لیڈر اور ان کے وفادار


17جون 2012بروزاتوارپیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما فوزیہ وہاب کا انتقا ل ہوگیا۔ 56سالہ فوزیہ وہاب صاحبہ کچھ عرصہ قبل تک بالکل صحت مند تھیں ۔لوگ ٹی وی پرانہیں پراعتماد طریقے سے اپنی پارٹی کے ہر طرح اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ تین ہفتے قبل انہیں پتے کے آپریشن کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا، مگر زیادہ خون بہہ جانے کی بنا پر ان کی طبعیت بگڑ گئی۔ آخر کار 17جون کو ان کا انتقال ہوگیا۔
لوگ اس دنیا سے روزنہ رخصت ہوتے ہیں، اس لیے یہ کوئی ایسا بات نہیں جس پر کوئی مضمون باندھا جائے۔ تاہم فوزیہ وہاب صاحبہ کا اچانک انتقال پاکستان کے معروضی حالات میں ایک خدائی پیغام ہے۔ پاکستان کی حکمران کلاس اپنے عمل سے یہ بتارہی ہے کہ ایسے اس حقیقت کا کوئی اندیشہ نہیں کہ وہ ایک روز خدا کے حضور پیش ہوں گے۔ظلم، بددیانتی، جھوٹ، فریب ، سازش،ہوس زر جیسی چیزوں میں میں ہماری سیاسی کلاس کی صبح و شام گزرتی ہے۔ عوام کی حالت دگرگوں ہوتی چلی جائے، زندگی گزارنا ان کے لیے مشکل تر ہوتا چلا جائے، یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔
دوسری طرف ان لیڈروں کے وفادار صبح و شام اپنے لیڈروں کی پاکدامنی کے قصیدے پڑھتے اور ان کے ہر جائز و ناجائز اقدام کا دفاع کرتے ہیں۔مگر لیڈر اور ان کے وفادار یہ بھول رہے ہیں کہ موت کابے رحم شکنجہ تیزی سے ان کی طرف بڑ ھ رہا ہے۔قبر اندھیری کوٹھری کا دروازہ ان پر کھل رہا ہے۔ عقریب ان کا سامنا عالم کے پروردگار سے ہوگا۔وہاں نہ عہدہ و منصب کام آئے گا نہ زر وجواہر۔ کام آئے گاتو صرف ایمان و اخلاق کا خزانہ کام آئے گا اور خدا کی ذات سے وفاداری کام آئے گی۔
مگر کیا کیجیے ہماری حکمران کلاس اور اس کے وفاداروں کے پاس سب کچھ ہے، صرف یہیں چیزیں نہیں ہیں۔ کاش فوزیہ وہاب کی اچانک روانگی میں یہ لوگ موت کی یہ دستک سن سکیں۔
By Rehan Ahmed Yousfi

Advertisements

2 responses to this post.

  1. جاگیرداری کی نفسیات میں دو باتیں اہم ہیں ایک یہ کہ جب دو فریقوں میں جھگڑا ہو تو جاگیردار یہ نہیں دیکھتا کہ غلطی کس کی ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس نے کس کی حمایت کرنی ہے۔ اگر اس نے اس فریق کی حمایت کا فیصلہ کر لیا جو غلطی پر ہے تو کوئی دلیل اسے اس فیصلے سے نہیں ہٹا سکتی دوسری یہ کہ جیسے ہی ہوا کا رخ تبدیل ہوتا ہے‘ جاگیردار بھی اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ رنجیت سنگھ کا دور آیا تو جاگیردار اس کے ہم رکاب ہو گئے۔ پھر برطانوی حکمران آئے تو انہیں وفاداریاں بدلنے میں دیر نہ لگی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پاکستان کا قیام ناگزیر ہے تو تقسیم سے پہلے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر ری پبلکن پارٹی میں چلے گئے۔ ایوب خان بادشاہ بنا تو اس کی بنائی ہوئی کونسل لیگ میں جوق در جوق گئے۔ جنرل مشرف نے قاف لیگ کا ڈول ڈالا تو لغاری تھے یا جمالی‘ سب کوچہ رقیب میں سر کے بل گئے!

    جواب دیں

  2. جاگیرداری کی نفسیات میں دو باتیں اہم ہیں ایک یہ کہ جب دو فریقوں میں جھگڑا ہو تو جاگیردار یہ نہیں دیکھتا کہ غلطی کس کی ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس نے کس کی حمایت کرنی ہے۔ اگر اس نے اس فریق کی حمایت کا فیصلہ کر لیا جو غلطی پر ہے تو کوئی دلیل اسے اس فیصلے سے نہیں ہٹا سکتی دوسری یہ کہ جیسے ہی ہوا کا رخ تبدیل ہوتا ہے‘ جاگیردار بھی اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ رنجیت سنگھ کا دور آیا تو جاگیردار اس کے ہم رکاب ہو گئے۔ پھر برطانوی حکمران آئے تو انہیں وفاداریاں بدلنے میں دیر نہ لگی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پاکستان کا قیام ناگزیر ہے تو تقسیم سے پہلے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ پھر ری پبلکن پارٹی میں چلے گئے۔ ایوب خان بادشاہ بنا تو اس کی بنائی ہوئی کونسل لیگ میں جوق در جوق گئے۔ جنرل مشرف نے قاف لیگ کا ڈول ڈالا تو لغاری تھے یا جمالی‘ سب کوچہ رقیب میں سر کے بل گئے!

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s