ارتقا اور خارجی رہنمائی


فکر جدید کا المیہ
پچھلی کئی صدیوں سے دنیا پر اقوام مغرب دنیا میں امامت اور غلبے کے مقام پر فائز ہیں ۔ مغرب کے اس عروج کاآغازاس علمی و فکری انقلاب سے ہوا تھا جسے احیائے علوم (Renaissance)اور روشن خیالی (Enlightenment)کی تحریکوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ان تحریکوں کے جہاں اور بہت سے اثرات ہوئے وہیں ایک نتیجہ یہ نکلا کہ خدا فکر انسانی کا مرکزی خیال نہیں رہا۔اس سے آگے بڑ ھ کر آنے والے زمانے میں وجود باری تعالیٰ ہی کا انکار کر دیا گیا۔ انکار خدا کی یہ فکر اہل علم و دانش کی حد تک آج بھی ایک مسلمہ فکر کے طور پر مانی جاتی ہے ۔
انکار خدا کی اس فکر کو علمی اساس ڈارون(1809 -1882) Charles Robert Darwinکے نظریہ ارتقا (Theory of Evolution)نے مہیا کی تھی۔اس انیسویں صدی کے آخر میں اپنی مشہور کتاب Origin of Speciesمیں یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ زندگی کا وجود اور بقا کی ایک ممکنہ سائنسی توجیہ یہ ہے کہ حیات کا آغاز بہت ابتدائی اور سادہ سطح سے ہوا اور بتدریج ارتقائی عمل سے گذر کر زندگی کی زیادہ پیچیدہ اقسام اور انسان جیسی مخلوق تک آن پہنچا ہو۔

ڈارون کے بعد بیسویں صدی کی جدید سائنسی ترقی نے بہت سے ایسے سوالات اٹھادیے ہیں جنہوں نے ارتقا کے نظریے کی بنیاد ہلا کر رکھ دی ہے ۔مگر بدقسمتی سے جدید دنیا اور اہل علم و دانش ارتقا کو رد کر کے خدا کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نظریہ ارتقا کو رد کرنے کے بعد انسانی وجود کی توجیہ کے طور پر اگر وہ خدا کو مانیں گے تو پھر متبادل کے طور پر ان کے سامنے وہی روایتی مذاہب باقی رہ جاتے ہیں جن کو وہ پہلے ہی رد کر چکے ہیں ۔انسانی تاریخ اور فکر انسانی عرصہ پہلے ہندو مت کی بت پرستی، مسیحیت کی انسان پرستی اور یہودیت کی نسل پرستی کو مسترد کر چکی ہے اسے درست تسلیم کرنا پڑ جائے گا۔ظاہر ہے کہ مذہب کی یہ تعبیرات کوئی معقول انسان قبول نہیں کرسکتا۔ چاہے اس کے لیے انہیں ارتقا جیسے غیر معقول نظریے کو قبول کرنا پڑ ے ۔

فکر جدید کا یہ عجیب المیہ ہے اور اس پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس المیے کو جنم دینے میں مسلمانوں کا بہت بڑ ا کردار ہے ، جن کے پاس قرآن مجید کی شکل میں وہ آخری الہامی سچائی ہے جو ہر قسم کے انسانی انحرافات سے محفوظ ہے ۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔وہ اللہ اور انسانیت کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنے والی ’’امت وسط ‘‘کے بجائے ایک قوم کا کردار پسند کر چکے ہیں اور قومی مفاد ، خواہشات اور تعصبات سے بلند ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

نظریہ ارتقا کے حامیوں کی کمزوری
خیر سردست یہ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ہمارا اصل موضوع نظریہ ارتقا اور اس کے حامیوں کے انداز فکر کی بنیادی کمزوری کو سامنے لانا ہے ۔ہمارے نزدیک موجودہ دور میں ارتقا کے نظریے کے حامیوں کے انداز فکر کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اسے حقائق تک پہنچے کا ایک ذریعہ سمجھنے کے بجائے انہوں نے اسے ایک عقیدہ (dogma) بنادیا ہے ۔اس کے ماننے والے تمام سائنسی حقائق کو نظر انداز کر کے اسے خدا کے عقیدے کو نہ ماننے کے لیے ایک متبادل عقیدے کے طور پر اختیار کرتے ہیں ۔اس ’’عقیدے ‘‘ کے خلاف جتنی بڑ ی حقیقت بھی سامنے آجائے اس کے ’’پیروکار‘‘ اپنے کٹر پن میں انتہائی بے معنی گفتگو کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی رک کر یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ معترض نے کس طرح ان کے اس ’’عقیدے ‘‘ کے قدموں تلے سے سائنس کی زمین کھینچ لی ہے ۔

Evolution with Direction
نظریہ ارتقا کے دو پہلو ہیں ۔ ایک وہ ارتقا جو معلوم مشاہدات پر مبنی ہے ۔ دوسرا وہ جو محض ظن و تخمین اور اندازوں پر مشتمل ہے ۔پہلی قسم کا ارتقا تو کائنات کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔ یہ کائنات کا ایک مسلمہ قانون ہے جس سے کسی شے کو استثنا حاصل نہیں ۔ زمین کا ایک گیس کے ایک گرم گولے سے لے کر جنت ارضی میں تبدیل ہونے کا عمل ہو یا پھر انسان کا شکم مادر میں ایک قطرہ آب سے ایک مکمل انسان بننے کا معاملہ ہو، ہر تخلیقی عمل ارتقا کی منازل طے کر کے ہی اپنی منزل مقصود تک پہنچتا ہے ۔ خاص کر بچے کا ایک ابتدائی خلیے (Zygote)سے مکمل انسان بننے کا معاملہ تو ایک روزمرہ کا مشاہدہ ہے ۔ہر شخص جانتا ہے کہ اس کا وجود اس دنیا میں ایک دن اور ایک لمحے میں نہیں آیا بلکہ درجہ بدرجہ شکم مارد میں مختلف مراحل طے کر کے انسان اس دنیا میں آتا ہے ۔

ارتقا کی یہ قسم جو مشاہدے پر مبنی ہے ، اس میں ایک حقیقت بالکل نمایاں ہے ۔ وہ یہ کہ یہ ارتقا ایک خاص سمت میں ہوتا ہے ۔ اس کی منزل متعین ہوتی ہے ۔ اس منزل کی سمت بڑ ھنے کا ہر مرحلہ اور ہر موڑ طے ہوتا ہے ۔اس منزل کا پورا نقشہ Genomeمیں موجود ہوتا ہے ۔ جینوم DNAکا مجموعہ ہوتا ہے جو زندگی کے ہر پہلو سے متعلق مکمل معلومات اور ہدایات کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو زندہ جسم کے ہر ہر خلیہ کے مرکز میں موجود ہوتا ہے ۔یہ گویا کہ ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جو طے کرتا ہے کہ کس مرحلے پر کیا ہو گا۔

عظیم معجزہ
انسانوں میں یہ جینوم تین ارب DNAکے جوڑ وں پر مشتمل ہوتا ہے ۔یہ جینوم کوئی الل ٹپ تحریر نہیں بلکہ ایک مکمل منصوبہ اور مرطوب نقشہ ہوتا ہے جو انتہائی بامعنی انداز میں کام کر کے ایک انتہائی با معنی مخلوق یعنی انسان کو جنم دیتا ہے ۔ ماں کے پیٹ میں ایک خلیے (Zygote)سے سفر شروع کرنے والا ایک وجود جب مکمل بچے کی شکل میں جنم لیتا ہے تو وہ 5کھرب خلیوں ہی میں تبدیل نہیں ہو چکا ہوتا بلکہ سر، دل، دماغ، ہاتھ پاؤں غرض ہر ممکنہ ضروری چیز لے کر اس دنیا میں آتا ہے ۔ مگر ایک خلیے سے پانچ کھرب خلیوں کا یہ سفر جینوم کی ہدایات کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ یہ بظاہر ارتقا ہے ، لیکن اس کے پس منظر میں ایک منصوبہ ساز ہستی کا مکمل منصوبہ موجود ہوتا ہے جو تخلیقی عمل کے ہر موڑ پر اس ارتقا کو درست سمت دے رہا ہوتا ہے ۔

رہنمائی کا یہ عمل اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے جس کوہم اپنی آنکھوں سے روزمرہ میں دیکھتے ہیں ۔ یہ رہنمائی بیک وقت ایک سے زیادہ جگہ ہورہی ہوتی جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی خارجی قوت جو ہر چیز کا مکمل شعور رکھتی ہو، اس پورے معاملے کو کنٹرول کر رہی ہو۔مثلاًپیدا ہونے والا بچہ اس قابل نہیں ہوتا کہ فوری طور پر وہ عام انسانی غذا لے سکے ۔ چنانچہ معجزانہ طور پر اس کی پیدا کرنے والی ماں کا اپنا وجود اس کی خوراک کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ ماں کے وجود سے نہ صر ف یہ کہ اسے دودھ کی خوراک ملتی ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر یہ خوراک اس بچے کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے اور آج کے دن تک ماں کے دودھ سے بہتر خوراک نہیں دریافت کی جا سکی۔

یہ صرف ایک مثال ہے ، وگرنہ یہ کائنات اور اس کے تمام اجزا اس چھوٹے سے بچے اور دیگر تمام اقسام کی حیات برقرار رکھنے کے لیے انتہا سے زیادہ باہم موافق ہیں ۔مثلاً زمین کا سورج سے فاصلہ جو ایک خاص درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہے ، فضا میں گیسوں کا ایک خاص تناسب ، زمین پر پانی کی موجودگی اور ان جیسی لاکھوں چیزیں جو بلا واسطہ اور بالواسطہ زندگی کی بقا کے لیے لازمی ہیں ۔ ان سب کی ایک جگہ پر موجودگی یہ واضح کرتی ہے یہ یہ بخت و اتفاق کی کارفرمائی نہیں بلکہ ایک باشعور ہستی کی قدرت اور ارادے کا نتیجہ ہے ۔

ارتقا بطور ایک عقیدہ اور خدا کا بدل سمجھنے والے نادان یہ کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں یہ سب کچھ اتفاق سے پیدا ہو گیا۔کائنات میں زمین جیسے حیات دوست سیارے سے لے کر جینوم اور ڈی این اے جیسی پیچیدہ چیزیں مخلوقات میں خودبخودپیدا ہوگئی ہیں ۔ مگر یہاں بھی خود سائنس ہی بتادیتی ہے کہ یہ خیال است و محال است و جنوں ۔اس حقیقت کو جاننے کے لیے ہم صرف انسانی جنیوم کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں ۔جیسا اوپر بیان ہوا ہے کہ انسانوں میں یہ جینوم تین ارب DNAکے جوڑ وں پر مشتمل ہوتا ہے ۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ایک انسان اگر 50برس روزانہ بلاناغہ 8گھنٹے مسلسل60الفاظ کی منٹ کی رفتار سے ٹائپنگ کرتا رہے تب کہیں جا کر ایک انسانی جینوم تحریر کیا جا سکے گا۔اس مثال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کس درجہ کی تفصیلات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔یہاں یہ خیال رہے کہ دنیا میں بامعنی حیات کا معاملہ ہو، انسانی ہاتھوں سے لکھی ہوئی کوئی تحریر ہویا پھر انسانی جنیوم ہوہر چیز میں معنویت اور زندگی صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص طریقے سے مرتب ہو۔اب آئیے اور ایک مثال کے ذریعے سے یہ سمجھیے کہ اس بات کے کتنے امکانات ہیں کہ اس جیسی کوئی بامعنی اور مفصل تحریر محض اتفاق سے لکھی جا سکتی ہے ۔

ریاضیاتی ثبوت
ریاضی کا ایک ابتدائی طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ Permutationکے ذریعے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ایک مجموعے کے اجزا کو کتنے ممکنہ طریقوں سے مرتب کیا جا سکتا ہے ۔مثلاً انگریزی زبان میں 26حروف ہوتے ہیں ۔ انگریزی میں لکھا گیا کوئی بھی لفظ انہیں سے مرتب کیا جاتا ہے ۔Permutationکے فارمولے کی وضاحت کے بجائے میں فارمولے سے نکلنے والے نتائج سے بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔انگریزی حروف تہجی کے 26اجزا میں سے اگر ایک حرف پر مشتمل لفظ لکھنا ہے تو اس کے 26ممکنہ طریقے ہیں ۔ دو حرفی لفظ کے لیے 650، تین کے لیے 15600، چار کے لیے 358800 اورپانچ حرفی لفظ کے لیے 7893600ممکنہ طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ Allahکا پانچ حرفی لفظ اگر میں یا آپ لکھیں گے تو ایک سیکنڈ اور ایک ہی کوشش میں لکھ ڈالیں گے ۔ مگر یہ کام اگر بخت و اتفاق کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جائے تو پھر 78لاکھ93ہزار6سو الفاظ لکھنے کے بعد ہی اس بات کا یقین کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ایک لفظ Allahہو گا۔

یہ صرف ایک لفظ کا معاملہ ہے ۔ اب سوچیے کہ تین ارب بامعنی ہدایات جو ایک خاص طریقے پر مرتب ہوں ان کو اس ترتیب شدہ شکل میں لانے کے لیے اتنا وقت چاہیے کہ کھربوں برس کو کھربوں سے ضرب دے کر بھی کوئی لفظ اس وقت کو بیان نہیں کرسکتا۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کوئی ابدی نہیں کہ وقت کی لامحدود مدت میں مادہ اس قسم کے تجربات کر کے بخت و اتفاق کے بطن سے بامعنی جینوم کو جنم دے دے ۔ معلوم ہے کہ اس دھرتی کی عمر چار ارب سال سے زائد نہیں ۔ سائنسی طور پر یہ ممکن ہی نہیں کہ چار ارب سال میں یہ اتفاق ہو سکے ۔

یہ سب کچھ صرف اس وقت وجود میں آ سکتا ہے جب کوئی بلند تر ہستی تخلیق کے عمل سے خارجی رہنمائی کر کے ہر چیز کا آغاز کرے اوردرجہ بدرجہ اسے اپنے کمال تک پہنچائے ۔اس دنیا میں زندگی سادہ شکل سے شروع ہوکر ایک انتہائی پیچیدہ شکل تک جس راستے پر چل کر پہنچتی ہے وہاں ہزاروں موڑ ایسے آتے ہیں جس میں سے ہر موڑ تخلیق کو اپنی منزل اور موجودہ شکل سے بہت دور کرسکتا تھا۔ مگر ہر جگہ فطرت درست موڑ لیتی ہے ۔اور آخر کار وہی چیز وجود میں آتی ہے جو انتہائی بامعنی بھی ہے اور اپنے اردگرد کی کائنات کے لیے مفید بھی۔اس دنیا کی ہر چیز اس قدر پیچیدہ اور حیران کن ہے کہ یا تو انسان اسے کسی برتر خالق کے ارادے کا اظہار مان لے ۔ وگرنہ دوسری شکل صرف یہی ہے کہ انسان اللہ یا خدا کا نام لینے کے بجائے نیچر اور فطرت کا نام لے کر ان کے ذمے وہ سارے کام ڈال دے جو اللہ تعالیٰ کر رہے ہیں ۔

ظاہر ہے اس بے وقوفی پر کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے ۔ کوئی معقول آدمی ایک لمحے کو یہ بات نہیں مان سکتا اس قدر پیچیدہ مگر بامعنی اور باشعور زندگی اور اس زندگی کو برقرار رکھنے کے ایسے غیر معمولی انتظامات اندھے بہرے مادے اور بے مقصد بخت و اتفاق کے ملاپ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر مخلوق زبان حال سے یہ شہادت دے رہی ہے کہ اس کا ایک خالق ہے ۔وہ ہر گز کسی اتفاق کا نہیں بلکہ ہر اعتبار سے ایک ارادے کا نتیجہ ہے ۔سائنس نے اس کائنات کے عجائب کو جتنا واضح کیا ہے ، اس کے بعد خدا کو ماننا اتنا ہی ضرور ہوجاتا ہے ۔ اصل بدقسمتی یہ ہے کہ خدا کو ماننے کے بعد اس کے نام پر جو مذاہب سامنے آتے ہیں وہ بھی کم نامعقول نہیں ۔ ایسے میں صر ف دین اسلام ہے جس کی فطری اور متوازن تعلیمات ہر دور کے انسان کے لیے یکساں طور پر قابل قبول ہیں ۔
By Rehan Ahmed Yousufi

Advertisements

One response to this post.

  1. May Allah bless you. I don’t understand as to why people don’t read Quran n get their thoughts clear besides the Quran also makes ones life better in this world n real success in the Hereafter.

    جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s