامل کر دے جو نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تاکہ دنیا و آخرت میں ترقی کی معراج حاصل ہو۔ آمین!

Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Ajaz on 03/06/2012 at 9:05 شام

    Jews are returning these Gifts of God by prophet. First in 1948 then in 1967 and now in 1973.. That place of worship wa divided between Chritians and Jews till Caliph Omar further complicated it by building a mosque over Temple of Solomon. This was based on the story told by prophet that he it was his launching pad to ascend and meet God. Though he never left the city but he made every one believe it. Now those religions are turning and reclaiming their honor and sanctity, it’s hurting Islam and Muslims.

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s