اے میرے رب!


اے مرے رب! ایک وہ دن تھا کہ جب مجھے یقین تھاکہ آپ کی عظمتوں کی کوئی انتہا نہیں، آپ کی عنایتیں بے شمار ہیں، آپ کی رحمتیں سارے عالم پر محیط ہیں، آپ کا لطف و کرم سارے عالم کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ لیکن آج نہ جانے کیوں اس یقین کی چٹان میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ اب یوں لگتا ہے کہ آپ کی رحمتیں مجھ سے روٹھ گئی ہیں، آپ کی عنایتیں دور ہوچلیں، آپ کی بخششیں اب کبھی نہ برسیں گی ۔
وہ ًبھی کیا دن تھے کہ راتوں کو آپ سے باتیں ہوا کرتیں اور دن میں آپ کی آیات کا دیدار۔ لیکن اب نہ وہ شب تنہائی ہے اور نہ وہ روز روشن کے مناظر۔ ًوہ کیفیتوں کی عجب شراب تھی جس کے خمار میں آپ کی غلامی نبھانے میں کوئی مشکل نہ تھی ۔ آپ کے ہر حکم کی تعمیل میں سر تسلیم خم تھا۔ مگر آج یہ کم بخت نفس ہے کہ اطاعت کے اس بندھن کو توڑنے کے درپے ہے۔
آہ وہ توکّل کے لمحات جب تندو تیز آندھی میں بھی امیدوں کے دئیے روشن کئے جاتے،ہر ہوا کے جھونکے پر ایمان تازہ ہوتا اور ہر بجھتے چراغ کو یقین کے تیل سے سہارا دیا جاتا تھا۔ پرآج اسباب و علل کے چکّر نے یہ سہارا چھین لیا ۔ اب یوں لگتا ہے کہ یہ دنیا میں کوئی آسرا نہ بچا کیونکہ آپ کا سہارا اٹھ گیا۔
اے مرے رب ! میں کیا بتاؤں کہ کیا کچھ مجھ سے چھن چکا ہے ۔اب وہ تفویض موجود نہیں جس کے سہارے میں بڑے سے بڑا غم ہنس کے جھیلا کرتا ۔ اب وہ رضا نہیں جس کے آسرے پر دنیا کی تکالیف کو جوتے کی نوک پر رکھتا تھا۔ اب وہ عرفان نہیں جس کی بنا پر دنیا کو معرفت کا درس دیتا۔ اب وہ احسان نہیں جس کی بنا پر عبادتوں کا لطف اٹھاتا تھا۔
میں اس وقت لق و دق صحرا میں حیران و پریشان کھڑا ہوں۔ میرا حلق گناہوں کی بنا پر سے چٹخ رہا ہے،لہو معصیت کے سبب خشک ہوچلا، آنکھیں ندامت کی بنا پر بصارت کھو بیٹھیں،قدم پشیمانی کے بوجھ تلے اٹھنے سے معذور ہوگئے اور زباں نے نفرت کے سبب ساتھ دینا چھوڑ دیا۔عجب حالت ہے ، کہاں جاؤں؟ کس سے فریاد کروں؟ کس کے آگے ماتھا ٹیکوں؟ کہ جو سننے والا تھا وہ روٹھ گیا، جو سینے سے لگاتا تھا وہ پرے ہوگیا ، جو آنسو پونچھتا تھا اس نے پیٹھ پھیر لی ۔
لیکن پھر دل نے کہا کہ کہیں یہ شیطان کی وسوسہ انگیزی تو نہیں۔میں نےتو سنا تھا کہ رب کبھی اپنے بندوں کو نہیں چھوڑتا، وہ کبھی کسی کی پکار پر کان بند نہیں کرتا، وہ کبھی اپنے غلاموں کو صحرا میں بھٹکنے کے لئے نہیں چھوڑتا۔ وہ تو اپنے بندوں کی رگ جاں سے زیادہ قریب ہے، وہ انہیں گرنے پر اٹھا تا، معصیت پر مغفرت دیتا، پکار پر جواب دیتا، اعراض پر پاس بلاتا، بھٹکنے پر راستہ دکھاتا ، تاریکیوں میں نور کی کرن بنتا اورپیاسوں کو پانی پلاتا ہے۔
پس اس خیال کا آنا تھا کہ اپنی بدگمانیوں پر افسوس ہونے لگا۔جونہی آسمان کی جانب امید سے دیکھا تو رحمتیں پھر سے برسنے لگیں، نعمتیں پھرنظر آنے لگیں، وہ توکّل پھر سے مل گیا، وہ تفویض و رضا کے درس دوبارہ یاد آنے لگے، پھر اسی معرفت کہ راہ گذر پر قدم اٹھنے لگےاور پھر زباں پر یہ دعا جاری ہوگئی۔
” اے اللہ تعریف تیرے ہی لئے ہے کیونکہ تو نو ر ہے آسمانوں کا، زمین کا اور انکے درمیان کی چیزوں کا۔تعریف تیرے ہی لئے ہے کیونکہ تو قائم کرنے والا ہے آسمانوں کا، زمین کا اور انکے درمیان کی چیزوں کا۔ تعریف تیرے ہی لئے ہے کیونکہ تیرے ہی لئے بادشاہت ہے آسمانوں کی، زمین کی اور انکے درمیان کی چیزوں کی۔ تعریف تیرے ہی لئے ہے کیونکہ تو بادشاہ ہےآسمانوں کا، زمین کا اور تعریف تیرے ہی لئے ہے۔ تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیرا قول حق ہے،تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، آگ حق ہے،انبیاء حق ہیں، محمدﷺ حق ہیں، اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ میں تیرے ہی تابع ہوا اور تجھی پر توکل کیا، تجھی پر ایمان لایا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیری مدد ہی سے مقابلہ کیا، تیری ہی طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو مجھے معاف کردے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے چھپ کر کیا اور جو سرعام کیا ، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں”۔
از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com
aqilkhans@gmail.com

Advertisements

6 responses to this post.

  1. Posted by Rabia on 22/01/2014 at 8:30 صبح

    Buhat Aalaa..

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s