مہدی حسن کی محفل


۱۳ جون سن ۲۰۱۲ کو عظیم گلوکار مہدی حسن اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی عمر ۸۵ برس تھی۔ انہیں غزل کی دنیا کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے غزل کے علاوہ بے شمار فلمی گیت بھی گائے جنکی بنا پر وہ ملکی و غیر ملکی سطح پر غیر معمولی شہرت کے حقدار ٹہرے۔
مہدی حسن کا انتقال انسان کی بے بسی، محدودیت اور لاچارگی کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان خواہ مال و دولت، عزت و شہرت یا کسی اور حوالے سے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ، موت کے بے رحم پنجے سے کوئی محفوظ نہیں۔ لیکن موت درحقیقت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ابدی زندگی کے آغاز کی علامت ہے۔ موت کے بعد انسان ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جس کا انجام ابدی اور کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کے طور پر پیدا کیا۔ البتہ اسکی ابدی زندگی کا ایک بہت معمولی سا حصہ اس دنیا ئے فانی میں رکھ دیا۔ اس دنیا کی زندگی انسان کی ابدی حیات کا دیباچہ ہے۔ یہ پہلا اسٹیج دراصل آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں یہ طے ہونا ہے کہ انسان اچھا ہے یا برا۔ اگر کوئی انسان خدا کے معیار کے مطابق خود کو اچھا ثابت کردے تو اس کے لئے ابدی جنت کے باغات اور نعمتیں ہیں۔ دوسری جانب اگر وہ خدائی معیار کے مطابق برا ثابت ہوجائے تو اس کے لئے ابدی جہنم کے گڑھے۔
دنیا کی یہ زندگی آخرت کی ابدی حیات کے مقابلے میں انتہائی قلیل لیکن رسک اور نتائج کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ آج کی زندگی میں کیا گیا ہر عمل کل آخرت میں ابدی اور کبھی نہ ختم ہونے والے نتائج کو جنم دے گا۔ اگر آج کسی نے ایک روپیہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کیا تو اس کا اچھا پھل پائے گا ۔ اسی طرح کسی نے ذرہ برابر بھی ظلم و زیادتی کی تو وہ اس کا انجام دیکھ لے گا۔ آج کی زندگی میں یہ اہم نہیں کہ کسی فرد نے کتنا مال کمایا، کتنی جائداد بنائی، کتنی شہرت پائی اور کتنی تعلیم حاصل کی۔ اس کے برعکس اہم یہ ہے کہ کسی نے آخرت کے لئے کیا بھیجا، آخرت کے لئے کتنی کمائی کی، آخرت کے لئے کتنی انویسٹمنٹ کی۔
آج مہدی حسن ہم میں نہیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے فنا ہوگئے۔وہ آج ایک دوسری محفل میں موجود ہیں ۔ اس محفل کے سر اور ساز دنیا کی محفل سے جدا ہیں۔ وہاں کے اپنے قوانین اور ضابطے ہیں۔
مہدی حسن تو اس ابدی محفل میں پہنچ چکے اب ہماری باری ہے۔آج ہم لوگ موت کو بھلا کر اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ہمارے سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ جب دوسری دنیا کے آثار نظر آنے لگیں گے تو نادانوں کو پچھتاوا ہوگا کہ کاش وہ آخرت کے لئے کچھ کما لیتے۔ لیکن اس دن کا پچھتانا کوئی پچھتانا نہیں۔ اگر تیاری کرنی ہے تو موت سے قبل کیجئے کیونکہ موت کے بعد یہ موقع ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا ۔
از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

4 responses to this post.

  1. مہدی حسن پاکستان کی پہچان تھا ۔ اس کی موت سے دنیائے موسیقی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔

    جواب دیں

  2. May Allah bless you sir. May we all remember the death n make our deeds according to directions of Allah Almighty. Ameen.

    جواب دیں

  3. Posted by Ajaz on 14/06/2012 at 4:01 صبح

    Great singer. Unfortunately, before he died he could see Islam visibly wiping out all forms of art from Pakistan. That devil of religion is crown of every Pakistan head.

    جواب دیں

  4. Posted by Iftikhar Bashir on 14/06/2012 at 2:00 صبح

    inna lillahi wa inna ilaihi rajioon

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s