تفویض و رضا


تفویض ورضا:
توکل کا تمام ممکنہ اسباب اور تدبیر مہیّا کرکے اللہ پر بھروسا کرنا تاکہ وہ کامیابی یا مطلوبہ نتائج برآمد کردے ۔لیکن کیا ہمیشہ ہی کامیابی ملتی ہے؟ نہیں ، بلکہ توکل کرنے کے باجود کبھی ناکامی ہوتی ہے اور کبھی کامیابی ۔یہاں سے تفویض شروع ہوتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ اس ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو یا اپنے معاملے کو خدا کو سونپ دینا اور خدا کی قضا (یعنی فیصلے ) پر اعتراض نہ کرنا۔
قرآن میں تفویض کو اس طرح بیان کیا گیا ہے
فَسَتَذْكُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَكُمْ ۭ وَاُفَوِّضُ اَمْرِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ
“تو جو بات میں تم سے کہہ رہا ہوں عنقریب (وہ وقت آئے گا جب) تم (اسے) یاد کرو گے اور میں تو اپنا معاملہ اللہ (ہی) کے سپرد کرتا ہوں، بیشک وہ (اپنے) بندوں کا نگرانِ حال ہے۔”(الغافر ۴۴:۴۰)
تفویض و رضا کی تعریف :
تفویض و رضا کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمام تدبیر اختیار کرنے کے با وجود ناکامی ہو تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردے اور اللہ تعالیٰ کی قضا پر کوئی اعتراض نہ کرے۔
تفویض و رضا کے لوازمات:
۱۔تفویض و رضا کسی معاملے میں ناکامی کے بعد ہوتی ہے ۔ کسی معاملے کی ابتدا میں توکل کیا جاتا ہے۔
۲۔ تفویض و رضا کے لئے لازمی ہے کہ معاملہ کی ناکامی اپنی کسی کوتاہی کی بنا پر نہیں ہوا ہو۔ اگر ایسا ہے تو معاملے کو خوامخواہ خدا کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔
مثال سے وضاحت:
مثال کے طور پر ایک بچے کی طبیعت خراب ہے اسکا باپ اسے ہسپتال لے جاتا ، ڈاکٹر کو دکھاتا اور علاج کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد اسکا بچہ مر جاتا ہے۔ اب اسے خدا کے فیصلے کو تسلیم کرلینا، اس پر راضی ہوجانا اور اپنی خواہش کو خدا کے امر کے تابع کردینا ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اولا د کی موت پر اسے دکھ ہی نہ ہو، ایسا ہونا غیرمعقو ل بات ہے۔ تفویض و رضا کا مفہوم یہ ہے دانستہ طور پر اللہ سے شکایت سے گریز کرنا اور جزا فزااجتناب برتنا۔
تفویض ورضا کی ضرورت:
تفویض و رضا کیوں ضروری ہے ؟ یا ناکامی کی صورت میں خدا کے امر پر کیوں راضی رہا جائے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ خداہی کامل علم رکھتاہے، وہی مطلق حکمت کا مالک ہے،وہی کائنات کی مصلحتیں سمجھتا ہے۔جس طرح ایک قابلِ بھروسہ سرجن کے سامنے ایک مریض خود کو سپرد کردیتا ہے کہ سرجن جو چاہے تصرف کرے، جتنی چاہے تکلیف دے ۔چنانچہ جب دل کے آپریشن کے لئے سرجن پر اعتماد کرلیا تو پھر تکلیف کی زیادتی پر اس طبیب کو برا بھلا کہنا، اس سے جھگڑنااور اسکے طریقہء علاج پر تنقید کرنا ایک حماقت اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اپنا بدن سرجن کے سپرد کردینا بظاہر ایک تکلیف دہ امر لیکن بباطن حیات کی نوید ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کے واقعے میں یہی سبق دیا گیا کہ کشتی کا ٹوٹ جانا اور اولاد کا مر جانا بظاہر ایک واضح نقصان ہے لیکن چونکہ کشتی کو ظالم حکمران کے قبضے میں جانے سے بچانا تھا اس لئے اسے توڑا گیا۔ جبکہ لڑکے کے قتل کا مقصد والدین کو ایک بہتر اولاد دینا اورانکی آخرت کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ لہٰذا اللہ کے ہر امر پر سپردگی و رضا ضروری ہے۔کیونکہ اس کافیصلہ حق ہے، آخری درجے میں درست ہے، تمام پہلوؤں پر نظر رکھ کر کیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ فیصلہ بادشاہِ حقیقی نے کیا ہے اور بادشاہ کے فیصلوں پر کیا، کیوں اور کیسے کرنا مزید تباہی و بربادی کو دعوت دینا ہے۔

پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

One response to this post.

  1. May Allah bless you.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s